ڈاکڑ شہزاد کو کام کرنے کی اجازت دی تو مستقبل میں وہ پھر یہی کچھ دیرا سکتے ہیں،فوسپاہ
خاتون ڈاکٹر کے خلاف ڈاکٹر شہزاد کی بدعنوانی کی درخواست عدم ثبوت کی بنا پر مسترد خاتون ڈاکتر کی درخواست منظور
اسلام آباد(نیوزرپورٹر)وفاقی محتسب برائے انسداد ہراسیت نے وائس چانسلر ہیلتھ سروسزاکیڈمی ڈاکڑ شہزاد علی خان کو ملازمت سے برطرف کردیا ہے. وفاقی محتسب برائے انسداد ہراسیت نے ڈاکٹر شہزاد کو ہراسانی کا مرتکب قرار دے دیا.کچھ لو اور کچھ دو کا معاملہ قرار دیکر ڈاکڑ شہزاد علی ہراسانی کے مرتکب قرار دے دئے گئے.
وفاقی محتسب برائے انسداد ہراسیت فوزیہ وقارنے دو مختلف شکایت پر فیصلہ سنایا دیا. فوسپاہ نے رضامندی اور ہنی ٹریپنگ کے الزامات مسترد کردیے .
فوسپاہ کے مطابق ڈاکڑ شہزاد علی خان بغیر کسی شک و شبہ کے ہراسانی کے مرتکب پائے گئے ہیں. ڈاکڑ شہزاد علی خان کی خاتون ڈاکڑ کیخلاف فوسپاہ میں شکایت مسترد کرتے ہوئے فوسپاہ نے خاتون ڈاکڑ کی شکایت منظور کرلی.فوسپاہ نے شکایات گزار خاتون ڈاکڑ کیخلاف مالی بدعنوانی کے الزامات عدم شواہد پر مسترد دئے
فوسپاہ نے قراردیا کہ وائس چانسلر نے اپنے اختیارات کو غلط استعمال کرکے خاتون نے ساتھ نامناسب تعلق قائم کیا.ڈاکڑ شہزاد کو بطور وائس چانسلر کام کرنے کی اجازت دی تو مستقبل میں وہ پھر یہی کچھ دیرا سکتے ہیں،لہذا ڈاکڑ شہزاد علی خان کو ملازمت سے برطرف کیا جاتا ہے.
ڈاکڑ شہزاد علی خان پر الزام تھا کہ انہوں نے اپنی سٹوڈنٹ کو اختیارات کے غلط استعمال سے ملازمت پر رکھوایا اور بیجا مراعات دیں
ڈاکڑ شہزاد علی خان اور خاتون ڈاکڑ نے ایک دوسرے کے خلاف فوسپاہ میں شکایات درج کروائی تھیں .




