بھارت نابینا اساتذہ کئی ماہ تک معذور طالبہ کا ریپ کرتے رہے

بھارت کی ریاست گجرات میں بصارت سے محرم 2 اساتذہ پر کئی ماہ تک 15 سالہ معذور طالبہ کے ساتھ مبینہ طور پر ریپ کرنے کا الزام لگایا گیا ہے۔

ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق طالبہ، امباجی ٹاؤن میں ایک نجی ٹرسٹ کے تحت چلنے والے اسکول میں زیر تعلیم تھیں، جہاں لڑکی کو گزشتہ کئی ماہ کے دوران متعدد مرتبہ ریپ کا نشانہ بنایا گیا۔

گزشتہ ماہ دیوالی کے موقع پر متاثرہ طالبہ اسکول سے ضلع رادھن پور تلوکا کے گاؤں پریم نگر میں اپنی خالہ کے پاس گئیں تھیں اور تعطیلات ختم ہونے کے باوجود جب طالبہ نے اسکول جانے سے انکار کیا تو ان کے اہل خانہ کو تشویش ہوئی۔

جس پر اہل خانہ نے لڑکی سے اسکول نہ جانے کی وجہ پوچھی تو طالبہ نے گزشتہ کئی ماہ سے ان کے ساتھ ہونے والے ریپ کے واقعات سے اپنی خالہ کو آگاہ کیا۔

بعد ازاں پولیس نے واقعے کے حوالے سے درج مقدمے میں دونوں اساتذہ کو نامزد کرلیا، ملزمان میں 62 سالہ چمن ٹھاکر اور 30 سالہ جیانتی ٹھاکر شامل ہیں اور دونوں ملزمان بھی بصارت سے محروم ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا گہ طالبہ آٹھویں جماعت کی طالبہ ہے اور موسیقی کی تعلیم حاصل کرنے کے لیے انہوں نے رواں سال جولائی میں نجی ٹرسٹ کے تحت چلنے والے ادارے میں داخلہ لیا تھا، مذکورہ اسکول میں معذور طلبا کو مختلف قسم کے ہنر بھی سیکھائے جاتے ہیں۔

متاثرہ لڑکی مذکورہ اسکول کے ہاسٹل میں ہی قیام پذیر تھیں۔

4 نومبر کو متاثرہ لڑکی کی خالہ کی جانب سے درج کروائی گئی شکایت میں بتایا گیا کہ طالبہ کو پہلی مرتبہ دو ماہ قبل جیانتی ٹھاکر نامی استاد نے موسیقی کی کلاس میں ہی ریپ کا نشانہ بنایا تھا، جس کے بعد چمن نامی استاد نے اسی کلاس میں 3 روز بعد طالبہ کا مبینہ طور پر ریپ کیا۔

علاوہ ازیں جیانتی پر طالبہ کو ایک مرتبہ پھر ناوراتری فیسٹول سے ایک روز قبل بھی ریپ کرنے کا الزام لگایا گیا۔

طالبہ نے بتایا کہ انہوں نے اسکول کے دیگر 3 اساتذہ کو ریپ کے واقعے کے حوالے سے آگاہ کیا تھا جس کے بعد ان کے ساتھ ریپ کے واقعات نہیں ہوئے۔

پولیس انسپکٹر جے بی اگروات کا کہنا تھا کہ ‘ہم واقعے کی تحقیقات کررہے ہیں اور فرار ہونے والے دونوں اساتذہ کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جارہے ہیں’۔

واضح رہے کہ پولیس کی جانب سے لڑکی کی شکایت پر دونوں اساتذہ کے خلاف رپورٹ درج کیے جانے کے بعد اسکول کی انتظامیہ نے اساتذہ کو نوکری سے نکال دیا تھا۔