لاہور ہائی کورٹ کا بڑا فیصلہ ،ووٹوں کی دوبارہ گنتی سے ن لیگ کو ملنے والی پنجاب اسمبلی کی نشست چھن گئی

جسٹس شاہد کریم نے ن لیگی ایم پی اے کی کامیابی کا نوٹیفکیشن کالعدم قرار دے دیا ، نشست تحریک انصاف کے امیدوار کو واپس مل گئی
قبل ازیں بھی لاہور ہائی کورٹ مسلم لیگ ن کو الیکشن کمیشن کی جانب سے ووٹ ری کاونٹ میں دی گئی 2 قومی اسمبلی کی نشستوں سیمحروم کر چکی ہے
یہ وہی جسٹس شاہد کریم ہیں جنہوں نے الیکٹرک بائیک نوجوانوں کو دینے پر ون ویلنگ اور لڑکیوں کے کالجز کے سامنے جانے کے ریمارکس دئیے تھے

لاہور: لاہور ہائی کورٹ کا بڑا فیصلہ ووٹوں کی دوبارہ گنتی سے ن لیگ کو ملنے والی پنجاب اسمبلی کی نشست دوبارہ پی ٹی آئی کو مل گئی ن لیگی ایم پی اے کی کامیابی کا نوٹیفکیشن کالعدم قرار دے دیا گیا ۔ عدالت کے اس فیصلے سے پنجاب میں مسلم لیگ ن کو ایک اور بڑا سیاسی دھچکا پہنچا ہے اور ووٹوں کی دوبارہ گنتی سے ہاتھ آنے والی پنجاب اسمبلی کی نشست دوبارہ سے ن لیگ کے ہاتھ سے نکل گئی۔
لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شاہد کریم نے پی پی 133 ننکانہ صاحب میں ن لیگ کے امیدوار رانا ارشد کو الیکشن کمیشن کی جانب سے کامیاب قرار دیے جانے کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔ 8 فروری کو
ہونیوالے الیکشن کے ابتدائی نتیجے میں پاکستان تحریک انصاف کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار نے پی پی 133 میں فتح حاصل کی تھی۔تاہم بعد ازاں الیکشن کمیشن نے ووٹ ری کاونٹ کا حکم دے کر ن لیگ کے امیدوار رانا ارشد کی کامیابی کا نوٹی فکیشن جاری کر دیا تھا۔
پیر کو لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شاہد کریم نے آزاد امیدوار محمد عاطف کی درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے ن لیگی امیدوار کی فتح کالعدم قرار دے دی۔ عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن ، الیکشن ایکٹ کی سیکشن 95 کی شق 6 کا استعمال نہیں کرسکتا، ریٹرننگ افسر دوبارہ ووٹوں کی گنتی سے انکار کرچکا تھا اور فارم 47 جاری کرکے فارم 49 کے لیے سفارشات بھیج چکا تھا، لہذا اس موقع پر الیکشن کمیشن، الیکشن کی سیکشن 95 کی شق 6 کا استعمال نہیں کرسکتا۔
عدالت نے الیکشن کمیشن کی جانب سے 9 اپریل کو جاری کیا گیا ن لیگی امیدوار رانا ارشد کی فتح کا نوٹیفکیشن کالعدم قرار دے کر آزاد امیدوار محمد عاطف کو پی پی 133 کی نشست پر فاتح قرار دے دیا۔ واضح رہے کہ اس سے قبل بھی مسلم لیگ ن الیکشن کمیشن کی جانب سے ووٹ ری کاونٹ میں دی گئی 2 قومی اسمبلی کی نشستوں سے ہاتھ دھو چکی۔ لاہور ہائیکورٹ نے الیکشن کمیشن کی جانب سے این اے 81 گوجرانوالہ اور این اے 154 لودھراں میں ری کاونٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے ان نشستوں پر تحریک انصاف کے حمایت یافتہ امیدواروں کو فاتح قرار دے دیا تھا۔
مذکورہ دونوں نشستوں پر بھی 8 فروری کے نتائج میں تحریک انصاف نے حمایت یافتہ امیدوار فاتح رہے تھے۔ بعد ازاں الیکشن کمیشن کی جانب سے ان نشستوں پر ری کاونٹ کا حکم دیا گیا، ری کاونٹ کے دوران تحریک انصاف کے امیدواروں کے ہزاروں ووٹ مسترد کیے گئے اور 8 فروری کے نتائج میں شکست کھا جانے والے ن لیگ کے امیداروں کو فاتح قرار دے دیا گیا تھا۔
یاد رہے کہ جسٹس شاہد کریم لاہور ہائی کورٹ کے وہی جسٹس ہیں جنہوں نے الیکٹرک بائیک نوجوانوں کو دینے پر ون ویلنگ اور لڑکیوں کے کالجز کے سامنے جانے کے ریمارکس دیتے ہوئے یہ عمل روک دینے کے احکامات دئیے تھے۔

About Rizwan Malik

Scroll To Top