پارک جانے کا پروگرام ریمبو نے بنایا تھا ، میری نازیبا ویڈیو بھی بنارکھی ہیں،بلیک میلر دس لاکھ ہڑپ کر چکا ہے ، عائشہ

لاہور:سانحہ گریٹر اقبال پارک کیس میں نیا موڑ آگیاہے،متاثرہ خاتون عائشہ اکرم نے تمام واقعہ کا ذمہ دار اپنے ساتھی ریمبو کوقرار دیدیا جسے پولیس نے گرفتار کرلیا ہے۔
عائشہ نے ڈی آئی جی انوسٹی گیشن کو تحریری بیان جمع کروا دیا جس میں کہا گیا کہ گریٹر اقبال پارک جانے کا پلان ریمبو نے ہی بنایا تھا، ریمبو نے اپنے ساتھیوں کے ہمراہ میری نازیبا ویڈیوز بنارکھی ہیں، ان ویڈیوز کی وجہ سے ریمبو مجھے بلیک میل کرتا رہا ۔عائشہ نے کہا کہ ریمبو مجھے بلیک میل کرکے دس لاکھ روپے لے چکا ہے ، میں اپنی تنخواہ میں سے آدھے پیسے ریمبو کو دیتی تھی ۔ ریمبو اپنے ساتھی بادشاہ کے ساتھ مل کر ٹک ٹاک گینگ چلاتا ہے ۔
ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) انویسٹی گیشن کے مطابق عائشہ کے ساتھی ریمبو کوحراست میں لے لیا ہے۔ڈی آئی جی کا کہنا ہے کہ ریمبو کے علاوہ دیگر 6 افرادکو بھی حراست میں لیا ہے۔
ڈی آئی جی کے مطابق خاتون نے واقعے کاذمے دارریمبواوراس کے ساتھیوں کو ٹھہرایا۔موقف جاننے کے لیے ڈی آئی جی انوسٹی گیشن شارق جمال سے رابطہ کیا گیا تاہم انہوں نے فی الحال اس کیس پر بات کرنے سے انکارکیا ہے۔
دوسری جانب ٹاک ٹاکر عائشہ اکرم کو بلیک میل کرنے کے الزام میں گرفتار ملزم ریمبو کا کہنا ہے کہ عائشہ نے نہ جانے کیوں مجھے میڈیا پر بھائی بنایا، مجھے نہیں پتہ کہ گھبرا کر مجھے بھائی بولا۔لاہور کی عدالت کے احاطے میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ملزم ریمبو نے کہا کہ کسی کی جان بچانے کی یہی سزا ملتی ہے، سبق یہی ملتا ہے کہ کسی کا ساتھ نہیں دینا چاہیئے۔ملزم نے کہا کہ 2 ماہ سے عائشہ اکرم کا ساتھ دے رہے تھے، مجھ سمیت گرفتار تمام افراد اس کیس کے گواہ بھی ہیں، منظرِ عام پر آنے والی ویڈیو ایک سال پرانی ہے۔ عائشہ اکرم مقدمے کے ملزمان سے 5، 5 لاکھ روپے لینا چاہتی تھی، میں نے اسے کہا کہ رقم کے پیچھے نہ بھاگو۔ سمجھانے پر عائشہ اکرم نے غلیظ زبان استعمال کی، اس نے دھمکی دی کہ اس کے مطابق بیان نہ دیا تو جیل کی ہوا کھانی پڑے گی۔
ملزم ریمبو نے عائشہ اکرام کے الزامات سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ میں ہی جانتا ہوں کہ کس طرح عائشہ کو ہجوم سے زندہ لے کر گھر آیا تھا۔


