ای سی سی نے افغانستان کو مزید 14 اشیا پاکستانی روپے میں برآمد کرنے کی منظوری دے دی

فیصلہ افغانستان میں غذائی بحران اور ابتر صورتحال کے پیش نظر کیا گیا

اسلام آباد:پاکستان نے افغانستان کو مزید 14 اشیاء پاکستانی روپے میں برآمد کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ یہ فیصلہ وزیر خزانہ شوکت ترین کی زیر صدارت ای سی سی اجلاس میں کیا گیا ۔ مذکورہ فیصلہ وزیر خزانہ شوکت ترین کے زیر صدارت اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کے افغانستان کو برآمدات میں کمی کے حوالے سے اجلاس منعقد ہوا۔
اس فیصلے کے تحت جب تک مغرب، طالبان کی زیر قیادت حکومت تسلیم نہیں کر لیتا تب تک طالبان کو پاکستان سے اشیائے ضروریہ و خوراک درآمد کرنے میں مدد ملے گی۔
ای سی سی نے کہا کہ مذکوہ فیصلہ افغانستان میں غذائی بحران اور ابتر صورتحال کے پیش نظر کیا گیا ہے۔
مذکوہ فیصلہ افغانستان میں غذائی بحران اور ابتر صورتحال کے پیش نظر کیا گیا۔
یاد رہے طالبان کے کابل پر قبضے کے بعد پاکستان کی جانب سے متعدد اقدامات کیے گئے ہیں، جس میں افغانستان سے سبزیوں اور پھلوں کی درآمدات پر ڈیوٹی میں کمی بھی شامل ہے، اس سلسلے میں ای سی سی نے افغانستان سے چلغوزے کی درآمدات پر ڈیوٹی میں چھوٹ دی ہے۔
ای سی سی نے مقامی کرنسی میں افغانستان برآمدات کے لیے جن اشیا کی اجازت دی ہے، اس میں چاول، مچھلی اور مچھلی کی مصنوعات، پولٹری، گوشت اور اس کی مصنوعات، مٹھائیاں، بیکری کی مصنوعات، پھل، میوہ جات، اور آئل کیک و دیگر ٹھوس باقیات، ماچس، ٹیکسٹائل و ٹیکسٹائل آرٹیکلز، تعمیراتی پتھر اور سرجیکل آلات شامل ہیں۔
حال ہی میں پاکستان کی جانب سے پھل، سبزیوں، ڈیری اشیا اور گوشت کی برآمدات مقامی کرنسی میں کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔
مالی سال 2021 کے ابتدائی نصف سال سے رواں مالی 2022 کے دوران پاکستان سے افغانستان کو برآمدات میں کمی دیکھی گئی کہ جو 51 کروڑ 72 لاکھ 40 ہزار ڈالر سے کم ہوکر 32 کروڑ 82 لاکھ 50 ہزار ڈالر رہ گئی ہے۔
سال 2002 میں جنرل پرویز مشرف کے دور اقتدار میں حکومت نے افغانستان کی مارکیٹ میں پاکستانی مصنوعات فروخت کرنے کے لیے برآمدکنندگان کو سہولیات فراہم کرنے کا فیصلہ کیا تھا جس کے نتیجے میں مقامی کرنسی کے ذریعے برآمدات کے لیے ایس آر او -31 جاری کیا گیا تھا اور سال 03-2002 کے دوران افغانستان کو 38 لاکروڑ، 86 لاکھ 67 ہزار ڈالر کی برآمدات کی گئی تھیں۔