
اسلام آباد:پاک چین تعاون خطے کی ترقی اور روشن مستقبل کی ضمانت ہے، دونوں ممالک کی دوستی کی اپنی تاریخ ہے لیکن لمحہ حاضر میں باہمی تعاون ایک نئے دور کی بنیاد رکھ رہا ہے جو دنیا کی معیشت میں ایک مثبت تبدیلی لائے گا اور خطے کے ساتھ ساتھ دونوں ممالک اور ان کی عوام کی خوشحالی کا ضامن ہو گا۔ پاک چین باہمی تعاون خطے میں امن کے فروغ کے لئے بھی نمایاں کردار ادا کر رہا ہے۔ مضبوط چین اور پاکستان دنیا کے امن کا ضامن ہے۔ جبکہ بھارت خطے میں اپنی مذموم حرکات سے خطے کا امن تباہ کر رہا ہے اور سی پیک کو ناکام کرنے کے لئے اپنا زور لگا رہا ہے۔ ان خیالات کا اظہا ر مقررین نے ”پاک چین تعاون اور خطے کا مستقبل“ کے عنوان سے تحقیقی ادارے مسلم انسٹی ٹیوٹ کے زیر اہتمام سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ مقررین میں چائنہ کے سیکنڈ سیکرٹری پروفیسر ڈاکٹر شن جی جنگ، ین اکیڈمی آف سوشل سائنسز چین کی ڈائریکٹر یی ریفنگ، ین یونیورسٹی کے وائس پریزیڈنٹ شن ین ینگ، ین اکیڈمی آف پاکستان ریسرث کے ڈائریکٹر لی من، پاکستان سے سابق سیکرٹری برائے امورِ خارجہ اور سابق سفیر ریاض محمد خان، ڈین سوشل سائنسز ائیر یونیورسٹی ڈاکٹر وسیمہ شہزاد، بریگیڈیئر ریٹائرڈ عبدالرحمن بلال اور چیئرمین مسلم انسٹیٹیوٹ صاحبزادہ سلطان احمد علی شامل تھے۔ مقررین نے کہا کہ پاک چین باہمی تعاون کی زندہ اور عمدہ مثال سی پیک اور ون بیلٹ ون روڈ منصوبہ ہے جس سے علاقائی تجارت، ثقافت سمیت تمام شعبہ جات مین ترقی کا سفر شروع ہو چکا ہے گو کہ زبان اور ثقافت میں دونوں ممالک کے بہت فرق ہے لیکن اس کے باوجود دونوں ممالک کے لوگ ایک دوسرے سے دور نہیں بلکہ پاکستان کے طلباء چائنیز زبان اور چین کے لوگ اردو تیزی سے سیکھ رہے ہیں۔ مقررین نے کہا کہ یہ تعاون صرف زمینی نہیں بلکہ سمندر اور سمندری راستوں پر بھی ہے، صرف گوادر پورٹ کی بات نہیں بلکہ پاکستان کے پاس گیارہ سو کلومیٹر طویل ساحلی پٹی ہے جس سے بہت فائدہ اٹھا یا جا سکتا ہے اس کو سامنے رکھتے ہوئے ہمیں بیرونی سرماییہ کاروں کو ترغیب دینے کی ضرورت ہے۔ سی پیک صرف مواصلاتی راستہ نہیں بلکہ یہ معاشی، ثقافتی، تعلیمی راستہ ہے اس کا دفاع ہر محاذ پر بہت ضروری ہے کیونکہ بھارت نہیں چاہتا کہ یہ کامیاب ہو کیونکہ اس سے پاکستان کی غربت ختم ہو گی پاکستان اور چین کو بھارتی رویوں اور اکھنڈ بھارت اور ہندواتوا کو سنجیدگی سے لینا ہو گا اور علاقائی امن کے لئے کشمیر کے مسئلے کا حل نکالنا ہو گا کیونکہ مسئلہ کشمیر کے حل کے بغیر خطے کا پر امن ہونا بہت مشکل ہے۔ یہ تعاون صرف چین اور پاکستان کے مابین نہیں ہے بلکہ مستقبل قریب میں اس کے اثرات سنٹرل ایشیا سے ہوتے ہو یورپ تک جائیں گے اور پوری دنیا میں معاشی انقلاب برپا ہو گا۔مقررین نے کہا کہ پاک چین تعاون کی بنیاد بہت مضبوط ہے لیکن اس وقت یہ ایک نئے عہد میں داخل ہو رہے دونوں ممالک کے سفارتی تعلقات، اور دفاعی امور بھی مضبوط ہو رہے ہیں اس کے ساتھ ساتھ علاقائی دفاع بھی ناقابل تسخیر ہوتا جا رہا ہے۔



