نئی دہلی بھارت میں سماجی کارکنوں نے بھارتی حکومت پر زوردیا ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کے ساتھ ساتھ علاقے میں میں موبائل اور انٹرنیٹ سروسز بحال کرے، وادی کشمیر میں لوگوں کی نقل وحرکت پر پابندیاں ہٹادے اور علاقے میں امن وامان کی بحالی کے لیے اقدامات کرے۔کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق سماجی کارکن شبنم ہاشمی نے نئی دہلی کے پریس کلب میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ مقبوضہ کشمیر کو خصوصی حیثیت دینے والی دفعہ 370کی منسوخی بی جے پی حکومت کا عقل سے عاری اقدام ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارتی حکومت نے پہلے کہاکہ ڈیمونیٹائزیشن سے دہشت گردی ختم ہوگی، اسکے بعدسرجیکل سٹرائیک کرکے کہا کہ دہشت گردی ختم ہوگئی۔
26فروری کو بالاکوٹ پر حملہ کرکے 600دہشت گردوں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا۔ اب انہوں نے اخبارات میں اشتہارات دیے کہ وادی میں دہشت گردوں کے خوف سے دکانیں اور سکول بند ہیں۔ شبنم ہاشمی نے کہاکہ اگربھارتی حکومت نے تمام دہشت گردوں کو ہلاک کردیا ہے تو وہ کس کے بارے میں باتیں کرتے ہیں۔
دہلی کی صحافی اور مصنفہ رویتا لال نے کہاکہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ کشمیریوں کے صدمے کی سب سے بڑی وجہ ہے۔انہوں نے کہاکہ جموں کے لوگوں کا کاروبار ختم ہوچکا ہے کیونکہ ان کا کاروبارکشمیرپر انحصارکرتا ہے اور انہیں یہ کہنے پر مجبورکیا جارہا ہے کہ وہ بھارتی حکومت کے اقدامات کو پسند کرتے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ کشمیر کے مقابلے میں جموں کے لوگوں نے ہم سے بات کرنے سے انکارکیا۔ سماجی کاکنوں نے بھارتی حکومت پر زوردیا کہ وہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کے ساتھ ساتھ موبائل اورانٹرنیٹ سروسز بحال کرے اوروادی کشمیرمیں لوگوں کی نقل وحرکت پر پابندیاں ختم کرے۔



