
چار غیرملکی دشمن ایجنسیاں پاکستان میں دہشت گردی کا بڑا منصوبہ بنارہی ہیں، دفتر خارجہ سے شواہد کے ساتھ تھریٹ الرٹ شیئر کیا ہے۔پاک فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل آصف غفورنے راولپنڈ ی میں پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ کچھ تنظیموں کے سیاسی عمل میں آنے کا معاملہ چلا ہے، حکومت نے بات چیت شروع کی ہے، فیصلہ ریاست کو کرنا ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ جے آئی ٹی میں آئی ایس آئی اور ایم آئی کے نمائندوں کی شمولیت کا حکم آئینی تھا جسے فوج نے مانا، اس میں فوج نے اپنی طرف سے کوئی چیز پیش نہیں کی، یہ تاثر دینا کہ فوج جے آئی ٹی کے پیچھے ہے یا مارشل لا لگانا چاہتی ہے اس پر تو بات بھی نہیں ہونی چاہیے ۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ احتساب عدالت کے باہر رینجرز کی تعیناتی میں مقامی طور پر غلط فہمی پیدا ہوئی، اداروں میں تصادم کی کوئی صورتحال نہیں، کور کمانڈر کانفرنس کا اعلامیہ جاری نہیں کیا کیونکہ خاموشی کی بھی اپنی زبان ہوتی ہے۔انہوں نے کہا کہ فوج کو آئین اور قانون کے اندر رہتے ہوئے جو حکم ملتا ہے، اسے پوراکرنے کے پابند ہیں، جے آئی ٹی میں آئی ایس آئی اور ایم آئی کے نمائندوں کی شمولیت کا حکم آئینی تھا جسے فوج نے مانا، اس عمل میں فوج نے کوئی چیز پیش نہیں کی، اس میں یہ تاثر دینا کہ فوج اس کے پیچھے ہے یا مارشل لا لگ جائے گا، اس پر تو بات بھی نہیں ہونی چاہیے۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ احتساب عدالت کے باہر رینجرز کی تعیناتی میں مقامی طور پر غلط فہمی پیدا ہوئی، اداروں میں تصادم کی کوئی صورتحال نہیں۔کور کمانڈر کانفرنس کااعلامیہ جاری نہ کرنے سے متعلق سوال کے جواب میں ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ خاموشی کی بھی اپنی زبان ہوتی ہے ۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے انکشاف کیا کہ چار غیر ملکی دشمن ایجنسیز ملک میں دہشت گردی کا بڑا منصوبہ بنارہی ہیں، دفتر خارجہ سے کل شواہد کے ساتھ تھریٹ الرٹ شیئر کیا ہے۔امریکی جنرل ڈین فورڈ کے بیان پر جواب دیتے ہوئے میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ آئی ایس آئی دہشت گردوں کی حمایت نہیں کر تی،ر ابطے ہونا ایک بات ہے اور حمایت کرنا دوسری بات ہے، کسی بھی ملک کی ایسی کونسی ایجنسی ہے جس کے رابطے نہیں، ہمارا سب سے پہلا ردعمل اس بیانیے کو رد کرنا ہے جو دشمن قوتیں ہمارے خلاف بنارہی ہیں، ہمارا ایک اپنا بیانیہ ہے۔انہوں نے کہا کہ کنٹرول لائن پر بھارت کی شر انگیزیاں بڑھ گئی ہیں، صرف اس سال دو سو سے زیادہ شہری نشانہ بنے، 43شہید ہوئے، پاکستان جنگ نہیں چاہتا لیکن اگر جنگ مسلط کی گئی تو بھرپور جواب دیں گے۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ کل بھوشن کی رحم کی اپیل آرمی چیف کے پاس ہے اور پر عمل مکمل ہو گا تو فیصلے سے آگاہ کریں گے۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے کنفرم کیا کہ کچھ تنظیموں کے سیاسی عمل میں آنے کا معاملہ چلا ہے اور حکومت نے بات چیت شروع کی ہے، فیصلہ ریاست نے کرنا ہے۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ آرمی چیف جلد ایران کا دورہ کریں گے، مغربی سرحد پر سیکیورٹی کی صورتحال کی وجہ سے وہاں سے فوج کو واپس نہیں بلا سکتے، مغربی سرحد پر خطرات موجود ہیں، پاکستان، افغانستان اور ایران ان علاقوں میں مل کر مشترکہ دشمن کے خلاف کارروائیاں کر رہے ہیں۔




