چارلی چپلن کا روپ دھارنے والے پاکستانی نوجوان کے دنیا بھر میں چرچے


کورونا کے بعد جہاں وہ خود بھی پریشان تھے، وہیں باقی لوگ بھی پریشان ہوگئے تھے، اس لیے لوگوں کے چہروں پر مسکراہٹیں بکھیرنے کے لیے چارلی چپلن کا کردار ادا کیا

بچوں کے کھلونے بیچتا تھا ،کرونا لاک ڈائون کے باعث کاروبار متاثر ہوا تو کورونا سے پریشان چہروں پر مسکراہٹیں لانے کا فیصلہ کیا ،پاکستانی چارلی چپلن عثمان خان

پشاور :بچوں کے کھلونے بیچ کر اپنا گزر سفر کرنے والے 28 سالہ نوجوان عثمان خان کی جانب سے شہرہ آفاق برطانوی اداکار چارلی چپلن کا روپ دھارے جانے کے بعد دنیا بھر میں ان کے چرچے ہو رہے ہیں۔
چارلی چپلن کا اصل نام سر چارلز اسپینسر "چارلی چپلن” تھا اور انہوں نے آواز کے بغیر کامیڈی کرکے لوگوں کے چہروں پر مسکراہٹیں لانے کے کردار ادا کیے تھے۔چارلی چپلن نے اگرچہ کم عمری میں ہی اداکاری و فنکاری شروع کردی تھی، تاہم جنگ عظیم اول کے اختتام پر 1919 میں ان کی پہلی فلم سامنے آئی، جس میں ان کے کردار نے کوئی بھی ڈائلاگ بولے بغیر مزاحیہ اندازوں سے شائقین کو ہنسانا شروع کیا۔
اسی وجہ سے ہی انہیں شہرت ملی اور ان کا شمار دنیا کے مشہور ترین اداکاروں میں ہوتا ہے، وہ 88 سال کی عمر میں 1977 میں سوئٹزرلینڈ میں چل بسے تھے۔
اگرچہ چارلی چپلن کے کردار کو دنیا کے دیگر ممالک کے فنکاروں نے بھی کاپی کرنے کی کوشش کی، تاہم پاکستان کے صوبہ خیبرپختونخوا(کے پی)کے دارالحکومت پشاور کے 28 سالہ نوجوان عثمان خان کو ہوبہو ان کی کاپی قرار دیا جا رہا ہے۔ رائٹر کے مطابق عثمان خان تیزی سے مقبول ہو رہے ہیں
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق عثمان خان کے چارلی چپلن کے روپ کو بہت سراہا جا رہا ہے اور دنیا بھر میں انہیں معروف اداکار کا دوسرا روپ قرار دیا جا رہا ہے۔
عثمان خان نے رائٹرز کو بتایا کہ وہ ایک سال قبل تک سڑک کنارے بچوں کے کھلونے بیچنے کا اسٹال لگاتے تھے، تاہم کورونا کی وجہ سے نافذ کیے گئے لاک ڈاون کے بعد انہوں نے پریشان لوگوں کے چہروں پر مسکراہٹیں لانے کا فیصلہ کیا۔
انہوں نے بتایا کہ لاک ڈاون کے دوران ہی انہوں نے چارلی چپلن کا روپ دھارا اور کوئی بھی ڈائیلاگ بولے بغیر لوگوں کو ہنسانا شروع کردیا۔

جلد ہی عثمان خان پورے علاقے میں مشہور ہوگئے اور انہوں نے اپنے نئے روپ سے زیادہ لوگوں کو ہنسانے کے لیے شارٹ ویڈیو شیئرنگ ایپ ٹک ٹاک پر بھی ویڈیوز ڈالنا شروع کیں۔
گزشتہ ماہ 22 جنوری کو ڈان سے بات کرتے ہوئے عثمان خان نے بتایا تھا کہ کورونا کے بعد جہاں وہ خود بھی پریشان تھے، وہیں باقی لوگ بھی پریشان ہوگئے تھے، اس لیے انہوں نے لوگوں کے چہروں پر مسکراہٹیں بکھیرنے کے لیے چارلی چپلن کا کردار ادا کیا۔
پاکستانی چارلی چپلن یعنی عثمان خان پشاور شہر کی مختلف سڑکوں، شاپنگ مالز، دکانوں اور عوامی مقامات پر معروف کردار جیسا روپ دھار کر وہاں کوئی بھی ڈائلاگ بولے بغیر اپنی حرکتوں اور اداکاری سے لوگوں کو ہنسنے پر مجبور کردیتے ہیں۔
عثمان خان ہوبہو چارلی چپلن کا روپ دھارتے ہیں۔
عثمان خان کی ان ہی کاوشوں کو دیکھتے ہوئے چند دن قبل ہی خیبرپختونخوا حکومت نے انہیں سرکاری ملازمت دینے کا اعلان بھی کیا تھا۔
کے پی کے وزیر ثقافت شوکت یوسف زئی نے دو دن قبل ہی اعلان کیا تھا کہ حکومت عثمان خان کے معاشی مسائل حل کرنے کے لیے انہیں ملازمت فراہم کرے گی۔