ارتغل اور ہمارے معاشرتی رویے

آج کل پاکستان میں ایک ڈرامے کا ذکر بہت ہو رہا ہے جس نے دیکھتے ہی دیکھتے لاکھوں ،کروڑوں لوگوں کو نہ صرف اپنی طرف متوجہ کر لیا ہے بلکہ ہمارے نوجوان اس قدر متاثر ہیں کہ اس ڈرامے کے کرداروں کی ڈی پیاں بھی اپنے سوشل میڈیا پر سجا لی ہیں، دوسری طرف بعض حلقوں کی جانب سے اس ڈرامے سے متعلق کچھ عجیب و غریب اعتراضات بھی دیکھنے میں آ رہے ہیں۔
ایک بدقسمتی یہ ہے کہ ہمارے ہاں ہر چیز کو سیاسی عینک سے دیکھنے کا رواج بن چکا ہے ، اس سے بہت سے معاملات خواہ مخواہ ہی متنازعہ ہوجاتے ہیں ، ارتغل ڈرامہ ہمارے اس قومی رویے کا تازہ نشانہ بنا ہے ،اسلامی تاریخ یا ترک/ عرب قصے کو ایک طرف رکھتے ہوئے اگر اس ڈرامے کو صرف تفریحی پہلو سے بھی دیکھا جائے تو اس میں وہ تمام اجزا موجود ہیں جو ایک اچھے ڈرامے کو "ڈرامہ ” بناتے ہیں ، یعنی ایکشن ، سسپینس ، ایڈونچر اور رومانس۔۔۔ بدقسمتی مگر یہ ہوئی کہ اس ڈرامے کو وزیر اعظم عمران خان نے دیکھنے کے لیے تجویز کردیا، بس پھر کیا تھا کہ ایک اچھی خاصی سیریز خواہ مخواہ ہی ہمارے سیاسی تعصب کی بھینٹ چڑھ رہی ہے، ہم نے اپنے اوپر کچھ ایسے سیاسی ،مسلکی اور لسانی خول چڑھا لیے ہیں کہ اچھی سے اچھی بات کو بھی محض اس لیے رد کرنا اپنا فرض سمجھتے ہیں کہ یہ مخالف سیاسی پارٹی یا کسی دوسرے مسلک سے آئی ہے ۔ وطن عزیز کو درپیش چیلنجز تو اور بھی بہت ہیں لیکن یہ دو تعصبات ہمیں دیمک کہ طرح کھائے چلے جارہے ہیں۔
صاحبو! اچھی بات صرف اس لیے اچھی نہیں ہوتی کہ وہ ہماری کسی پسندیدہ شخصیت نے کہی اور نہ ہی بری چیز محض اس لیے بری ہوتی ہے کہ وہ اس زبان سے نکلی جسے ہم ناپسند کرتے ہیں ۔ اس طرح تو عمران خان اگر کل کو قرآن پاک پڑھنے کا مشورہ دیں تو کیا ہم اسے بھی متنازعہ بنا دینگے ؟ یا پھر سیرت النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پڑھنے سے بھی انکار کر دینگے کہ اس کی تجویز کسی سیاسی مخالف نے دی ہے؟ نعوذ باللہ!

یہ سچ ہے کہ اس ڈرامے میں ، اطاعت خداوندی ، حب نبوی، ملی غیرت کےجذبات اور ترغیب کے ساتھ احیائے اسلام کی تڑپ بھی موجود ہے جو ذرا سا ایمان کا شعلہ رکھنے والے سینوں کو بھی گرما کر رکھ دیتی ہے لیکن کیا ہم اسے محض ایک ڈرامہ سمجھ کر بھی نہیں دیکھ سکتے ؟

اس سے پہلے ” میرا سلطان”نامی ڈرامے سمیت دیگر ترک ڈرامے بھی تو ہمارے چینلز پر چل چکے ہیں ، ان پر اس طرح کے فتوے اور لفظی گولہ باری کیوں نہیں کی گئی ؟ حیرت ہے کہ سوشل میڈیا پر میرے کچھ ایسے دوستوں نے بھی "ارتغل غازی ” کے خلاف مورچے سنبھالے ہوئے ہیں جو کل تک لاک ڈائون کے دوران وقت گزاری کے لیے مخلتف ہالی ووڈ اور بالی ووڈ فلمیں تجویز کر رہے تھے ، ایک صاحب نے تو اس ڈرامے کو ایک خاص مسلک کا قرار دے کر اپنے ہم مسلکوں سے اسے نہ دیکھنے کی اپیل بھی کردی ہے ، گویا اب ڈرامہ دیکھتے ہوئے ہمیں یہ بھی خیال کرنا ہوگا کہ ہم وہابی ڈرامہ دیکھ رہے ہیں، بریلوی ، دیوبندی یا پھر شیعہ ؟ کچھ نے یہ بحث بھی چھیڑ دی کہ ہم نے اگر اپنے بچوں کو ترک جنگجوئوں سے ہی متعارف کرانا ہے تو ہمارے اپنے ہیرو کون ہیں ؟ غالباً ایسے احباب کے نزدیک ٹارزن ، بیٹ مین ، سپائڈر مین ، ایکس مین اور سپر مین جیسے فرضی کردار پکے مومن اور لاہور کراچی یا پھر راولپنڈی کی پیداوار ہیں اور محمد بن قاسم ، شہاب الدین غوری ، ارتغل غازی یا پھر دیگر مسلم کمانڈر انچیفس کسی کلیسا میں پلے بڑھے تھے ۔

اللہ کے بندوں ! اگر ہم خود کوئی اچھا کام نہیں کر سکے تو کسی کے اچھے کام کو سراہنے میں کیا حرج ہے ؟ اس سے پہلے ہم نے مختلف اسلامی موضوعات پر بننے والی ایرانی فلموں کا بھی یہی حشر کیا ہے۔ ہمارا اپنا کردار تو یہ ہے کہ یوم کشمیر کو بھی گھروں میں بھارتی یا ہالی ووڈ فلمیں دیکھتے گزار دیتے ہیں۔ ایسے میں اگر کسی نے تاریخ کے جھروکوں سے کچھ واقعات اور کردار نکال کر پردہ سکرین پر منتقل کیے ہیں جنھیں دیکھ کر ہماری نوجوان نسل اپنے درخشاں ماضی سے روشناس ہوسکتی ہے تو بجائے احساس تشکر کے ہم اس میں سے بھی کیڑے نکالنے کے لیے بیٹھ گئے ہیں ؟ ترکوں نے یہ پہلا کام نہیں کیا ، اس سے قبل بچوں کے لیے بنائی گئی ایک کارٹون سیریل ” جان ” بھی ہمارے ہاں کافی مقبول ہوچکی ہے ورنہ ہمارے ہاں بچوں کی تربیت کے لیے اس قسم کا کوئی مواد ڈیجیٹل ورلڈ میں موجود نہیں تھا ، ذیادہ تر کارٹونز یا ویڈیو گیمز بھارتی یا مغربی ماہرین کی تخلیق کردہ ہیں جن میں صرف تشدد اور مار کٹائی ہی دکھائی جاتی ہے، ایسے کارٹون دیکھ کر اور ایسی گیمز کھیل کر ہمارے بچوں کے ذہنوں پر کیا اثر پڑے گا ؟ ظاہر ہی تشدد اور عدم برداشت کے رویے ہی پیدا ہونگے جنھیں ہمارا معاشرہ اب بھگت رہا ہے ۔

موجودہ حکومت چونکہ تبدیلی کے دعوے کے ساتھ اقتدار میں آئی ہے لہذا اسے اس بابت توجہ دینے کی سب سے ذیادہ ضرورت ہے ، ایک تو پہلی فرصت میں بچوں کی الگ وزارت قائم کی جانی چاہے جو بچوں کی پیدائش سے لیکر ان کے لڑکپن اور جوانی کی عمر تک کے مختلف معاملات کے لیے تربیتی مواد تیار کرنے کے ساتھ ساتھ والدین کے لیے بھی رہنمائی کا فریضہ سر انجام دے ، ہمارے ہاں اس سلسلے میں بہت کوتاہی برتی جا رہی ہے، تبدیلی محض اقتدار کے حصول کا نام نہیں بلکہ نسلوں کی تربیت اور ان کی بقا کا نام ہے ، مجھے علم ہے کہ کچھ لوگ میری اس بات سے یہ کہہ کر اختلاف کرینگے کہ پہلے سے موجود اتنی وزارتیں کیا کر رہی ہیں جو ایک نئی وزارت بھی بنادی جائے؟ یہ موقف اگر چہ درست ہے لیکن اس کےباوجود ہمیں اپنے بچوں کی بہتر تربیت ، ان کی تخلیقی صلاحیتوں کو ایک خاص نہج پر پروان چڑھانے اور اس مقصد کے لیے کارٹونز ، گیمز سے لیکر بچوں کی کہانیوں اور کھیل ، کھلونوں تک کے معاملات میں ایک انقلابی تبدیلی اور نئی سوچ کی ضرورت ہے،ہمارے کھلونے بھی زیادہ تر بندوقوں ،رائفلوں اور ایسی مادی اشیاء پر مشتمل ہیں کہ بعد ازاں جب وہ چیزیں بچے کو عملی زندگی میں نہیں ملتی تو وہ انکے حصول کے لیے ہر اچھائی برائی کو پس پشت ڈال دیتا ہے۔ اس لیے کہانیاں ہوں یا کھلونے اس حوالے سے ہمیں بچے کے ذہن پر پڑنے والے اثرات کو ضرور مد نظر رکھنا چاہیے۔

خیر بات ارتغل ڈرامے سے شروع ہوئی تھی اور کسی اور طرف نکل گئی ہے ، یہ تفصیل طلب موضوع ہے جس پر الگ کالم درکار ہوگا ، سردست وزیر اعظم عمران خان سے یہ کہنا ہے کہ برائے کرم وہ ڈراموں ،کتابوں کے مشوروں کی بجائے امور مملکت بہتر بنانے پر اگر ذیادہ توجہ دیں تو یہ انکے لیے ، قوم کے لیے اور خود اس چیز کے لیے ذیادہ بہتر ہوگا جسے وہ تجویز کر کے متنازعہ بنا دیتے ہیں ، بھلے وہ اپنی جانب سے یہ سب کچھ نیک نیتی سے ہی کرتے ہونگے لیکن اس کے بعد وہ چیز منتازعہ ہوکر اپنی اہمیت کھو دیتی ہے۔

حاکم وقت کے لیے ضروری نہیں کہ وہ اپنی ہر خواہش کا چرچا بھی کرے ، اگر وزیر اعظم کو ارتغل ڈرامہ پسند تھا اور وہ اسے اپنی قوم کو بھی دکھانا چاہتے تھے تو خاموشی سے اسکا اظہار اپنی وزارت اطلاعات سے کرتے ، وہ اسکا انتظام کر دیتی ، یوں خواہ مخواہ ایک اچھے ڈرامے کو متنازعہ بنانے کی کیا ضرورت تھی ؟