
اسلام آباد (نیوزرپورٹر)چیئرمین پارلیمانی کمیٹی برائے کشمیر شہریار خان آفریدی نے سیاسی جماعتوں پر زور دیا کہ وہ تنازعہ کشمیر پر حکومت کے اقدامات کا ساتھ دینے کیلئے کشمیر کمیٹی کے ساتھ مل کر کام کریں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے بحیثیت مہمان خصوصی کشمیر انسٹیٹیوٹ آف انٹرنیشنل ریلیشنز کے زیر اہتمام منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب کی صدارت صدر آزاد جموں و کشمیر سردار مسعود خان نے کی۔ ” شہریار آفریدی نے کہا کہ کشمیر کمیٹی ڈیجیٹل میدان میں کشمیریوں کی حمایت میں اٹھنے والی آوازوں کو خاموش کرنے والے بھارتی ایجنڈوں کا مقابلہ کرنے کیلئے کوشاں ہے اور یہ کہ تمام سیاسی جماعتوں کو مقبوضہ کشمیر میں مودی حکومت کے کشمیریوں کی نسل کشی کے ایجنڈے کو بے نقاب کرنے کے لئے ایک جامع حکمت عملی تیار کرنے کے لئے حصہ ڈالنا چاہئے۔انہوں نے کہا کہ ہمیں نوجوانوں کیلئے کشمیر سے متعلق معلومات تک رسائی کیلئے تمام رکاوٹوں کو ہٹانا ہے۔ شہریار آفریدی نے کہا کہ کشمیر پر موئثر بیانیہ اختیار کرنے کیلئے اکیڈمیا کے کردار کو بڑھانا ہوگا۔ انہوںنے کہا کہ ہمیں بھارتی مقبوضہ جموں و کشمیر میں پیشہ ور قوتوں کے ذریعہ ہونے والے انسانی حقوق ، بچوں اور خواتین کے حقوق کی پامالیوں کو بے نقاب کرنے کی ضرورت ہے۔ شہریار آفریدی نے کہا کہ بھارت اپنی نسل کشی کے منصوبے کے تحت کشمیری ثقافت اور ورثے کو نقصان پہنچانے اور اسے ختم کرنے کی کوشش کر رہا ہے ، لہذا ہم کشمیر کی ثقافت اور ورثے کو تحفظ فراہم کرنے پر کام کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان مقبوضہ جموں و کشمیر میں ہونے والے بھارتی مظالم کو بے نقاب کرنے کے لئے جدید میڈیا ٹولز کو استعمال کرنے پر کام کر رہا ہے۔انہوں نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں ہندوتوا حکومت کی فاشسٹ پالیسیوں کے بارے میں بھی دنیا کو بتانے کی تاکید کی۔چیئرمین کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل ریلیشنز الطاف وانی نے اس موقع پر اپنے خطاب میں کہا کہ ہمیں تمام بین الاقوامی فورمز پر تنازعہ کشمیر کو اٹھانے کے لئے موجودہ اور آئندہ حکمت عملی پر زور دینے کی ضرورت ہے۔ دنیا کو کشمیریوں کی نسل کشی کے لئے ہندوستان کی ہندوتوا حکومت کو جوابدہ ٹھہرانے کی ضرورت ہے۔


