
امریکہ میں درجنوں خواتین کو ان کی مرضی کے بغیر بانجھ بنانے کے الزام میں گرفتار کیے جانے والے ڈاکٹر کو عدالت میں پیش کر دیا گیا ہے۔
پاکستانی نژاد امریکی 69 سالہ ڈاکٹر جاوید پرویز کو گذشتہ روز امریکی ریاست ورجینیا کی ایک وفاقی عدالت میں پیش کیا گیا تھا۔ امریکی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی کے مطابق وہ اپنے مریضوں کی ’اجازت کے بغیر غیر ضروری‘ سرجریاں کرتے تھے۔
ایف بی آئی کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر پرویز نے گائنا کالوجسٹ ہوتے ہوئے خواتین سے ان کی صحت کے متعلق جھوٹ بولا اور نقصان پہنچایا۔ تاحال ان کے وکیل نے ان الزامات کا جواب نہیں دیا ہے۔
ڈاکٹر جاوید پرویز کو آٹھ نومبر کو گرفتار کیا گیا تھا اور اس کے بعد سے اب تک 126 سے زیادہ خواتین ان کے رویے کے خلاف شکایت درج کروانے کے لیے رابطہ کر چکی ہیں۔
جمعرات کو ایک امریکی جج نے حکم دیا ہے کہ ڈاکٹر پرویز کو ان کے خلاف مقدمے کے آغاز سے قبل حراست میں لیا جائے۔
الزامات کیا ہیں؟
ایف بی آئی کے وارنٹ گرفتاری کے مطابق ڈاکٹر پرویز اپنے مریضوں سے اجازت لیے یا انھیں بتائے بغیر ان پر غیر ضروری سرجریاں کرتے تھے۔
ان میں ہسٹریکٹومیز (بچہ دانی کا آپریشن)، ٹوبل لگاشنز (مستقل مانع حمل)، ڈائلیشن اور کیوریٹج جیسی سرجریاں شامل ہیں۔
ڈاکٹر پرویز کے ورجینیا کے شہر چزاپیک میں دو دفاتر ہیں اور وہ دو ہسپتالوں میں مریضوں کو داخل کروا سکتے ہیں۔
ان کے خلاف شکایت کے مطابق ڈاکٹر پرویز نے سنہ 2014 سے 2018 تک 40 فیصد ایسی خواتین کا آپریشن کیا جن کے پاس حکومتی میڈیکل انشورنس ’میڈیکیڈ‘ تھی۔ یہ وہ انشورس ہے جو امریکہ میں کم آمدنی والے شہریوں کی دی جاتی ہے۔
ان 510 مریضوں میں سے 42 فیصد پر کم از کم دو مرتبہ سرجری کی گئی۔
ایف بی آئی کو ستمبر سنہ 2018 میں پہلی بار اس بارے میں اطلاع دی گئی جب ہسپتال کے ایک ملازم نے یہ بات ڈاکٹر پرویز کے مریضوں سے سنی تھی۔
ایف بی آئی کے مطابق ایک خاتون کو کئی سال بعد یہ معلوم ہوا کہ سرجری کی وجہ سے اب وہ قدرتی طور پر حاملہ نہیں ہو سکتیں۔ انڈو مٹریوسز کی سرجری میں ان کی دونوں فیلوپین ٹیوبز کو نقصان پہنچا تھا جس سے وہ بانجھ پن کا شکار ہوگئیں۔
ایک دوسری مریضہ نے اپنی دونوں بیضہ دانیاں نکلوانے کے لیے رضا مندی ظاہر کی تھی لیکن ڈاکٹر پرویز نے ان پر ایبڈومینل ہسٹریکٹومی کا آپریشن کر دیا جس سے ان کے مثانے میں سوراخ ہو گئے اور ٹشو میں جراثیم داخل ہو گئے۔ اس وجہ سے انھیں تقریباً ایک ہفتے کے لیے ہسپتال میں رہنا پڑا۔

ایف بی آئی کے اہلکار ڈیزئرے میکسویل نے دستاویزات میں لکھا ’گواہان نے الزام عائد کیا ہے کہ ڈاکٹر پرویز کئی بار کینسر کا لفظ استعمال کر کے مریضوں کو ڈرایا کرتے تھے تاکہ وہ سرجری کروانے کے لیے رضامند ہو جائیں۔‘
ڈاکٹر پرویز آبائی طور پر پاکستان سے تعلق رکھتے ہیں اور انھوں نے یہیں کے ایک میڈیکل کالج سے تعلیم حاصل کی تھی۔ انھوں نے سنہ 1980 میں ورجینیا سے اپنا میڈیکل لائسنس حاصل کیا۔ استغاثہ کے مطابق ماضی میں بھی ان کے ساتھ نظم و ضبط کے مسائل رہے ہیں۔
سنہ 1982 میں ان سے ’ناقص طبی فیصلے کی وجہ سے‘ ریاست میری لینڈ کے ایک ہسپتال کی رسائی واپس لے لی گئی تھی۔
ایف بی آئی کے مطابق ورجینیا بورڈ آف میڈینس نے ان کی ’مناسب علامات اور بہتر طبی فیصلے کے بغیر‘ سرجریاں کرنے پر جانچ پڑتال کی تھی۔
انھوں نے سنہ 1996 میں ٹیکس چوری کا جرم قبول کیا تھا جس کے بعد دو سال کے لیے ان کا میڈیکل لائسنس منسوخ کر دیا گیا تھا۔




