دوستوں کی کوششیں رنگ لائیں لاپتہ صحافی علی عمران گھر لوٹ آئے

 


کراچی:دوستوں اور انسانی حقوق کے اداروں کی جانب سے شدید ردعمل کے بعد اغواء کاروں نے لاپتہ صحافی علی عمران کو چھوڑ دیا۔گذشتہ شام کراچی کے علاقے سچل سے لاپتہ ہونے والے نجی نیوز چینل ‘جیو’ سے منسلک صحافی علی عمران ہفتہ کی شام اپنی والدہ کے گھر بخیریت پہنچ گئے ہیں۔ علی عمران نے اپنی اہلیہ کو فون کر کے تصدیق کی ہے کہ وہ اپنی والدہ کے گھر ملیر خیریت سے پہنچ گئے پیں۔
واضح رہے کہ جیو نیوز کے مینیجنگ ڈائریکٹر اظہر عباس نے رات گئے ایک ٹویٹ میں بتایا کہ ہمارا رپورٹر علی عمران سید چھ گھنٹوں سے لاپتہ ہے اور ان کے بھائی طالب کی مدعیت میں پولیس میں ایف آئی آر درج کی گئی تھی۔علی عمران کی واپسی کے بعد جیو نیوز کے ڈائریکٹر نیوز رانا جواد نے بھی اپنی ٹویٹ میں علی عمران کی واپسی کی تصدیق کی ہے۔
گذشتہ شب جیو نیوز کے مینیجنگ ڈائریکٹر اظہر عباس نے رات گئے ٹوئٹر پر بتایا کہ ان کے رپورٹر علی عمران لا پتہ ہو گئے ہیں۔اظہر عباس نے لکھا: ان کی اہلیہ کے مطابق علی پیدل قریبی بیکری پر گئے لیکن اب تک نہیں لوٹے۔ جیو اور ان کے خاندان نے پولیس کو اطلاع کر دی ہے ہم ان کی جلد اور بحفاظت بازیابی کی امید کرتے ہیں۔
کراچی میں جیو نیوز کے بیورو چیف فہیم صدیقی نے بتایا رات کو پولیس نے درخواست تو لے لی تھی لیکن پھر صبح دیر گئے تک ایف آئی آر نہیں کاٹی گئی تھی۔دوپہر بارہ بجے تھانہ سچل میں علی عمران کی گمشدگی کی ایف آئی آر کاٹی گئی۔ایف آئی آر کے مطابق صحافی علی عمران گذشتہ شام سات بجے سے آٹھ بجے کے درمیان بیکری پر پیدل گئے تھے۔
علی عمران کی گمشدگی کے بعد وفاقی وزیر اطلاعات شبلی فراز نے ٹوئٹر پیغام میں کہا تھا کہ سندھ حکومت اور پولیس جیو نیوز کے رپورٹر علی عمران کی بازیابی کے لیے بھرپور کاوش اور تمام وسائل بروئے کار لائے۔اس ضمن میں تمام متعلقہ وفاقی اداروں کو سندھ حکومت سے تعاون کی ہدایات کردی گئی ہیں۔صحافیوں کا تحفظ ہماری ذمہ داری ہے۔
گمشدگی کی خبر کے بعد سندھ حکومت نے واقعے کا نوٹس لیا جبکہ پاکستان میں صحافتی تنظیم پی ایف یو جے نے علی عمران کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے اور کہا ہے کہ بصورتِ دیگر پارلیمنٹ ہاس کے سامنے احتجاج کیا جائے گا۔سندھ حکومت کے ترجمان مرتضی وہاب نے اپنی ٹوئٹ میں بتایا تھا کہ علی عمران سید کی رہائی کے لیے کوششیں کی جا رہی ہیں۔وزیراعلی سندھ نے واقعے کا نوٹس لے لیا ہے اور آئی جی سندھ سے بات کی ہے۔ معاملے کی تحقیقات جاری ہیں۔ آپ کو پیش رفت کے حوالے سے آگاہ کیا جائے گا۔
علی عمران کی اہلیہ کی ویڈیو سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر شیئر کی جا رہی ہے جس میں انھوں نے بتایا کہ’ گھر سے کہہ کر گئے تھے کہ میں آدھے گھنٹے میں آ رہا ہوں۔ اس کے بعد سے ابھی تک نہیں آئے۔ ان کا موبائل گھر پہ ہے گاڑی بھی گھر کے باہر کھڑی ہے۔’سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو میں ان کی اہلیہ نے بتایا کہ وہ کیا کہہ کر نکلے تھے آپ سے تو انھوں نے بتایا کہ علی نے مجھے کہا کہ میں ابھی آرہا ہوں بسکٹ لے کر۔خاتون کہتی ہیں کہ بیکری سڑک کے کونے پر ہے وہاں سے جو رستہ ہے وہ آدھے گھنٹے سے زیادہ کا نہیں ہے۔
علی عمران وہی صحافی ہیں جنھوں نے کیپٹن (ر) صفدر کی گرفتاری کی ویڈیو جاری کی تھی۔
وزیر اطلاعات شبلی فراز نے اپنی ٹوئٹ میں لکھا خلوص کے ساتھ امید کرتا ہوں کہ علی عمران اپنے دوستوں اور خاندان کے ساتھ آ ملیں گے۔ اس کے دو گھنٹے بعد وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق شیریں جمہوریت میں کسی کو بھی لاپتہ نہیں ہونا چاہیے۔ ہمارے ہاں سخت قانون ہے بشمول انسداد دہشت گردی کے قوانین موجود ہیں ان لوگوں سے نمٹنے کے لیے جو مبینہ طور پر جرم کے مرتکب ہوتے ہیں۔
زیادہ تر صارفین ان کی اہلیہ کی ویڈیو ری ٹویٹ کر رہے ہیں۔
صحافی نسیم زہرہ نے ان کی گمشدگی کی مذمت کی اور لکھا کہ کیا آپ انھیں اغوا کیے بغیر ان سے سوال نہیں کر سکتے تھے؟ کیا اغوا پہلے سے معلوم حقائق کو دوبارہ بنانے میں مدد دے گا۔
خیال رہے کہ نجی ہوٹل سے کیپٹن صفدر کی گرفتاری کے معاملے پر سندھ میں اعلی سطح پر تحقیقات کی جا رہی ہیں جن کی رپورٹس آنا ابھی باقی ہے۔
سینئر جرنلسٹ مدثر سعید نے اپنے سوالات میں کہا کہ کیپٹن صفدر کی گرفتاری کیسے ہوئی، 46 منٹ کے آپریشن میں کمانڈ کون کر رہا تھا، ہوٹل باہر سے بلاک کس نے کیا ہوا تھا، فون پر ہدایات لینے والا سفید بوٹوں والا کون تھا۔
مسلم لیگ ن کی رہنما مریم نواز نے کوئٹہ روانگی سے پہلے اپنے میڈیا بیان میں کہا ہے کہ اغوا کر کے اور لوگوں کو حق اورسچ بولنے کی سزا دے کر مزید بدنامی نہ کمائیں۔ان کا کہنا ہے کہ جس طرح آپ نے آئی جی کواٹھایا، جیسے آپ نے پولیس فورس کوصوبے کو انڈرمائن کیا۔آپ نے بہت زیادہ بدنامی کمالی ہے۔
پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے صحافی علی عمران کی گمشدگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے آزادی اظہارے رائے کی آزادی پر حملہ قرار دیا ہے۔
پیپلز پارٹی کی رہنما شیریں رحمان نے اپنی ٹوئٹ میں زور دیا ہے کہ علی عمران کو فوری طور پر گھر پنچانا چاہیے اور یہ تفتیش کرنی چاہیے کہ انھیں کون لے گیا تھا اور کیوں؟
جنوبی ایشیا میں ایمنسٹی انٹرنیشنل کی جانب سے پاکستانی حکام سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ علی عمران کے بارے میں فوری طور پر پتہ لگائیں وہ کہاں ہیں۔
ٹوئٹر پر اپنے بیان میں ادارے کا کہنا ہے کہ جیو نیوز کے صحافی علی عمران گذشتہ روز سے کراچی میں لاپتہ ہیں۔ یہ خدشہ ہے کہ انھیں ان کی رپورٹنگ کی وجہ سے زبردستی لاپتہ کیا گیا ہے۔
ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان نے بھی اپنے ردعمل میں صحافی علی عمران کی گمشدگی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
صحافی مبشر زیدی نے لکھا کہ علی عمران نے فلسطین اور برما جا کر رپورٹنگ کی لیکن اسرائیلی فوج نے انھیں اغوا نہیں کیا اور برما سے بھی وہ بچ نکلے تاہم ان کا کہنا تھا کہ اپنے شہر میں رپورٹنگ کی سزا یہ ملی کہ پیشہ ور اغوا کاروں نے اغوا کر لیا۔
صحافی و اینکر پرسن سلیم صافی نے ٹوئٹ کی کہ بہتر ہے پاکستان کا نام اغوانستان رکھ لیں۔ یاد رکہیے انائوں کی تسکین کے لیے اغواں کا یہ سلسلہ جاری رہا تو اس ملک کو خانہ جنگی سے کوئی نہیں روک سکے گا۔ان کی ٹویٹ کو ری ٹوئٹ کرتے ہوئے ایک اور سینئیر صحافی فہد حسین نے اس خبر پر حیرت اور صدمے کا اظہار کیا اور ان کی رہائی پر زور دیتے ہوئے لکھا کہ صحافت جرم نہیں ہے۔
اینکر پرسن ارشد شریف نے بھی لکھا کہ لگتا ہے علی عمران کو بطور صحافی ڈیوٹی سرانجام دینے پر زبردستی لاپتہ کیا گیا ہے۔
صحافی احمر خان نے اپنے ردعمل میں کہا کہ پاکستان صحافیوں کے لیے خطرناک ترین ممالک میں شامل ہے۔
صحافی عاطف توقیر نے اپنے ردعمل میں ایک طنزیہ ٹویٹ کی اور لکھا کہ اہلِ خانہ جب علی عمران کی گمشدگی کی رپورٹ درج کروانے گئے ہوں گے تو پولیس نے ضرور کہا ہو گا کہ ہمارا تو اپنا آئی جی اغوا ہو چکا ہے ہم آپ کو کیا خاک تحفظ دیں۔
سماجی کارکن اور وکیل جبران ناصر نے اس خبر پر اپنے ردعمل میں امید ظاہر کی ہے کہ ایس ای سی پی افسر ساجد گوندل کی طرح انھیں شمالی علاقہ جات کے ٹرپ پر نہیں لے جایا گیا۔
بین الاقوامی ادارے رپورٹرز ود آٹ باڈرز کے نمائندہ اقبال خٹک نے اپنے ردعمل میں لکھا کہ اگر علی عمران کو کچھ ہوا تو اس کی ذمہ داری سندھ اور فیڈرل حکومت پر عائد ہو گی۔
صحافی سید عمار زیدی نے ٹویٹ کی کہ اب صحافیوں کو متحد ہو جانا چاہیے۔
سینئر صحافی طلعت حسین نے ٹوئٹ کی کہ علی عمران کو لاپتہ ہوئے کئی گھنٹے گزر چکے ہیں اور کسی کو کچھ پتہ نہیں یہ حیران کن اور دردناک ہیگ ہم ان کے لوٹنے کے منتظر ہیں اور ان کی حفاطت کے لیے دعا گو ہیں۔
صحافی مبشر زیدی نے مختصر ٹوئٹ میں مطالبہ کیا کہ علی عمران کو رہا کرو جس پر ایک صارف نے انھیں کہا کہ پورا جملہ لکھیں ناں کہ چھوڑ دو سندھ حکومت علی عمران کو جوابا انھوں نے اپنی ٹویٹ میں کہا کہ پورا لکھا تو میں بھی غائب ہو جاں گا۔