پاکستان میں بجلی خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں سب سے مہنگی ہے ،مظاہروں کا یہ سلسلہ قیمت کم ہونے تک جاری رہے گا

اسلام آباد:بجلی کے بلوں اور ظالمانہ ٹیکسز کے خلاف ستارہ مارکیٹ چوک میں علامتی بھوک ہڑتالی دھرنا دیا گیا۔سابق آزاد امیدوار قومی اسمبلی جاوید انتظار کی زیر قیادت چار گھنٹے جاری رہنے والے دھرنے میں لیبر ،نجی و سرکاری ایجوکیشن،سیاسی و سماجی اور تحریک تحفظ سرکاری ملازمین کی لیڈر شپ اور اہلیان شہر کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
جاوید انتظار نے حکومت ،ریاستی اداروں اور سپریم کورٹ سے بجلی کی فی یونٹ بشمول ٹیکسز قیمت 28 روپے کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ مہنگی بجلی اور ظالمانہ ٹیکسز سے لوگ خود کشیاں کررہے ہیں ۔انکی موت کی ذمہ داری ریاست پاکستان پر عائد ہوتی ہے۔ عوام بجلی کے بل جلا اور میٹر ریڈرز پر تشدد کر رہے ہیں۔ جس سے ریاست کے خلاف بغاوت کی خطرناک سوچ پیدا ہوچکی ہے۔نگراں حکومت کہہ رہی ہے آئی ایم ایف کی سخت شرائط کی وجہ سے بجلی کی قیمت کم کرنے سے قاصر ہیں۔ بنگلہ دیش میں بجلی کی قیمت بشمول ٹیکسز پاکستانی روپے کے حساب سے 19 سے 20 روپے جبکہ بھارت میں 14سے 16 روپے فی یونٹ بنتی ہے۔جبکہ پاکستان میں بجلی کے یونٹ کی قیمت 32 سے 36 روپے جبکہ ان گنت ٹیکسز ملا کر 52 سے 60 روپے بنتی ہے ۔جو عوام کی قوت خرید سے ناقابل برداشت حد تک زیادہ ہے ۔
دھرنے سے تحریک تحفظ سرکاری ملازمین کے رابطہ سیکرٹری راجہ عمران بگا نے کہا کہ مہنگی بجلی کے خلاف یکم ستمبر کو چائینہ مارکیٹ ایف سکس فور اور تین ستمبر کو جی۔سیون فور فٹ بال گرانڈ میں احتجاجی مظاہرے کریں گے۔پاک پی ڈبلیو ڈی کے صدر سید ذیشان شاہ نے کہا کہ بجلی کے بلوں نے ہمارے منہ سے نوالہ چھین لیا ہے۔ہم بچوں کی فیسیں جمع نہیں کروا پارہے۔چئیرمین آبپارہ مارکیٹ اور سی ڈی اے مذدور یونین سی بی اے کے ایڈیشنل جنرل سیکرٹری مانی بٹ نے کہا کہ 31 اگست کو آبپارہ مرکز کو بند رکھیں گے۔اندھے گونگے اور بیرے حکمران عیاشیاں کر رہے ہیں ۔عوام سراپا احتجاج ہے۔
سی ڈی اے یونین پاشا گروپ کے جنرل سیکرٹری عزت کمال پاشا نے کہا کہ مہنگی بجلی اور ٹیکسز کے خلاف سیاسی لیڈرز گھروں سے باہر نہیں نکل رہے ۔لوگ انکی مجرمانہ خاموشی کا انتخابات میں محاسبہ کریں گے۔
پختون ایکشن کمیٹی کے مرکزی صدر جاوید خان بنگش نے کہا کہ عوام کو سمجھ نہیں آرہی کہ مہنگی بجلی پر رونا کس کے سامنے روئیں۔کس سے داد رسی کا بولیں۔ یہاں عوام کی سننے والا کوئی نہیں ۔
پرائیویٹ ایسوسی ایشن اسلام آباد کے بانی صدر،APSSA کے سرپرت اعلء اور سابق ڈپٹی گورنر روٹری کلب اسلام آباد ڈاکٹر راجہ محمد افراہیم ستی نے کہا کہ نجی تعلیمی سیکٹر مہنگی بجلی اور ناجائز ٹیکسز سے تباہ حال ہے۔ آئی پی پیز اور آئی ایم ایف عوامی پیسہ لوٹ رہے ہیں۔
بجلی گیس بحالی تحریک کے صدر ملک زاہد محمود نے کہا کہ مہنگی بجلی نے عوام کے اوسان خطا کر دیئے ہیں۔ ملک پل صراط پر چل رہا ہے ۔عوام کا کوئی پرسان حال نہیں ۔لیبر لیڈر حاجی مقصود، سماجی رہنما حافظ انور،حافظ ناصر عباسی،ٹی ایل پی اسلام آباد سے قومی اسمبلی کے امیدوار خرم شہزاد، اسلام ماڈل کالجز نان ٹیچنگ کے جنرل سیکرٹری صداقت عباسی، آبپارہ مارکیٹ کے جنرل سیکرٹری راجہ اختر ، ریڈیو پاکستان کیلیبر لیڈر محمد اعجاز، پراییویٹ ایجوکیشنل سوسائٹی بہارہ کہو کے صدر راجہ خالد و دیگر مقررین کے مہنگی بجلی اور ظالمانہ ٹیکسز کو شدید ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا کہ معاشی بد حال قوم سے ریاست کمزور ہوتی جارہی ہے۔ حکومت پر نگراں کٹ پتلیاں براجمان ہیں ۔جو کسی کے اشارے پر بجلی کی قیمت تو بڑھا سکتے ہیں ۔قیمت کم کرنے پر آئی ایم ایف کے آگے بے بسی کی بات کرتے ہیں۔2018 سے 2023 تک کی دونوں حکومتوں میں شامل تمام سیاسی جماعتیں مہنگی بجلی اور مہنگائی کی ذمہ دار ہیں۔عام انتخابات میں عوام انکو کسی صورت معاف نہیں کریں گے۔اب لوگ اپنے اندر سے قیادت اوپر لائیں گے ۔بجلی کی نرخوں اور ظالمانہ ٹیکسز کے خلاف ستارہ مارکیٹ چوک میں علامتی بھوک ہڑتالی دھرنے میں عوامی بیٹھک کی انتظامی کمیٹی کے اراکین شکیل خٹک،ملک عرفان اعوان ،چودھری ناصر،ملک نوید اعوان، سرکاری ملازمین کے لیڈر رحمان علی باجوہ و دیگر شرکا نے مہنگی بجلی نامنظور نامنظور،ظالمانہ ٹیکسز نامنظور نامنظور، ظلم کے یہ ضابطے ہم نہیں مانتے کے فلگ شگاف نعرے لگائے۔علامتی بھوک ہڑتالی دھرنے کی کوریج کے لئے الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کی بڑی تعداد موجود تھی۔




