دنیا بھر کے 11 ہزار سائنسدانوں نے ماحولیاتی ایمرجنسی کا اعلان کردیا

دنیا بھر کے 11 ہزار سائنسدانوں نے ماحولیاتی ایمرجنسی کا اعلان کردیا

دنیا بھر کے 11؍ ہزار سے زائد سائنسدانوں نے اپنے دستخط کے ساتھ دنیا کو ایک کھلا خط لکھا ہے جس میں اہم پیغام دیا گیا ہے کہ اگر ہم نے اپنی زندگیوں میں تیزی کے ساتھ پائیدار اور پر اثر اقدامات نہ کیے تو جلد ہی ہمیں ایسے حالات کا سامنا کرنا پڑے گا جو ناقابل بیان ہو سکتے ہیں۔

40؍ سال سے دنیا کے سائنسدان ماحولیاتی بحران کے متلق خبردار کرتے آ رہے ہیں لیکن ان کی چیخ و پکار پر کسی نے دھیان دیا اور نہ ہی دنیا نے اپنے رویے میں کوئی تبدیلی پیدا کی۔

لیکن اب سائنسدانوں نے گلوبل ایمرجنسی کا اعلان کرتے ہوئے بتایا ہے کہ اب ہمارے پاس کوئی موقع نہیں بچا کیونکہ آہستہ آہستہ دنیا کو بچانے کے آپشنز معدوم ہوتے جا رہے ہیں۔

یونیورسٹی آف سڈنی سے تعلق رکھنے والے ماحولیاتی ماہر پروفیسر تھامس نیوسم کا کہنا ہے کہ سائنسدانوں کا یہ اخلاقی فرض ہے کہ وہ دنیا کو درپیش خطرات سے آگاہ کریں اور تازہ ترین اعداد و شمار سے واضح ہو جاتا ہے کہ ہمیں کلائمیٹ ایمرجنسی کا سامنا ہے۔

ڈاکٹر تھامس نیوسم اور ان کے ساتھیوں کی جانب سے لکھے گئے مقالے میں گزشتہ دہائیوں کے ماحولیاتی اعداد و شمار کا موازنہ پیش کیا گیا ہے جس میں توانائی کے استعمال، زمین کے سطحی درجہ حرارت، آبادی، جنگلات کی کٹائی، قطبی برف کے ذخائر اور ان میں ہونے والی کمی، شرح پیدائش میں کمی اور ماحول دشمن گیسوں کے اخراجات کے اعداد و شمار شامل ہیں۔