مظفرآباد: آزاد جموں و کشمیر کے صدر سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ بھارت نے کشمیریوں کو دیوار کے ساتھ لگا دیا ہے اب اُن کے پاس لڑنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے ۔
آج مقبوضہ جموں و کشمیر میں دس اور بارہ سال کا بچہ بھی اپنی ماں اور بہن کی عزت بچانے کے لیے بندوق بردار بھارتی فوجی کے سامنے کھڑا ہو کر لڑنے اور مرنے کے لیے تیار ہے جو کشمیریوں کے عزم و حوصلے کو ظاہر کر رہا ہے ۔
دنیا میں انسانیت اور انسانی اقدار پر یقین رکھنے والے عوام پارلیمینٹرین اور ذرائع ابلاغ کشمیریوں کی حمایت میں بول رہے ہیں لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ دنیا کے اہم ممالک کی حکومتیں ، مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی حکومت کے ظالمانہ اقدامات ، انسانی حقوق کی پامالیوں اور کشمیریوں کی نسل کشی کے خلاف آواز بلند کریں ۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایوان صدر مظفرآباد میں فرینڈز آف کشمیر کینیڈا کے کنوینیئر ڈاکٹر ظفر بنگش کی قیادت میں کنیڈین وفد کے ارکان سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔
صدر سردار مسعود خان نے کہا کہ اس سال پانچ اگست کے بعد بھارت نے مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے جو اقدامات اُٹھائے ہیں اسے بین الاقوامی برادری خاص طور پر میڈیا نے مسترد کر دیا ہے ۔
بین الاقوامی میڈیا ایک تسلسل کے ساتھ کشمیر کے بارے میں بھارتی موقف کو مسترد کرتے ہوئے کشمیر میں رونما ہونے والے واقعات کو ان کے درست تناظرمیں پیش کر کے بھارت کے جھوٹ اور فریب پر مبنی بیانیہ کو بے نقاب کر رہا ہے ۔
اُنہوں نے کہا کہ برطانیہ ، یورپ ، فرانس سمیت دنیا کی اہم پارلیمانز نے بھی نہ صرف کشمیریوں کے حقوق کے لیے آواز بلند کی بلکہ مقبوضہ کشمیر میںبھارت کے ظلم اور انسانی حقوق کی پامالیوں پر بھی کھل کر تنقید کی ۔
صدر آزاد کشمیر نے کہا کہ بھارت کی موجودہ انتہا پسند حکومت نے آئین کی دفعہ 370 اور 35 اے کا خاتمہ کر کے مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کے تعلیم ، ملازمت ، جائیدار کی خریدوفروخت اور مستقل سکونت جیسے بنیادی حقوق چھین لیے ہیں۔
اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی کی قیادت میں قائم حکومت اسرائیلی طرز پر مقبوضہ کشمیر میں ہندو آبادیاں تعمیر کرکے وہاں غیر کشمیری ہندووں اور سابق فوجیوں کو آباد کر کے مسلمانوں کی اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو بین الاقوامی قانون کے تحت نسل کشی کے زمرے میں آتا ہے ۔
انہوں نے کہا کہ بھارتی حکومت نہ صرف مسلمانوں بلکہ تمام دیگر مذاہب کے لوگوں کو اپنا مذہب ترک کر کے ہندو مذہب اختیار کرنے پر مجبور کر رہی ہے ۔
صدر آزاد کشمیر سردار مسعود خان نے کہا کہ اگرچہ برطانیہ ، یورپ ، فرانس کی پارلیمانز اور امریکی کانگریس اور امریکی ایوان نمائندگان کی انسانی حقوق کی ذیلی کمیٹیوں اور ٹام لینٹس کمیشن نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیوں پر آواز بلند کی لیکن اب تک چین ، ملائشیا ، ترکی اور ایران کے علاوہ حکومتی سطح پر خاموشی ہے جسے توڑنے کی ضرورت ہے اور فرینڈز آف کشمیر کینیڈا جیسی تنظیمیں یہ خاموشی توڑنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے ۔
اُنہوں نے وفد کو بتایا کہ بھارت نے 1947 سے لے کر اب تک پانچ لاکھ سے زیادہ کشمیریوں کو قتل کیا اور دس ہزار سے زیادہ کشمیری خواتین کو جنسی تشدد کا نشانہ بنایا ۔ 05 اگست سے اب تک مقبوضہ کشمیر کی پوری آبادی محصور ہے جبکہ تیرہ ہزار سے زیادہ نوجوانوں کو گرفتار کر کے اُنہیں جیلوں میں بد ترین تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اور اس طرح کشمیر کی خواتین کو جنگی مال غنیمت سمجھ کر اغوا کر کے لے جانے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں ۔
بھارت نے کشمیر کو لداخ ریجن اور جموں و کشمیر میں تقسیم کر کے دونوں خطوں کو درجہ میونسپلٹی تک گرا دیا ہے جہاں ایک لفٹیننٹ گورنر حکمران ہے ۔ بھارت کے ان تمام اقدامات کا مقصد کشمیر کو بھارتی یونین میں ضم کرکے اسے اپنی کالونی میں تبدیل کرنا ہے جس کی مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام پوری قوت سے مزاحمت کر رہے ہیں ۔ صدر سردار مسعود خان نے وفد کو آزاد کشمیر کی تاریخ آزاد حکومت کے انتظامی معاملات اور ریاست کی حکومت کی ترجیحات سے بھی تفصیل سے آگاہ کیا ۔



