ٹرمپ آج جنگ ختم کرنے کا اعلان کر سکتے ہیں؟


ایک ماہ کی طویل اور تھکا دینے والی جنگ کے بعد وہ یہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ سارا جانا سے بہتر ہے کہ آدھا بچا لیا جائے

اسلام آباد(رپورٹ :محمدرضوان ملک)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ آج بدھ کی شام قوم سے خطاب کررہے ہیں پاکستانی وقت کے مطابق ان کا خطاب جمعرات کی صبح چھ بجے ہوگا۔
اس بات کا غالب امکان ہے کہ صدر ٹرمپ جمعرات کی صبح ہونے والے اس خطاب میں ایران جنگ ختم کرنے کا اعلان کر سکتے ہیں۔ وہ اپنی سیلانی طبیعت کے باعث کسی بھی قسم کا بڑا فیصلہ کرنے میں دیر نہیں لگاتے ۔لہذا اس بات کا امکان ہے کہ انہوں نے جس طرح فوری ایران جنگ شروع کی تھی فورا ہی اس کا خاتمہ بھی کر سکتے ہیں۔اس بات کا غالب امکان ہے کہ اپنے آج کے خطاب میں وہ یہی اعلان کریں گے کہ امریکہ نے اپنے مقاصد حاسل کر لئے ہیں اور ہم ایران جنگ ختم کر رہے ہیں۔
جنگ کے خاتمے کا ماحول تو وہ پچھلے کچھ دنوں سے بنا رہے ہیں اب صرف اعلان کرنا ہی باقی ہے۔ عالمی برادری کی مخالفت کے ساتھ ساتھ انہیں خود امریکہ کے اندر سے بھی اس بے مقصد جنگ پر شدید تنقید کا سامنا ہے۔ا س معاملے میں وہ خود اور امریکہ دنیا میں تنہاہو کر رہ گیا ہے۔ انہیں نہ صرف دنیا میں اس جنگ پر کوئی عملی حمایت ملی بلکہ وہ کسی کی زبانی حمایت حاصل کرنے میں بھی ناکام رہے۔ عالمی برادری میں صرف برطانیہ نے کسی حد تک ان کا ساتھ دینے کی کوشش کی لیکن اسے بھی امریکی روئیے سے مایوسی ہوئی۔ اس طرح صدر ٹرمپ کی دنیا کا چودھری بننے کی کوشش کامیاب نہ ہوسکی غیر تو غیر اپنوں نے بھی ان کی اس چودھراہٹ کو قبول نہ کیا نہ صرف ان کے قریبی مشیر اس پر ان سے نالاں ہیں چند تو ان کو چھوڑ بھی گئے بلکہ امریکی عوام میں بھی اس بے مقصد جنگ پر شدید غصہ پایا جاتا ہے اور چند دن قبل امریک کے مختلف شہروں میں ستر لاکھ سے زائد افراد نے ان کے خلاف احتجاج کر کے ان سے اپنی نفرت کا اظہار کیا ہے۔
مظاہرین نے نو کنگ ریلیاں نکال کر انہیں باور کرایا کہ وہ امریکی عوام کے بادشاہ نہیں بلکہ خادم ہیں۔ اس جنگ کے بعد دنیا کے ساتھ ساتھ امریکہ میں بھی ان کی مخالفت میں اضافہ ہوا ہے اور ان کی مقبولیت کا گراف کافی حد تک گر گیا ہے اور انہیں اور ان کے ساتھیوںکو خوف ہے کہ اگر یہی صورت حال رہی تو اگلے الیکشن میں ان کی شکست یقینی ہے اور دنیا کی چودھراہٹ لیتے لیتے کہیں امریکہ کی چودھراہٹ بھی ان کے ہاتھ سے نہ چلی جائے۔
ویسے تو ٹرمپ سے کچھ بھی توقع کی جاسکتی ہے لیکن گزشتہ کچھ دنوں سے وہ جس طرح پھنسے ہوئے ہیں غالب امکان اس بات کا ہی ہے کہ وہ اپنے اس خطاب کے دوران فوری طور پر جنگ کے خاتمے کا اعلان کر سکتےہیں۔