علی ظفر پر جنسی ہراسانی کے الزامات لگانے والی دیگر خواتین خوف کی وجہ سے سامنے نہیں آئیں‘عفت عمر نے راز سے پردہ اٹھا دیا گواہی بھی دے ڈالی

اداکارہ و ماڈل عفت عمر نے گلوکارعلی ظفر کی جانب سے میشا شفیع کے خلاف دائر کیے گئے ایک ارب ہرجانے کے کیس میں گواہ کے طور پر پیش ہوکر اپنا بیان ریکارڈ کروالیا۔

اداکارہ عفت گلوکارہ میشا شفیع کی جانب سے بطور گواہ پیش ہوئیں، ان کے ہمراہ گلوکارہ کی والدہ صبا حمید اور وکلا بھی شریک ہوئے۔

میشا شفیع کے خلاف ہرجانے کے کیس کی سیشن جج امجد علی شاہ نے کی، جس میں میشا شفیع کے دوسرے گواہ نے اپنا بیان ریکارڈ کروایا۔

اداکارہ و ماڈل عفت عمر نے اپنے بیان میں دعویٰ کیا کہ وہ ایسی دوسری خواتین کو بھی جانتی ہیں، جنہوں نے علی ظفر پر جنسی ہراساںی کے الزامات لگائے، تاہم وہ سماج کے خوف اور بدنامی کی وجہ سے سامنے نہیں آئیں۔

عفت عمر کے مطابق خواتین کے لیے جنسی ہراسانی کے واقعے سامنے لانا آسان نہیں ہوتا اور اسی طرح میشا شفیع بھی اس معاملے کو سامنے لانے سے قبل پریشانی کا شکار تھیں۔

اداکارہ نے انکشاف کیا کہ میشا شفیع نے علی ظفر کے خلاف جنسی ہراسانی کا الزام لگانے سے 10 دن قبل ان کے گھر کا دورہ کیا تھا اور وہ اس دوران بہت پریشان دکھائی دیں، تاہم انہوں نے کچھ نہیں بتایا۔

میشا شفیع کی والدہ صبا حمید بطور گواہ 29 اکتوبر کو عدالت میں پیش ہوئی تھیں—فوٹو: فیس بک
میشا شفیع کی والدہ صبا حمید بطور گواہ 29 اکتوبر کو عدالت میں پیش ہوئی تھیں—فوٹو: فیس بک

عفت عمر کے مطابق میشا شفیع کی جانب سے علی ظفر کے ٹوئٹ کیے جانے کے بعد انہوں نے انہیں مزید تفصیلات بتائیں اور وہ نہ صرف میشا بلکہ ان کی والدہ صبا حمید کو بھی اچھی طرح جانتی ہیں اور انڈسٹری میں دونوں کی ساکھ انتہائی اعلیٰ ہے۔

اداکارہ نے اپنے بیان میں کہا کہ انہیں نہیں لگتا کہ میشا شفیع اور ان کی والدہ جھوٹ بول رہی ہیں، ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ وہ ماڈل لینیٰ غنی، ماہم جاوید اور ہمنا کی جانب سے علی ظفر پر لگائے گئے الزامات سے بھی واقف ہیں۔

بیان ریکارڈ کرواتے وقت عفت عمر نے علی ظفر کے حوالے سے بھی بتایا کہ وہ انہیں کئی سال سے جانتی ہیں۔

عفت عمر کی جانب سے بیان ریکارڈ کرائے جانے کے بعد عدالت نے سماعت 9 نومبر تک ملتوی کرتے ہوئے میشا شفیع کے گواہوں کو طلب کرلیا۔

میشا شفیع کے گواہوں کو 26 اکتوبر کو طلب کیا گیا تھا، تاہم وہ گزشتہ ماہ پیش نہ ہو سکے تھے—فوٹو: عفت عمر انسٹاگرام
میشا شفیع کے گواہوں کو 26 اکتوبر کو طلب کیا گیا تھا، تاہم وہ گزشتہ ماہ پیش نہ ہو سکے تھے—فوٹو: عفت عمر انسٹاگرام

اسی سماعت کے دوران میشا شفیع کی جانب سے علی ظفر کے خلاف دائر کیے گئے 2 ارب ہرجانے کی مختصر سماعت بھی ہوئی، جس میں علی ظفر کے وکلا ایک بار پھر جواب داخل کرانے میں ناکام رہے۔

علی ظفر کے وکلا نے میشا شفیع کے 2 ارب ہرجانے کے کیس کے خلاف عدالت میں درخواست دائر کر رکھی ہے کہ پہلے علی ظفر کے ایک ارب ہرجانے کے کیس کا فیصلہ سنایا جائے۔

دونوں گلوکار و اداکار ایک دوسرے کے خلاف اور بھی مختلف طرح کی درخواستیں دائر کرتے آئے ہیں اور دونوں کا کیس گزشتہ برس سے عدالتوں میں زیر سماعت ہے۔

میشا شفیع نے بھی علی ظفر کےخلاف 2 ارب ہرجانے کا کیس دائر کر رکھا ہے—فوٹو: انسٹاگرام
میشا شفیع نے بھی علی ظفر کےخلاف 2 ارب ہرجانے کا کیس دائر کر رکھا ہے—فوٹو: انسٹاگرام

میشا شفیع کی دوسری گواہ عفت عمر سے قبل ان کی پہلی گواہ اور گلوکارہ کی والدہ اداکارہ صبا حمید نے عدالت میں اپنا بیان ریکارڈ کرواتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ علی ظفر نے ان کی بیٹی کے علاوہ بھی دیگر خواتین کو ہراساں کیا۔

میشا شفیع کے وکلا سے قبل عدالت میں علی ظفر اور اس کے 11 گواہوں کے بیانات ریکارڈ کیے جا چکے ہیں اور ان پر جرح بھی مکمل کی جا چکی ہے۔

علی ظفر اور اس کے گواہوں کے بیانات مکمل ہوچکےہیں—فوٹو: انسٹاگرام
علی ظفر اور اس کے گواہوں کے بیانات مکمل ہوچکےہیں—فوٹو: انسٹاگرام

میشا شفیع کے گواہوں کے بیانات مکمل ہونے کے بعد ان پر جرح ہوگی، جس کے بعد ممکنہ طور پر اس کیس کا فیصلہ سنایا جائے گا۔

یہ کیس میشا شفیع کی جانب سے علی ظفر پر جنسی ہراسانی کا الزام لگانے کے بعد دائر کیا گیا تھا، جس میں علی ظفر نے گلوکارہ کو جھوٹا قرار دیتے ہوئے ان پر ایک ارب ہرجانے کا دعویٰ دائر کیا تھا۔

میشا شفیع کی جانب سے اپریل 2018 میں لگائے گئے جنسی ہراسانی کے الزامات کو علی ظفر نے مسترد کردیا تھا جب کہ گلوکارہ کی جنسی ہراسانی کی درخواست بھی محتسب اعلیٰ پنجاب نے مسترد کردی تھی۔

میشا شفیع کا بیان ریکارڈ ہونا اور اس پر جرح ابھی باقی ہے—فوٹو: انسٹاگرام
میشا شفیع کا بیان ریکارڈ ہونا اور اس پر جرح ابھی باقی ہے—فوٹ