بلغاریہ :دلہن برائے فروخت، لیکن شرائط و ضوابط لاگو ہوں گے

دلہن کا یہ بازار ان غریب لڑکیوں کے لئے لگایا جاتاہے جن کے والدین ان کی شادی کے اخراجات کی استطاعت نہیں رکھتے
صرف غریب اور کلائیدجھی سماج والے لوگ دلہن فروخت کر سکتے ہیں،ساتھ ہی خریدی گئی لڑکی کو بہو کا درجہ دینا ضروری ہوتا ہے

بلغاریہ: آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ اس جدید دور میں بھی بلغاریہ کے شہر میں ایک بازار ایسا بھی ہے جہاں دیگر اشیائے ضروریہ کے ساتھ ساتھ دلہنیں بھی برائے فروخت موجود ہیں۔ دلہن یہاں پیاز ۔ ٹماٹر کی طرح فروخت ہوتی ہے گھر والے دلہن کو بازار میں بیٹھا کر بولی لگاتے ہیں اور جو مرد زیادہ پیسے دے وہ دلہن کو خرید سکتا ہے ۔یاد رہے کہ بلغاریہ کا یہ دلہن بازار پوری طرح قانونی ہے ۔ اس بازار میں لوگ گھوم گھوم کر مرد اپنے لئے بیوی خریدتے ہیں۔
دیگر کی طرح آپ بھی سوچ رہے ہوں گے کہ کیا آج کے وقت میں کہیں خواتین کو فروخت کرنے کی اجازت بھی ہے؟ لیکن یہ مذاق نہیں جی ہاں آج بھی بلغاریہ میں آج بھی ایک ایسی جگہ ہے، جہاں دلہن بازار پوری طرح قانونی ہے ۔ اس بازار میں لوگ گھوم گھوم کر اپنے لئے بیوی خریدتے ہیں ۔ بلغاریہ کے ستارا جاگور نام کی جگہ پر دلہن کی یہ منڈی لگتی ہے ۔ اس جگہ پر مرد اپنے کنبہ کے ساتھ آتا ہے اور اپنے لئے پسند کی لڑکی منتخب کرتا ہے ۔
جو لڑکی لڑکے کو پسند آتی ہے، اس کی قیمت لگائی جاتی ہے ۔ لڑکی کے گھر والے جب قیمت سے مطمئن ہوجاتے ہیں تب اس قیمت میں بیٹی کو لڑکے کے حوالے کردیا جاتا ہے ۔ لڑکا اس لڑکی کو گھر لے آتا ہے اور اس کو اپنی بیوی کا درجہ دیدیتا ہے ۔
دلہن کا یہ بازار غریب لڑکیوں کیلئے لگایا جاتا ہے۔ عام طور پر شادیوں میں کافی اخراجات ہوتے ہیں، ایسے میں جو کنبے اپنی بیٹیوں کی شادی کی استطاعت نہیں رکھتے ہیں، وہ اس بازار میں اپنی بیٹی کو لے کر جاتے ہیں ۔ اس کے بعد لڑکے والے آتے ہیں اور اپنی پسند کی لڑکی تلاش کرلیتے ہیں ۔ لڑکی کے اہل خانہ کے حساب سے پیسے دے کر وہ اس لڑکی کو خرید لیتے ہیں ۔ یہ روایت بلغاریہ میں سالوں سے چلی آرہی ہے ۔ اس بازار کو لگانے کیلئے سرکار بھی اجازت دیتی ہے ۔
اس بازار میں فروخت ہونے والی لڑکیوں کی قیمت الگ الگ طے ہوتی ہے ۔ جس لڑکی کی زندگی میں اس سے پہلے کوئی مرد نہیں آیا ہوتا ہے اس کی قیمت زیادہ ہوتی ہے ۔
ساتھ ہی بازار میں برائے فروخت دلہن کو گھر لے جانے سے پہلے بھی کئی قوانین پر عمل کرنا پڑتا ہے ۔ اس بازار میں کلائیدجھی سماج کے لوگ اپنی بیٹیوں کو فروخت کرتے ہیں ۔ انہیں خریدنے والے کا بھی اسی سماج سے ہونا لازمی ہے ۔ نیز لڑکی والوں کا غریب ہونا ضروری ہے ۔ اقتصادی طور پر مضبوط کنبے اپنی بیٹی کو نہیں بیچ سکتے ۔ ساتھ ہی خریدی گئی لڑکی کو بہو کا درجہ دینا ضروری ہے۔