اسلام آباد ہائی کورٹ نے طویل سماعت کے بعد انسانی بنیادوں پر سابق وزیراعظم نوازشریف کی ضمانت منظور کر لی

سابق وزیر اعظم  کو العزیزیہ ریفرنس کیس میں ضمانت نہ ملنے کےسبب رہا نہیں کیا جاسکا تھا—فائل فوٹو: ٹوئٹر

اسلام آباد ہائی کورٹ نے العزیزیہ ریفرنس میں سابق وزیراعظم نواز شریف کی منگل تک کے لیے انسانی بنیادوں پر عبوری ضمانت منظور کرلی ہے۔

چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس اطہر من اللہ کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے سماعت کی،

اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس عامر فاروق کو چھٹی پر ہونے کے باعث اس بینچ کا حصہ نہیں ہیں۔

دوران سماعت عدالت کے روبرو وفاقی حکومت نے سابق وزیراعظم نواز شریف کی ذمہ داری لینے سے انکار کردیا۔

ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل نیب نے عدالت کو بتایا کہ انسانی بنیادوں پر نواز شریف کی ضمانت کی درخواست پر اعتراض نہیں ہے۔

شہباز شریف کی جانب سے 24 اکتوبر کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں نواز شریف کی سزا معطلی کی درخواست دائر کی گئی تھی اور استدعا کی تھی کہ اپیل پر فیصلہ ہونے تک طبی بنیادوں پر نواز شریف کو ضمانت پر رہا کیا جائے۔

درخواست میں استدعا کی گئی تھی کہ نواز شریف کو ان کی مرضی کے مطابق پاکستان میں یا بیرونِ ملک علاج کروانے کی اجازت دی جائے۔ ساتھ ہی درخواست میں چیئرمین اور ڈائریکٹر جنرل نیب کو فریق بنایا گیا جبکہ اس کے ساتھ نواز شریف کی میڈیکل ہسٹری بھی فراہم کی گئی تھی۔

اس معاملے پر گزشتہ روز بھی سماعت ہوئی تھی اور مزید سماعت منگل (29 اکتوبر) تک ملتوی کردی گئی تھی۔

تاہم سابق وزیراعظم نواز شریف کی بگڑتی صحت کو دیکھتے ہوئے شہباز شریف نے اپنے وکیل خواجہ حارث کے توسط سے سزا معطلی کی سماعت آج (ہفتے) کو ہی کرنے کی ایک متفرق درخواست دائر کردی تھی۔

سماعت کے لیے دائر کی گئی درخواست کے ساتھ نوازشریف کی تمام بیماریوں کی تفیصلات اور ان کی میڈیکل رپورٹس بھی منسلک کی گئی تھیں، جس کو دیکھتے ہوئے عدالت نے اس معاملے کو آج ہی سماعت کے لیے مقرر کیا۔

آج ہونے والی سماعت کے دوران نواز شریف کی نمائندگی کرنے والے وکیل خواجہ حارث نے عدالت کو بتایا کہ ‘نواز شریف کو گزشتہ رات معمولی ہارٹ اٹیک ہوا، کل کے بعد سے ان کی طبیعت مزید خراب ہوئی ہے اور نواز شریف کی جان کو خطرہ ہے‘۔

سماعت کے دوران جسٹس محسن اختر کیانی نے پوچھا کہ کل جو میڈیکل رپورٹ جمع کروائی اس کے بعد طبیعت کی صورتحال کیا ہے کہ درخواست دائر کرنی پڑی، کل میڈیکل رپورٹ کھولی گئی، پڑھی گئی، آج کی نوبت کیوں آئی۔

اس موقع پر چیف جسٹس اطہر من اللہ نے پوچھا کہ اگر طبیعت انتہائی تشویش ناک ہے تو اس بارے میں آگاہ کیجیے۔ انہوں نے کہا کہ کل جو رپورٹ  پیش کی گئی اس کے علاوہ اگر کوئی رپورٹ ہے جس میں ان کی طبیعت کی صورتحال بیان کی گئی ہو تو بتائیے۔

اس پر وکیل صفائی نے بتایا کہ کل جو رپورٹ پیس کی گئی وہ 24 اکتوبر کی تھی، رپورٹ میں بتایا گیا کہ نواز شریف کو معمولی نوعیت کا ہارٹ اٹیک ہوا۔

عدالت میں وکلا کی جانب سے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کی نقل عدالت میں پیش کی گئی، جس پر چیف جسٹس اطہر من اللہ نے استفسار کیا کہ کیا فریقین نے مخالفت کی، جس پر وکیل نے بتایا کہ زیادہ مخالفت نہیں کی۔

سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ڈویژن بینچ نے اس معاملے کو منگل کے لیے رکھا ہے، تاہم انہوں نے کہا کہ سزا یافتہ قیدی کی طبیعت اگر ناساز ہے تو صوبائی حکومت کو اختیار ہے کہ وہ سزا معطل کرسکتی ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ایسی صورت میں معاملہ عدالت میں نہیں آنا چاہیے، فریقین اور پنجاب حکومت کو بلاکر پوچھ لیتے ہیں۔

عدالت نے ریمارکس دیے کہ میڈیکل بورڈ کی رپورٹ میں بھی تحریر ہے کہ نواز شریف کی طبیعت تشویش ناک ہے۔

علاوہ ازیں عدالت نے دوران سماعت ریمارکس دیے کہ رجسٹرار آفس نے بتایا کہ ٹی وی چینلز پر ڈیل سے متعلق خبریں نشر کی گئیں۔

اس پر عدالت نے متعلقہ چینلز اور اینکرز کو توہین عدالت کے نوٹسز جاری کردیے۔

عدالت عالیہ نے چیئرمین پیمرا، 2 ٹی وی پروگرامز ’بریکنگ نیوز ود مالک‘ اور اینکر سمیع ابراہیم کو نوٹس جاری کیے، ساتھ ہی پروگرام میں شرکت کرنے والے عامر متین، کاشف عباسی اور حامد میر کو بھی نوٹس جاری کردیے گئے۔

ساتھ ہی عدالت نے وزیراعظم پاکستان، وزیراعلیٰ پنجاب اور چیئرمین نیب کو نوٹس جاری کرتے ہوئے کہا کہ آج ہی کوئی نمائندہ مقرر کرکے 4 بجے تک عدالت بھجوائیں۔

بعد ازاں 4 بجے کیس کی سماعت دوبارہ شروع ہوئی تو چیف جسٹس اطہر من اللہ نے پوچھا کہ اینکرپرسنز عدالت آئے ہوئے ہیں، روسٹرم پر آجائیں، جس پر تمام اینکرز پیش ہوئے۔

اس دوران جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ آپ تمام اینکرہمارے لیے قابل احترام ہیں، بڑی معذرت سے آپ کو بلایا ہے، عدالت نے بہت تحمل کا مظاہرہ کیا، جب ڈیل کی باتیں ہوتی ہیں تو بات عدلیہ پر آتی ہے۔

انہوں نے ریمارکس دیے کہ کیس بعد میں عدالت میں آتا ہے اور میڈیا ٹرائل پہلے ہوجاتا ہے، جس کا دباؤ عدالت پر آتا ہے، ججز سے متعلق بھی سوشل میڈیا پر ان کا ٹرائل شروع ہو جاتا ہے۔

عدالت عالیہ کے چیف جسٹس نے کہا کہ سمیع ابراہیم نے وثوق سے کہا کہ ڈیل ہو گئی ہے، ہمیں ابھی یہ بھی نہیں معلوم کہ آج کی سماعت کا کیا آرڈر ہوگا ساتھ ہی انہوں نے پوچھا کہ کیا وزیراعظم اورعدلیہ اس ڈیل کا حصہ ہیں؟

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ ہائی کورٹ کے کسی جج تک رسائی نہیں، ایسی باتیں انہیں متنازع بناتی ہیں، آپ اس حوالے سے جواب جمع کرا دیں۔

دوران سماعت چیئرمین پیمرا کی جانب سے ان کے نمائندےعدالت میں پیش ہوئے، جس پر جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ آپ روز پروگرام دیکھتے ہیں؟ انجوائے کرتے ہوں گے کہ عدلیہ پر کیچڑ اچھالا جا رہا ہے، ریڑھی والے کی زبان ٹی وی پر استعمال ہو رہی ہوتی ہے، قرآن پڑھا ہے؟ اس میں حکم ہے کہ سنی سنائی بات آگے نہ پھیلانے دیں۔

ساتھ ہی چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ آپ عسکری اداروں اور منتخب وزیراعظم کو بھی بدنام ہونے دے رہے ہیں۔

اسی دوران اینکر محمد مالک نےکہا کہ میڈیا نے اس ملک کو تباہ نہیں کیا، جس پر جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے کہ یہ بات پیمرا کے بارے میں کی جا رہی ہے۔

ساتھ ہی چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے ریمارکس دیے کہ اس ملک کی تباہی میں ہر ایک کا کردار ہے، آپ بتائیں کہ کیا پیمرا اپنی ذمہ داریاں بخوبی سرانجام دے رہا ہے؟۔

اس موقع پر صحافی حامد میر نے بتایا کہ ‘مجھے نامعلوم نمبر سے کال آئی تھی کہ آپ کو بلایا گیا ہے’، میں نے پروگرام میں ڈیل کی کوئی بات ہی نہیں کی، اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ میں آپ کو ذاتی طور پر جانتا ہوں، آپ نے وکلا تحریک میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

سماعت کے دوران ہی اینکر عامر متین نے بتایا کہ میڈیا کی خرابی کی بات کرنے کے بجائے واضح بات کرنی چاہئے کہ کس نے کیا غلط بات کی، اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ عدالت سیاسی معاملات میں الجھنا نہیں چاہتی۔ سیاست دانوں کے کیسز پر قانون کے مطابق کارروائی ہوتی ہے۔

اس موقع پر سیکریٹری داخلہ اور ایڈیشنل اٹارنی جنرل طارق کھوکھر روسٹرم پر آئے، جس کے بعد چیف جسٹس اطہر من اللہ نے پوچھا کہ کیا سیکریٹری داخلہ درخواست ضمانت کی مخالفت کرتے ہیں؟ آپ لوگوں کو میڈیکل بورڈ کی رپورٹس موصول ہو رہی ہیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ کیا یہ عدالتی فیصلہ آپ کے سامنے رکھا گیا؟، ساتھ ہی عدالت نے انہیں پریزن رولز پڑھنے کی ہدایت کردی۔

عدالت عالیہ کے چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ طبی بنیادوں پر ضمانت کا کیس عدالت میں آنا ہی نہیں چاہیے، طبی بنیادوں پر ضمانت کا اختیارحکومت کا ہے۔

دوران سماعت عدالت عالیہ نے استفسار کیا کہ پنجاب حکومت کے نمائندے کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب حکومت نے جیل میں تمام بیمار قیدیوں کا معلوم کیا؟ آپ نے میڈیکل بورڈ مقرر کیا جس نے کہا کہ نواز شریف کی حالت تشویشناک ہے، میڈیکل بورڈ نے کہا کہ بیماری جان لیوا ہے۔

ساتھ ہی عدالت نے عدالت میں نیب کی نمائندگی کرنے والے پراسیکیوٹر جنرل کو ہدایت کی کہ وہ آدھے گھنٹے میں چیئرمین نیب سے پوچھ کر بتائیں کہ وہ ضمانت کی مخالفت کریں گے یا بیان حلفی جمع کروائیں گے۔

بعد ازاں مختصر وقفے کے بعد کیس کی سماعت دوبارہ شروع ہوئی تو عدالت عالیہ کے چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اگر حکومت درخواست ضمانت کی مخالفت کرے گی تو ہم ضمانت مسترد کردیں گے لیکن اس دوران نواز شریف کو اگر کچھ ہوا تو ذمہ دار نیب اور حکومت ہوگی۔

چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیے کہ حکومتی وزرا تمام ذمہ داری عدالتوں پر ڈالنے کے بیان دے رہے ہیں۔

ساتھ ہی عدالت نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے کہا کہ آپ صرف ہاں یا ناں میں جواب دیں، جس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ اس تمام معاملے میں وفاقی حکومت کا کوئی کردار نہیں ہے۔

اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ آپ جذباتی نہ ہوں، صرف مخالفت کریں اور ذمہ داری لیں یا مخالفت نہ کریں۔

چیف جسٹس ہائی کورٹ نے پوچھا کہ کیا آپ ضمانت کی مخالفت کرتے ہیں؟جس پر سیکریٹری داخلہ نے کہا کہ اس وقت ہم کوئی بیان نہیں دے سکتے۔جس پر چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ تمام ذمہ داری عدالت کے کندھوں پر نہ ڈالیں، اگر آپ مطمئن ہیں کہ منگل تک نواز شریف کو کچھ نہیں ہو گا تو پھر ذمہ داری لیں۔

اس پر سیکریٹری داخلہ نے کہا کہ ہم کوئی ذمہ داری نہیں لے سکتے، آپ درخواست کا میرٹ پر فیصلہ کردیں، جس پر جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ ملک بھر کے تمام شہریوں کی ذمہ داری ریاست کی ہے، آپ کہہ رہے ہیں کہ ریاست اور صوبائی حکومت ناکام ہوچکی ہے۔

دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ آپ کے کسی آدمی نے حکومتی ترجمان کو عدالتی فیصلے نہیں دیے کہ وہ اس کو پڑھ کر بیانات دیں، آپ قانون کے مطابق اپنی ذمہ داریاں پوری کیوں نہیں کر رہے۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ قانون پر عمل درآمد خالصتاً پنجاب حکومت کی ذمہ داری تھی، ساتھ ہی جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ ایسا کوئی قیدی جس کی جان کو خطرہ ہے اس کا کیس صوبائی حکومت خود آگے بڑھا کر مچلکوں پر ضمانت دے سکتی ہے۔

جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے کہ نیب کی سزا تو 14 سال قید تک ہوتی ہے مگر سزائے موت کے قیدیوں کو بھی انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ضمانت دی جا سکتی ہے۔

اس دوران چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ اگر آپ تینوں بیان حلفی نہیں دے رہے تو پھر یقیناً کہیں کچھ غلط ضرور ہے، جس پر ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب قاسم چوہان نے کہ ہم ابھی ہاں یا نا کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں بلکہ ‘ہوسکتا ہے’ (may be zone) میں ہیں۔

اس پر چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ یہ عدالت کوئی ذمہ داری نہیں لے گی، ہم کوئی دلائل نہیں سنے گے، پہلے کوئی بندہ ذمہ داری لے پنجاب حکومت ذمہ داری نہیں لے رہی،جس پر ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے کہا کہ وزیراعلی پنجاب سے رابطہ کرنے کی اجازت دی جائے، جس پر کیس کی سماعت میں آدھے گھنٹے کا وقفہ کردیا گیا۔

وقفے کے بعد ایک بار پٌھر سماعت ہوئی تو عدالت نے کہا کہ ہم وفاقی حکومت اور صوبائی حکومت کو ہدایات جاری کر رہے ہیں جبکہ وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار، وزیر اعظم عمران خان اور چیئرمین نیب جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال اس معاملے پر فیصلہ کریں۔

اس موقع پر ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل نیب نے کہا کہ انسانی بنیادوں پر ہمیں نواز شریف کی ضمانت کی درخواست پر کوئی اعتراض نہیں۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے کہ ہم نے پہلے آپ سے کہا کہ عدالت کے ساتھ فئیر رہیں۔

اس سے قبل گزشتہ روز اسلام آباد ہائی کورٹ میں ہونے والی سماعت میں جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے تھے کہ مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کو قانونی طور پر ضمانت نہیں مل سکتی لیکن طبی بنیادوں پر ہم رہائی کی درخواست کو دیکھ رہے ہیں۔

سماعت میں نواز شریف کے وکلا اور معالج نے عدالت کو بتایا تھا کہ سابق وزیراعظم کو متعدد بیماریاں لاحق ہیں جبکہ ان کی صحت کی صورتحال بھی خطرناک ہے۔

واضح رہے کہ سابق وزیراعلی پنجاب شہباز شریف نے 24 اکتوبر کو ہی لاہور ہائی کورٹ میں ایک الگ درخواست دائر کی تھی، جس میں چوہدری شوگر ملز کیس میں نواز شریف کی طبی بنیادوں پر ضمانت کی استدعا کی گئی تھی۔

بعد ازاں 25 اکتوبر کو لاہور ہائی کورٹ نے چوہدری شوگر ملز کیس میں نواز شریف کی طبی بنیادوں پر درخواست ضمانت منظور کرتے ہوئے انہیں ایک کروڑ روپے کے 2 ضمانتی مچلکے جمع کروانے کا حکم دیا تھا۔