
اسلام آباد:سبکدوش ہونے والے چیف جسٹس آف پاکستان آصف سعید کھوسہ نے کہا ہے کہ میرے اور پوری عدلیہ کے خلاف ایک گھناؤنی مہم شروع کر دی گئی ہے لیکن سچ سامنے آئے گا اور سچ کا بول بالا ہو گا۔ایک جج کو شیر جیسے دل اور لوہے جیسے مضبوط اعصاب کا مالک ہونا چاہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے اپنے اعزاز میں فل کورٹ ریفرنس سے خطاب سے کرتے ہوئے کیا۔ چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے صحافیوں سے ملاقات میں مشرف کے خلاف فیصلے کی حمایت کے حوالے سے اپنے اوپر لگنے والے الزام کی وضاحت کی۔چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ ابھی الزام لگایا گیا کہ میں نے صحافیوں سے ملاقات کر کے پرویز مشرف کے خلاف فیصلے کی حمایت کی۔انہوں نے کہا کہ میرے اور پوری عدلیہ کے خلاف ایک گھناؤنی مہم شروع کر دی گئی ہے لیکن سچ سامنے آئے گا اور سچ کا بول بالا ہو گا۔بطور جج ہمیشہ اپنے حلف کی پاسداری کی اور بغیر خوف کے فیصلے کیے
چیف جسٹس نے فل کورٹ ریفرنس سے خطاب اپنے کا آغاز سورۃ النحل سے کرتے ہوئے بتایا کہ عدالتی چھٹیاں نکال کر 235 دن چیف جسٹس کے منصب پر فائز رہا۔اپنے بچپن کا حوالہ دیتے ہوئے جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ جب میں پیدا ہوا تو میرے منہ میں ایک دانت تھا، میرے خاندان میں یہ بات مشہور ہو گئی کہ بچہ بہت خوش قسمت ہو گا۔
چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ ایک جج کو بے خوف و خطر ہونا چاہیے، میرے لیے یہ اہم نہیں کہ دوسروں کا ردعمل یا نتائج کیا ہو سکتے ہیں۔جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ ایک جج کا دل شیر کی طرح اور اعصاب فولاد کی طرح ہونے چاہئیں۔انہوں نے کہا کہ اپنے 22 سالہ کیرئیر کے دوران مختلف قانونی معاملات کا ہر پہلو سے جائزہ لیا، بطور جج ہمیشہ اپنے حلف کی پاسداری کی، قانونی تقاضوں سمیت بغیر خوف فیصلے کیے۔چیف جسٹس کا اپنے خطاب میں فیض احمد فیض کی نظم کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ کچھ لوگ تمہیں سمجھائیں گے، وہ تم کو خوف دلائیں گے،تم اپنی کرنی کرگزرو جو ہوگا دیکھا جائے گا۔ چیف جسٹس کے خطاب پر کمرہ عدالت نمبر ایک تالیوں سے گونج اٹھا۔ میری اپروچ کو فہمیدہ ریاض کی نظم میں خوبصورتی سے سمویا گیا ہے۔
نامزد چیف جسٹس گلزار احمد نے فل کورٹ ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آئین پاکستان ایک زندہ جاوید دستاویز ہے اور عوام کا تحفظ ریاست کی ذمہ داری ہے، سپریم کورٹ قانون کی حکمرانی، آئین کے تحفظ اور آزاد عدلیہ کے چیلنجز سے نبرد آزما ہوتی آئی ہے۔
قبل ازیں ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامررحمان نے فل کورٹ ریفرنس سے خطاب میں کہا کہ خصوصی عدالت کا فیصلہ بنیادی حقوق اور فوجداری نظام کی روایت کے خلاف ہے، اس میں عداوت اورانتقام نظرآتا ہے، سزا پرعملدرآمد کا جوطریقہ کارفیصلے میں بتایا گیا وہ غیرقانونی اورغیرانسانی ہے، ایسے کنڈکٹ والا شخص اعلی عدلیہ کا جج نہیں رہ سکتا، بھاری دل کے ساتھ کہتا ہوں چیف جسٹس نے بھی خصوصی عدالت کے مختصر فیصلے کی حمایت کی ہے۔
وائس چیئرمین پاکستان بار امجد شاہ نے خطاب میں کہا کہ پرویز مشرف کیخلاف فیصلہ آئین کی بالادستی اور قانون کی عملداری کا غماز ہے، پاکستان بار کونسل جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کو سزا دینے کے فیصلے کو سراہتی ہے، آئندہ کسی طالع آزما کو آئین شکنی اور جمہوری حکومت کو گرانے کی جرات نہ ہوگی، جسٹس وقار اور انکے ساتھی رکن جج کو ہمیشہ عزت و تکریم سے یاد رکھا جائے گا، مشرف فیصلے پر حکومتی حلقوں کا ردعمل توہین آمیز ہے۔
صدر سپریم کورٹ بار قلب حسن شاہ نے سپریم کورٹ سے بھٹو ریفرنس سماعت کیلئے مقررکرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ عدلیہ پرعوامی اعتماد کی بحالی کیلئے لازم ہے کہ بھٹوریفرنس سماعت کیلئے مقرر کیا جائے، ریاست کے تمام اداروں کو اپنی حدود میں رہ کر کام کرنا چاہیے، عدلیہ کو اکثر ایگزیکٹو اور اداروں کے دبائو کا سامنا رہتا ہے، سپریم کورٹ بار مشرف کیس میں خصوصی عدالت کے فیصلے کو سراہتی ہے۔



