طالبان کی قیادت


افغان طالبان کی قیادت کے بارے میں کم ہی تفصیلات سامنے آتی ہیں کیوں کہ ان کی قیادت رازداری سے کام کررہی ہوتی ہے اور ویسے بھی وہ نمائش کے قائل نہیں ہیں۔ یہاں تک کہ جب انہوں نے افغانستان میں 1996 سے 2001 تک اپنی حکومت قائم کی اس وقت بھی ان کی حکومت کے امور کس طرح سر انجام دیے جارہے تھے لوگوں کو اس حوالے سے کم ہی معلومات تھیں۔ اس اسلامی گروپ کا سربراہ طاقت کا سر چشمہ سمجھا جاتا ہے۔
سپریم لیڈر ہیبت اللہ اخونزادہ
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق ہیبت اللہ اخونزادہ کو 2016 میں ان کے پیش رو ملا منصور اختر کی امریکی ڈرون حملے میں موت کے بعد طالبان کا نیا سربراہ مقرر کیا گیا تھا، ملا منصور کو ملا عمر کی موت کے اعلان کے بعد جنگجوں کا سربراہ مقرر کیا گیا تھا۔مذکورہ عہدے پر فائز کیے جانے سے قبل ہیبت اللہ ایک مذہبی شخصیت کے طور پر جانے جاتے تھے، انہیں عسکری کمانڈر سے زیادہ روحانی شخصیت کے طور پر جانا جاتا ہے۔
طالبان کی قیادت سنبھالنے کے بعد القاعدہ کے سربراہ ایمن الظوہری نے ہیبت اللہ اخونزادہ کی بیعت کی تھی، جس پر انہوں نے ہیبت اللہ کو وفاداروں کے امیر قرار دیا تھا۔
یاد رہے کہ ہیبت اللہ نے ایک ایسے وقت میں طالبان کی قیادت سنبھالی تھی جب جنگجوں کی قیادت کو ملا عمر کی موت کو کئی سالوں تک چھپائے جانے کے بعد اس کا عوامی سطح پر اعلان کرنے اور اس حوالے سے جنگجوں میں پیدا ہونے والی تشویش کو ختم کرنے جبکہ ملک میں دیگر عسکری محاذوں پر دبا کا سامنا تھا۔
ہیبت اللہ بیشتر بیانات جاری نہیں کرتے بلکہ صرف مذہبی تہواروں پر ہی ان کے بیانات سامنے آتے ہیں۔
عبدالغنی برادر کی پرورش افغانستان کے علاقے قندہار میں ہوئی اور یہ علاقہ طالبان کی جائے پیداش بھی ہے۔
دیگر افغانوں کی طرح ان کی زندگی کا بیشتر حصہ بھی 1970 میں روسیوں کے قبضے کے بعد مزاحمت کار کے طور پر گزرا، انہوں نے ملا عمر، سابق طالبان سربراہ اور تنظیم کے بانی، کے ساتھ کئی محاذوں میں حصہ لیا۔
دونوں نے مل کر 1990 میں طالبان کی بنیاد رکھی جس کا مقصد ملک سے کرپشن کا خاتمہ اور افراتفری کو ختم کرنا تھا، جو روسیوں کی پسپائی کے بعد ملک میں وسیع پیمانے پھیل گئی تھی۔
امریکی حملے اور طالبان کی حکومت کے اختتام پر 2001 میں وہ اس مختصر مزاحمت گروپ کا حصہ تھے جنہوں نے حامد کرزئی کی حکومت کے ساتھ کام کیا اور ایسا ایک معاہدے کے بعد ہوا تھا۔
خیال رہے کہ 2010 میں پاکستان نے ملا برادر کو گرفتار کرلیا تھا اور 2018 میں امریکا کی جانب سے ان کی رہائی کے لیے پاکستان پر دبا ڈال گیا تھا، رہائی کے بعد وہ قطر منتقل ہوئے۔قطر منتقل ہونے پر ملا برادر کو طالبان کے سیاسی دفتر کا سربراہ مقرر کیا گیا اور اس دوران انہوں نے امریکا سے کامیاب امن معاہدہ بھی کیا۔
سراج الدین حقانی اور حقانی نیٹ ورک
سراج الدین حقانی روس کے خلاف مزاہمت کرنے والے سابق کمانڈر جلال الدین حقانی کے بیٹے ہیں۔یاد رہے کہ سراج الدین حقانی نہ صرف طالبان کے اہم لیڈر ہیں بلکہ وہ حقانی نیٹ ورک کے بھی انتہائی طاقت ور ترین سربراہ تصور کیے جاتے ہیں۔
حقانی نیٹ ورک کو امریکا نے عالمی دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کر رکھا ہے اور بہت طویل عرصے سے انہیں انتہائی خطرناک افغان جنگجو تنظیم کے طور پر جانا جاتا ہے جبکہ انہوں نے دو دہائیوں تک امریکا اور نیٹو افواج کے خلاف حملے جاری رکھے۔یہ نیٹ ورک خود کش حملوں کے لیے جانا جاتا ہے اور دعوی کیا جاتا ہے کہ یہ گروپ کئی سالوں تک کابل میں ہونے والے انتہائی خطرناک حملوں میں ملوث رہا ہے۔
علاوہ ازیں مذکورہ گروپ پر افغان حکومت کے اہم عہدیدارانکے قتل اور اغوا کا بھی الزام لگایا جاتا ہے جبکہ ان پر مغربی شہریوں کو تاوان کے لیے اغوا کرنے کا بھی الزام ہے جن میں سے ایک امریکی سپاہی کو 2014 میں رہا کیا گیا تھا۔
ملا عمر کے بیٹے ملا یعقوب
ملا یعقوب طالبان کے سابق اور بانی سربراہ ملا عمر کے بیٹے ہیں۔ملا یعقوب طالبان کی طاقت ور ترین عسکری شوری کے سربراہ ہیں، جو فیلڈ میں موجود کمانڈرز کی رہنمائی کرتی ہے اور انہیں جنگ کی حکمت علمی سے متعلق آگاہ کرتی ہے۔ان کے نسب اور والد سے تعلق کے باعث انہیں طالبان جنگجوں کے درمیان بہت اہمیت حاصل ہے۔خیال رہے کہ اس قسم کی خبریں بھی گردش کرتی رہی ہیں کہ انہیں قیادت دینے کے حوالے سے جنگجوں کے درمیان چپقلش بھی ہوئی تھی جبکہ کچھ ماہرین نے زور دیا ہے کہ 2020 تک ان کا کردار صرف نمائشی تھا۔