پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس اسیر اراکان پارلیمنٹ کے پروڈکشن آرڈر جاری نہ ہوسکے، سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا سپیکر کو شکائیتی خط،اسیر اراکان کی تصاویر نے اجلاس میں شرکت کی، محسن داوڑ اور علی وزیر اس سے بھی محروم رہے

پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں شرکت کے لئے اسیر اراکان قومی اسمبلی کے پروڈکشن آرڈر جاری نہ ہوسکے ۔پروڈکشن آرڈر جاری نہ ہونے پر مشترکہ اجلاس کے دوران قید اراکان پارلیمنٹ کی نشستوں پر اپوزیشن جماعتوں نے اپنے اپنے ارکان کی قد آدم تصاویر رکھیں ۔ بعد ازاں احتجاج کےد وران وہ تصاویر ہاتھوں میں اٹھا کر احتجاج بھی کرتے رہے۔آصف علی زرداری، رانا ثنا اللہ ، سعد رفیق، شاہد خاقان عباسی کی تصاویر تو ان کی نشستوں پر موجود تھیں لیکن خیبر پختون خوا سے تعلق رکھنے والے اراکین اسمبلی علی وزیر اور محسن داوڑ کی تصاویر لانے والا کوئی نہ تھا۔سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے پروڈکشن آرڈر جاری نہ کرنے پر سپیکر کو خط بھی لکھا

جس میں انہوں نے زیر حراست تمام ارکان کے پروڈکشن آرڈرز جاری کرنے پر زور دیا۔

شاہد خاقان نے خط میں لکھا ہے کہ میں اس حقیقت سے آگاہ ہوں کہ آپ کا دفتر حکومت کے دباؤ میں ہے۔ ایوان کے تمام قیدی اراکين کے بلاامتیاز پروڈکشن آرڈرز جاری کيے جائيں۔

آپ بروقت اور غیر معتصبانہ ذمےداری نبھانے میں ناکام ہوئے۔ بلا امتیاز تمام قیدی ارکان کے پروڈکشن آرڈر جاری کریں۔ ایل این جی کیس میں گرفتار شاہد خاقان عباسی اور مفتاح اسماعیل 26 ستمبر تک مزید جسمانی ریمانڈ پر نیب کے سپرد۔

انہوں نے مزید لکھا کہ پہلے بھی اسپیکر آفس قیدی ارکان کے پروڈکشن آرڈرز جاری کرنے کی ذمہ داری نبھانے میں ناکام رہا۔ پروڈکشن آرڈرز جاری کرنے کے لیے کئی دفع زور دیا لیکن میری کوششوں کا اثر نہیں ہوا۔

لکھا کہ ایوان کے محافظ کے طور پر اسپیکر کے اقدامات کو بذات خود بولنا چاہیے۔ آپ بروقت اور غیر معتصبانہ ذمےداری نبھانے میں ناکام ہوئے۔ اجلاس میں تب تک نہیں آؤں گا جب تک سب ارکان کے پروڈکشن آرڈر جاری نہیں ہوں گے۔

دوسری جانب ایل این جی کیس کی سماعت ہوئی، جس میں سابق وزیراعظم اور سابق وزیر خزانہ کو عدالت میں پیش کیا گیا۔ نیب کی جانب سے شاہد خاقان عباسی کے مزید 14 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی گئی۔

تفتیشی افسر نے کہا کہ میں کراچی گیا تھا اور سارا ریکارڈ لے کر خود آیا ہوں۔ ہم کراچی سے لائے گئے ریکارڈ اور شواہد پر مزید تفتیش کرنا چاہتے ہیں۔

شاہد خاقان عباسی نے عدالت میں کہا کہ یہ مجھ پر سارے سیاسی کیس ہیں۔ مجھے خدشہ ہے کہ یہ مجھ پرجعلی کیس بنادیں گے۔ ان کو بے شک ایک ہی بار 90 دن کا ریمانڈ دے دیں۔ بات وہی ہے جومیں نے پہلے دن کہی تھی۔

مفتاح عسماعیل کے وکیل حیدر وحید نے نیب کی جانب سے مزید ریمانڈ کی گزارش کی مخالفت کی گئی اور کہا کہ 14 دن کا مزید جسمانی ریمانڈ دینا ناانصافی ہے۔ جو الزامات لگائے گئے ہیں ان سے مفتاح اسماعیل کا کوئی تعلق نہیں ہے۔

تمام دلائل سننے کے بعد عدالت نے ملزموں کے جسمانی ریمانڈ میں 26 ستمبر تک توسیع کرتے ہوئے مزید 14 دن کے لئے انہیں نیب کے سپرد کردیا۔

یاد رہے کہ شاہد خاقان عباسی نے قومی اسمبلی کے اسپیکر کو پہلے بھی خط لکھا تھا جس میں اجلاس کے لیے تمام گرفتار ارکان کے پروڈکشن آرڈرجاری کرنے کا طالبہ کیا گیا تھا ۔ اس پر اسپیکر اسد قیصر نے مؤقف اختیار کیا کہ ریاست کے خلاف سرگرمیوں میں ملوث ارکان کے پروڈکشن آرڈر جاری نہیں کر سکتا۔

ن لیگی رہنماء پر الزام ہے کہ انہوں نے راولپنڈی ٹرمینل ایل۔این۔جی کا ٹھیکہ اپنی من پسند کمپنی کو دیا ہے جس کے باعث قومی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان ہوا- شاہد خاقان عباسی پر بدعنوانی اور اختیارات کے ناجائز استعمال کا الزام بھی ہے-

شاہد خاقان پر یہ بھی الزام ہے کہ ایل-این-جی کے 220 ارب کے ٹھیکے میں وہ خود بھی حصےدار ہیں اور ان کا نام ای-سی-ایل میں بھی شامل ہے- شاہد خاقان عباسی مسلم (ن) کے دورِ حکومت میں پہلے وزیر پیٹرولیم رہے جبکہ پاناما کیس میں میاں نوازشریف کی نااہلی کے بعد انہیں پارٹی کی جانب سے وزیراعظم پاکستان بنایا گیا۔