
سابق صدر آصف علی زرداری نے اپنے وکیل فاروق ایچ نائیک کے ذریعے اسلام آباد ہائی کورٹ میں طبی بنیادوں پر درخواستِ ضمانت دائر کردی ہے‘درخواست میں قومی احتساب بیورو (نیب) اور احتساب عدالت نمبر 2 کو فریق بنایا گیا ہے. آصف علی زرداری نے اپنی درخواستِ ضمانت میں موقف اختیار کیا ہے کہ مجھے دل کی بیماری لاحق ہے اور 3 اسٹنٹ بھی ڈالے جا چکے ہیں اس کے علاوہ شوگر کا مرض ہے اور شوگر لیول کنٹرول کرنے کے لیے مستقل علاج کی ضرورت ہے.منگل کے روز اسلام آباد ہائی کورٹ میں فریال تالپورکی جانب سے بھی درخواست ضمانت دائر کردی گئی ہے.
آصف زردرای کی جانب سے پارک لین اورمنی لانڈرنگ میں الگ الگ درخواست ضمانت دائرکی گئی ہے درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ ٹرائل مکمل ہونے تک درخواست ضمانت منظور کی جائے. فریال تالپور نے درخواست میں موقف اختیار کیا ہے کہ اسپیشل بچی کی والدہ ہوں، اس کی دیکھ بھال کیلئے ضمانت منظور کی جائے،نیب نے بد نیتی سے مجھے ملزم نامزد کیا، مقدمے کی اصل ایف آئی آر میں مجھے نامزد نہیں کیا گیا تھا.آصف زرداری کی درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ درخواست گزار مختلف قسم کی بیماریوں کا شکار ہے اور انھیں24 گھنٹے طبی امداد کی ضرورت ہوتی ہے‘درخواست میں استدعا کی گئی عدالت طبی حالات کی سنگینی کے پیش نظر درخواست ضمانت منظور کرے، دائر درخواست میں وفاقی حکومت اور دیگر کو فریق بنایا گیا ہے.دوسری جانب سابق صدر آصف علی زرداری اور فریال تالپور کی جانب سے ضمانت بعد از گرفتاری کی درخواست بھی دائر کی گئی‘بعد ازاں آصف زرداری کی درخواست ضمانت پررجسٹرار اسلام آباد ہائی کورٹ نے اعتراضات لگادیے، جس میں کہا درخواست کے ساتھ منسلک میڈیکل رپورٹ کی کاپیاں آدھی کٹی ہوئی ہیں اور سابق صدراور فریال تالپور کے وکیل کورجسٹرارآفس میں طلب کرلیا گیا ہے‘آصف زرداری اورفریال تالپورنے آج ہی درخواستوں پرسماعت کی استدعاکررکھی ہے.یاد رہے کہ گزشتہ روز پیپلز پارٹی نے آصف زرداری کی طبی بنیادوں پر ضمانت کرانے کا اعلان کیا تھا، چیئرمین پی پی بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ طبی بنیادوں پر آصف زرداری کی ضمانت کے لیے جلد درخواست دائر کی جائے گی‘ بلاول بھٹو زرداری نے کہا تھا کہ والد آصف علی زرداری کو بہنوں نے طبی بنیادوں پر ضمانت کی درخواست دائر کرنے پر راضی کر لیا ہے‘واضح رہے کہ سابق صدر آصف علی زرداری اسلام آباد کے پمز ہسپتال میں زیرِ علاج ہیں.




