کروڑوں روپے کی مشینری اور سینکڑوں ملازمین ہونے کے باوجود کتب پرائیویٹ پریس سے چھپوائی جاتی ہیں

اسلام آباد(خصوصی نمائندہ)علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی بی اے اور دیگر پروگراموں میں طلبہ کو معلومات اور بروقت کتب کی فراہمی میں ایک بار پھر ناکام ہوگئی ہے ۔ ذرائع کے مطابق اوپن یونیورسٹی کے طلبہ کو مشقیں مکمل کرنے سے وقت سے ایک دن پہلے کتب فراہم کی گئیں ہزاروں طلبہ کو تاحال کتب ملی ہی نہیں ہیں۔ دورراز کے علاقوں سے طلبہ و طالبات اپنے والدین سے آکر افسران سے لڑائی جھگڑتے کرتے نظر آتے ہیں ۔دوسری جانب اتنی بڑی کتب چھاپنے کی مشین لگانے کے باوجودکتب محض کمیشن کمانے کیلئے باہر سے پرائیویٹ پریس سے چھپوائی جاتی ہیں جبکہ اوپن یورنیورسٹی کے پریس کے سینکڑوں ملازمین مفت کی تنخواہیں لے رہے ہیں طلبہ نے احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ کتب کی ترسیل میں یونیورسٹی مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے ۔ ہر سال یہ مسئلہ پیش آتا ہے یورنیورسٹی انتظامیہ ٹس سے مس نہیں ہوتی ہے۔یونیورسٹی کے مدد گار نمبر پر کوئی فون اٹینڈ ہی نہیں کرتا ہے ۔ دوسری جانب یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ مختلف ریجنز میں خواتین ٹویٹرز کو قواعد سے ہٹ کر زیادہ فائلیں دی جا رہی ہے وائس چانسلر کا بنایا گیا کمپیوٹرائزڈ سسٹم بھی ملازمین نے توڑ کر دکھا دیا ہے ۔ یونیورسٹی کی ناقص پالیسیوں کی وجہ سے اس کے معیار کے ساتھ ساتھ ان کے طلبہ کی تعداد بھی دن بدن کم ہو رہی ہے ۔




