کراچی میں سٹریٹ کرائم کی روک تھام شہری کسی بھی تھانے میں مقدمہ درج کراسکیں گے

 

 

کراچی: سٹی پولیس چیف غلام نبی میمن نے پولیس کے آپریشن اور تفتیشی ونگز کو مشترکہ طور پر اسٹریٹ کرائمز کا مقابلہ کرنے کی ہدایت کی ہے اور شہریوں سے کہا ہے کہ وہ تھانوں کے دائرہ اختیار سے قطع نظر شہر میں کہیں بھی ابتدائی اطلاعی رپورٹ(ایف آئی آر) درج کراسکتے ہیں۔انہوں نے اسٹیشن ہاس افسران(ایس ایچ اوز)کو فوری طور پر مقدمات درج کرنے کی ہدایت کی اور خبردار کیا کہ اس ضمن میں کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔
سندھ بوائز اسکاٹس آڈیٹوریم میں پولیس افسران سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے دہشت گردی کے خاتمے اور امن و امان کی بحالی کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والوں کو خراج عقیدت پیش کیا۔
انہوں نے کہا کہ شہید پولیس اہلکار ہماری فورس کا فخر ہیں اور ان کی قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کیا جائے گا۔غلام نبی میمن نے پولیس اہلکاروں کی حالیہ ٹارگٹ کلنگ میں ملوث مجرموں یا گروہوں کی گرفتاری کے لیے 10 لاکھ روپے انعام کا اعلان بھی کیا۔
سٹی پولیس چیف نے مقدمات کی تفتیش بہتر بنانے کے لیے قابل افسران کے تقرر اور کارکردگی نہ دکھانے والے تفتیشی افسران کے خلاف محکمہ جاتی کارروائی شروع کرنے کے احکامات جاری کیے۔انہوں نے تفتیش کے معیار میں بہتری کے لیے پولیس کے سینئر سپرنٹنڈنٹس برائے کو انویسٹی گیشنز کو اپنے ماتحت افسران کے تربیتی کورسز منعقد کرانے کی ہدایت کی۔

سٹی پولیس چیف نے کہا کہ تفتیشی افسران کو ‘ چین آف کسٹڈی ‘ سے متعلق تربیت فراہم کرنی چاہیے جو مقدمات کی بنیاد ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پولیس اسٹیشنز کی حدود کے تنازعات کے باعث شہریوں کو جرائم کی ایف آئی آرز درج کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے اور اعلان کیا کہ شہری کہیں بھی ایف آئی آرز درج کراسکیں گے۔غلام نبی میمن نے پولیس کو شکایت کنندگان کے لیے مسائل پیدا نہ کرنے کی ہدایت کی۔
انہوں نے کہا کہ اسٹریٹ کرائمز پر بہتر طریقے سے قابو پانے کے لیے پیٹرولنگ اور نفری میں اضافہ کیا جانا چاہیے اور عادی مجرموں کی گرفتاری کے لیے پیشہ ورانہ حکمت عملی تیار کی جائے تاکہ اسٹریٹ کرائمز پر قابو پایا جاسکے۔