ایک اور عالمی سنگین تصادم سے بچنے کے لیے امریکہ کو مصالحتی کردار ادا کرنا ہوگا ،رحمان ملک

امریکہ نے دوسرے ممالک میں جنگ کے جو میدان بنا رکھے ہیں ان سے نہ صرف مقبوضہ ممالک بلکہ امریکی فوجیوں کا بھی انسانی نقصان ہورہا ہے

اسلام آباد: پیپلز پارٹی کے رہنماء سابق وزیر داخلہ اور انسٹی ٹیوٹ آف ریسرچ اینڈ ریفارمز (IRR) کے چیئرمین سینیٹر رحمان ملک نے امریکہ پر زور دیا ہے کہ ایک اور سنگین تنازع کو روکنے اور خطے میں دشمنی کے خاتمے کے لیے مصالحتی کردار ادا کرے، امریکہ نے دوسرے ممالک میں جنگ کے جو میدان بنا رکھے ہیں اور اسے ختم کرنا ضروری ہے کیونکہ جنگوں سے نہ صرف مقبوضہ ممالک بلکہ امریکی فوجیوں کا بھی انسانی نقصان ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ امریکی فوجوں کے انخلا کے باوجود افغانستان کے عوام اب بھی مشکلات کا شکار ہیں اور افغان مسئلہ مزید پیچیدہ ہو رہا ہے جبکہ پاکستان اس تنازع کا مسلسل شکار ہے۔

جمعہ کو ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ ہم محسوس کرتے ہیں کہ امریکیوں کو دوحہ معاہدے کے بعد افغانستان کے مسئلے کو اچھے طریقے سے حل کر کے اس تنازعے کو ہمیشہ کے لئے ختم کر دینا چاہیے تھالیکن ایسا لگتا ہے کہ امریکیوں نے ابھی تک افغان ایجنڈا ختم نہیں کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ اس حقیقت سے پوری طرح آگاہ ہونے کے باوجود افغانوں کا پیسہ واپس نہیں کر رہا ہے کہ وہاں کے لوگ بھوک سے مر رہے ہیں اور مصیبت زدہ افغانیوں کو انسانی امداد کی ضرورت ہے۔سابق وزیر داخلہ نے کہا کہ دنیا پوچھنا چاہتی ہے کہ امریکہ خود ساختہ میدان جنگ سے دور بیٹھ کر دوسروں کی جنگوں میں فریق بننے کے لیے کھربوں ڈالر خرچ کرنے کے بجائے اپنے کئی کھربوں کا قرضہ اتارنے پر توجہ کیوں نہیں دیتا؟
انہوں نے کہا کہ اب تک، امریکہ عراق اور شام میں جنگی تعیناتیوں کے ساتھ ساتھ دنیا بھر کے کم از کم 80 ممالک میں تقریبا 750 اڈوں کو کنٹرول کرتا ہے اور 10 ممالک کی مشترکہ فوج سے زیادہ خرچ کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صرف گزشتہ 20 سالوں میں امریکا نے اپنی نام نہاد "دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ” پر 8 ٹریلین ڈالر خرچ کیے ہیں، جو صرف افغانستان پر 2.3 ٹریلین ڈالر بنتے ہیں، 2.1 ٹریلین ڈالر عراق اور شام کی جنگوں پر خرچ کیے گئے، اور 355 بلین ڈالر دیگر جنگوں سے منسوب تھے۔رحمان ملک نے کہا کہ امریکہ کو ایک عالمی طاقت ہونے کے ناطے افغانستان، کشمیر اور فلسطین وغیرہ جیسے مسائل کے حل کے لیے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرنا چاہیے یا اس سے ملتے جلتے مسائل کو حل کرنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ کشمیر بھارتی فوج کے غیر قانونی قبضے میں ہے جو مظلوم کشمیریوں کے خلاف بلاخوف و خطر ظلم و بربریت کا ارتکاب کر رہی ہے اور بھارت نے کبھی بھی بھارت کے غیر قانونی مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی تنظیموں کی اجازت نہیں دی۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا امریکہ کبھی اقوام متحدہ میں اپنا اثرورسوخ استعمال کر کے کشمیریوں کی مشکلات ختم کرے گا؟ انہوں نے کہا کہ امریکہ بھارت کو کشمیر سے اپنی افواج نکالنے اور انہیں حق خود ارادیت دینے کے لیے راضی اور مدد کر سکتا ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان نے افغانستان میں امریکی فوجیوں کی مدد کی اور اس سے قبل سوویت یونین کے خلاف جنگ لڑی جس نے نہ صرف ہماری معیشت کو پٹڑی سے اتارا بلکہ ہمیں امریکا کے درآمد کردہ جہادیوں کا بھی سامنا کرنا پڑا جو القاعدہ اور ٹی ٹی پی دیگر دہشت گرد گروپوں کی شکل میں دہشت گرد نکلے۔انہوں نے کہا کہ اب ہمیں داعش اور ٹی ٹی پی کے ساتھ ایک اور سپانسر شدہ جنگ کی بو آ رہی ہے اور اس خطے میں کچھ ایسا ناپاک کھیل دیکھنے کو مل رہا ہے جس سے اس خطے کا امن کی بربادی کا خطرہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر دنیا طالبان کی حکومت کو تسلیم کرنے میں ناکام رہی تو خطہ مزید مشکلات کا شکار ہو جائے گا، بصورت دیگر افغانستان ایک بار پھر بین الاقوامی دہشت گردوں کا مرکز بن جائے گا اور دہشت گردوں کے اس آنے والے مرکز پر حملہ کرنے کے لیے دہشت گردی کے خلاف ایک اور جنگ کا بہانہ بنائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک اور فال گیم کا مستحق نہیں ہے کیونکہ وہ پہلے ہی دہشت گردی کے خلاف امریکی جنگ سے بہت زیادہ نقصان اٹھا چکا ہے۔