اسلام آباد: بھارت اور پاکستان کے مابین جوہری جنگ کا خطرہ اس وقت تک جاری رہے گا جب تک کہ دونوں ممالک کشمیر کے بنیادی مسئلیو پر امن طور پر حل نہیں کرتے۔ان خیالات کا اظہار مقررین نے کشمیر انسٹیٹیوٹ آف انٹرنیشنل ریلیشنز(کے آئی آر) کے زیراہتمام منعقدہ ویبنار سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔انہوں نے تنازعہ کشمیر کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت اور پاکستان کے مابین جوہری جنگ کا خطرہ اس وقت تک جاری رہے گا جب تک کہ دونوں ممالک کشمیر کے بنیادی مسئلیو پر امن طور پر حل نہیں کرتے۔ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کونسل کے 44 ویں اجلاس کے موقع پر کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل ریلیشنز (کے آئی آر) اور ورلڈ مسلم کانگرس کے زیر اہتماممنعقدہ ویبنار سے خطاب کرتے ہوئے معروف برطانوی مصنف وکٹوریہ شوفیلڈ، سفیر (ر) عارف کمال، ارشادمحمود، بریگیڈیر (ر) ڈاکٹر سیف ملک، احمد قریشی اور کے آئی آر کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر سردار امجد یوسف خان نے یہ واضح کیا کہ کشمیر، جو اب ایک خطرناک صورت اختیارکر چکا ہے دراصل 1947 میں برصغیر کی تقسیم کے بعد سے ہی معرض وجود میں آیا ہے۔ انہوں نے تنازعہ کشمیر کو خطے میں تناؤ کی اصل وجہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ کشمیر کا دیرینہ حل طلب مسئلہ، جس میں اب تک کشمیریوں کی تین نسلوں نے قربانیاں دی ہیں،خطے میں امن، خوشحالی اور استحکام کی راہ میں بنیادی رکاوٹ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ”تنازعہ کشمیر ہی وہ بنیادی وجہ ہے کہ جس کے سبب دونوں ممالک کے مابین تعلقات میں بہتری نہیں آسکی۔انہوں نے کہا کہ یہی تنازعہ 1947 اور 1965 میں اور1999 دونوں ملکوں کے مابین جنگ کی وجہ بنا۔انہوں نے کہا کہ لداخ میں ہندوستان اور چینی فوج کے مابین پرتشدد جھڑپ نے تنازعہ کشمیر کو ایک نئی جہت میں شامل کیا ہے۔ہندوستانی حکومت کے 5 اگست کے اقدام کے حوالے سے مقررین نے کہا کہ اس سے خطے میں سلامتی کی صورتحال کو مزید خطرہ لاحق ہوا ہے۔ مقررین نے کہا کہ جموں و کشمیرکی خصوصی حیثیت کو ختم کرنا دراصل کشمیریوں کی قومی اور علاقائی شناخت پر ایک سنگین حملہ تھا، مودی سرکار کشمیر کو ہڑپ کرنے پر تلی ہوئی ہے جس طرح اسرائیل نے فلسطین میں حملہ کیا تھا۔انہوں نے کہا کہ ڈومیسائل قوانین میں تبدیلی مسلم اکثریتی ریاست کو اقلیت میں تبدیل کرنے کے ہندوستان کے مذموم عزائم کا ایک حصہ ہے۔ تاہم، انہوں نے مشاہدہ کیا کہ بین الاقوامی برادری نے حال ہی میں مقبوضہ خطے میں پیش آنے والے واقعات کی مخالفت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پچھلے کچھ مہینوں سے مقبوضہ کشمیر میں ظلم و بربریت میں اضافہ خوفناک حد تک بڑھ چکا ہے۔انہوں نے کہاکہ کشمیریوں کی زندگیاں خطرے سے دوچار ہیں اور خاص طور پر خواتین پر بے تحاشا ظلم ہورہاہے۔انہوں نے کہا کہ جب سے حکومت ہند نے اس خطے کے لئے ایک نئی میڈیا پالیسی متعارف کرائی ہے، کشمیری میڈیا کو بدترین قسم کی سنسرشپ کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پچھلے سال کے بعد سے، جن ممالک نے مسئلہ کشمیر کے بارے میں بات کرنے سے گریز کیا ہے، اب اس مسئلے پربات چیت کرنا شروع کر دی ہے۔انہوں نے کہا کہ صرف بین الاقوامی برادری کی جانب سے دونوں ممالک کو بات چیت پر آماد ہ کرنے سے ہی تنازعہ کا منصفانہ اور پرامن حل تلاش کیا جاسکتاہے۔
Related Posts

راجہ پرویز اشرف اسپیکر قومی اسمبلی منتخب
- Rizwan Malik
- اپریل 16, 2022
- 0
ان کا انتخاب بلامقابلہ ہوا وہ قومی اسمبلی کے 22 ویں سپیکر ہیںایوان نے بلقیس ایدھی کو خراجِ عقیدت اور ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی پر […]

اداروں کو اپنی روش اور مزاج کو قومی مفاد کے لئے بدلنا ہوگا،جاوید انتظار
- Rizwan Malik
- مارچ 29, 2024
- 0
6 ججز کے سپریم جوڈیشل کونسل کو لکھے گئے خط سے ریاست کے اندر طاقت نما ریاست کے تاثر کو تقویت ملتی ہے اسلام آباد(نیوزرپورٹر)اسلام […]

لاس ویگس: کنسرٹ میں فائرنگ سے کم از کم 58 ہلاک، سینکڑوں زخمی
- Rizwan Malik
- اکتوبر 2, 2017
- 0
امریکی شہر لاس ویگس کے حکام کا کہنا ہے کہ ایک کنسرٹ میں ہونے والی فائرنگ میں کم از کم 58 افراد ہلاک اور […]
