یاسر قیوم پر 41 کروڑ روپے کی غیر قانونی ادائیگیوں کا الزام
مظلو م عوام کا خون پینے والا ایک اورڈریکولا اپنے انجام کو پہنچا
اسلام آباد :اسلام آباد کی اسپیشل کورٹ سینٹرل-II کے جج ہمایوں دلآور نے سابق ڈپٹی کمشنر فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائیز ہاؤسنگ اتھارٹی (FGEHA) یاسر قیوم کی ضمانت بعد از گرفتاری کی درخواست مسترد کر دی ہے۔
عدالتی حکم نامے کے مطابق یاسر قیوم پر الزام ہے کہ انہوں نے موضع چھیلو اور جھنگی سیداں (سیکٹر G-14/1) کے 26 پلاٹوں کے لیے جاری کیے گئے آٹھویں پارشل ایوارڈ میں غیر متعلقہ اور غیر حقدار افراد کو شامل کیا، جس سے سرکاری خزانے کو تقریباً 41 کروڑ روپے کا نقصان پہنچا۔
ایف آئی آر نمبر 72 مورخہ 31 دسمبر 2025 کے مطابق، ملزم نے دیگر عہدیداران وقاص بلوچ (ڈپٹی اسسٹنٹ ڈائریکٹر لینڈ) اور عبید اسحاق (سب انجینئر) کے ساتھ ملی بھگت سے جعل سازی، دستاویزات میں رد و بدل اور غلط پیمائشوں کے ذریعے غیر مستحق افراد کو ناجائز ادائیگیاں کیں۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ ملزم یاسر قیوم نے بغیر تصدیق کے ایوارڈ جاری کیا، اور ایف جی ای ایچ اے اور ایف آئی اے کی تحقیقات سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ان کا جرم میں براہ راست کردار ہے۔ لہٰذا عدالت نے ضمانت کی درخواست مسترد کر دی.




