جلسہ تقسیم اسناد کی سیاسی تقریب

ٹاپ ٹین گانوں اور فلموں بارے تو سنا تھا اب وزارتوں کا شمار بھی ٹاپ ٹین میں ہونے لگا ہے
جزاء اور سزاء پر زور دینے والے وزیراعظم بری کارکردگی والوں کو کیا سزاء دے رہے ہیں


اِسی دشت کی سیاہی میں ایک عمر گزری ہے پہلے ایک طالب علم کی حیثیت سے پھر سیاسی سماجی کاموں کے حوالے سے ہم تعلیمی اداروں اور دانش گاہوں میں تقسیمِ اسناد و انعامات کے جلسے دیکھتے چلے آرہے ہیں ہیں۔تاہم بھلا ہو جنابِ وزیراعظم کا ان کے طفیل پہلی مرتبہ ہمیں سیاسی جلسہ تقسیمِ اسناد دیکھنے کا موقع ملا ہے جنابِ عمران خان نے مکتبِ سیاست میں بھی نرالے اصول متعارف کرائے ہے ( حکما ) کا کہنا ہے کہ اگر آپ کوئی منصوبہ زیرِ عمل لانا چاہ رہے ہیں تو اس کے سارے پہلوئوں کا تفصیلی جائزہ لیں مستقبل میں جھانک کر منصوبے کے مثبت اور منفی نتائج کا حتی المقدور اندازہ لگائے اور اِس شعبے کے ماہرین کے ساتھ اِسے زیرِ بحث لا کر اِسے ازنِ گوئیائی دے مگر خان صاحب اِس طرح کے تکلفات میں نہیں پڑتے ۔وہ با آوازِ بلند سوچتے اور پھر پبلک جلسوں میں اپنے برملا خیالات کا اظہار بھی کر دیتے ہیں یہ تو بعد میں پتہ چلتا ہے کہ ایک کروڑ نوکریاں دینا پچاس ہزار گھر تعمیر کرنا اور آئی۔ ایم ۔ایف کے پاس نہ جانا ممکن نہیں ۔
فلمی گانوں بینکوں اور درسگاہوں کی پرفارمنس جاننے کا ایک نپا تلا طریقہ کار موجود ہوتا ہے جس سے آپ ٹاپ ٹین 10 کا پتہ چلا سکتے ہیں تاہم کوچہِ سیاست بڑا پر پیچ ہے یہا ںوزارتوں کی پرفارمنس معلوم کرنے کا کوئی سائنٹیفک پیمانہ موجود نہیں۔
مجھے حیرت ہے کے کِس بقراط نے وزارتِ مواصلات سے لے کر وزارتِ اطلاعات تک اور وزارتِ خارجہ سے لیکر وزارتِ مذہبی امور تک سب کی کارکردگی ناپنے کا یکسا ں فارمولا ایجاد کیا اور جنابِ وزیراعظم نے غالبا گہرے غور و فکر کے بغیر اِسے نافذ بھی کر دیا ۔کِسی حکومت کی پرفارمنس جانچنے کا اگر کوئی ایک فارمولا ہو تو وہ صِرف اور صرِف یہ کہ اِس وزارت یا محکمے کے بارے میں عوام کیا کہتے ہیں
جس وزیر کو ٹاپ ٹین میں نمبر ون کا ایوارڈ ملا ہے اِن کے بارے میں رائے عامہ یہ ہے کہ انہوں نے سابقہ حکومت کی زیرِ تکمیل سڑکوں پر اپنی حکومت کے بورڈ آویزاں کئے ہیں وزیرِ موصوف کی آمد سے قبل موٹروے کا جو ٹول ٹیکس 300 روپے کا تھا اب 1300 روپے کا ہوگیا ہے۔اسی طرح وزیر صاحب نے ڈاک کے ٹکٹ دو گناہ مہنگے کر دئیے ہیں محوِ حیرت عوام پوچھتے ہیں کہ جناب مراد سعید کو ہمارے مصائب میں ناقابلِ برداشت اضافہ کرنے پر ایوارڈ دیا گیا ہے ؟
مزید پریشان کن بات یہ ہے کہ آسمان کی بلندی تک پہنچی ہوئی مہنگائی پر لوگ چیخ و پکار کر رہے ہیں اور جناب عمران خان وزیروں میں حسنِ کارکردگی کی اسناد تقسیم کر رہے ہیں ۔
ٹاپ ٹین میں سے اسد عمر شیریں مزاری اور کسی حد تک ثانیہ نشتر کے علاوہ باقی وزراں کو کس کارکردگی کا اعزاز ملا ہے 4-نمبر پر آنے والے وزیرِ تعلیم شفقت محمود نے بڑا غل غلا برپا کیا تھا کہ انہوں نے تمام انگریزی و اردو میڈیم سکولوں میں یکساں نظامِ تعلیم رائج کردیا ہے جبکہ آن گراوئنڈ صورتحال یہ ہے کہ سرکاری اور پرائمری سکولوں میں انگریزی نظام بزورِ شمشیر نافظ کیا گیا ہے یہ وہی انگریزی میڈیم ہے جو سابقہ ادوار میں چل رہا تھا۔ اِس انگلش نصاب کی بناں پر پنجاب کے دیہی سکولوں میں لاکھوں طلبہ فیل ہوئے اور لاکھوں سکول چھوڑ کر سٹریٹ چلڈرن بن گئے جنابِ عمران خان تو اٹھتے بیٹھتے انگریزی پر نقطہ چینی کرتے اور اردو کے گن گاتے رہتے ہیں عالمی اور پاکستانی ماہرینِ تعلیم بچوں کو اپنی مادری یا قومی زبان میں ابتدائی اور ثانوی تعلیم پر زور دیتے ہیں یکساں نصاب کی اِس ادھوری کوشش کا عملی نتیجہ یہ نکلا ہے کہ اعلی انگلش میڈیم اسکولوں میں وہی غیرملکی نصاب پڑھایا جا رہا ہے
حکومتی نصاب کی ایک آدھ نمائشی کتاب کلاسوں میں دکھاوے کے طور پر لگا دی جاتی ہے باقی سب کچھ پرانا ہے کیا معصوم پاکستانی طلبہ و طالبات پر یوں ہی آئے روز طرح طرح کے تجربات کیے جاتے رہیں گے ؟ اِسی طرح جنابِ شفقت محمود کے زمانے میں یونیورسٹیوں کی گرانٹس اور ان کی ریسرچ فنڈز روک دئیے گئے ہیں کیا وزیرِ موصوف کو شعبہ تعلیم زیر و زبر کرنے پر ٹاپ ٹین میں چھوتھا نمبر دیا گیا ہے ؟
خسرو بختیار صاحب کی پہلی وزارت میں چینی کا سکینڈل سامنے آیا تھا اور اب کسانوں کو یوریا کے بدترین بحران کا سامنا ہے یوریا کی جو بوری اڑہائی تین ہزار میں ملا کرتی تھی وہ گزشتہ دنوں بلیک مارکیٹ میں آٹھ /نو ہزار میں بکتی رہی ہیں اِس پر انہیں تاریخی صنعت نہیں جرمانہ کیا جانا چاہیے تھا
اسِ طرح جناب فخر امام وزیرِ خوراک ہے ان کے دور میں پاکستانی اناج گھر کو باہر سے ناقص گندم منگوانا پڑی اِس کے علاوہ وہ خوراک کا ایک بہت بڑا حصہ یہاں پیدا کرنے کے بجائے بیرونِ ملک سے بھاری نرخوں پر درآمد کیا جا رہا ہے انہی وجوہات کی بنا پر عوام کو کمر توڑ مہنگائی کا عذاب جھیلنا پڑ رہا ہے کیا اِ س پرفارمنس پر وزیرِ خوراک کو ایوارڈ دیا گیا ہے ؟

پریشان حال عوام پوچھتے ہیں کہ وزیرِ خوراک کو کِس حسنِ کارکردگی پر ایوارڈ دیا گیا ہے ۔وزیرِ داخلہ کی حیثیت سے شیخ رشید کی کارگردگی ساری دنیا کے سامنے ہے سارے ملک میں لا اینڈ آرڈر کی حالت ناگفتہ بہ ہے جب کہ دارالحکومت اسلام آباد میں روز ڈاکے پڑھ رہے ہیں اور شہری لٹ رہے ہیں ۔جِن وزراء یا مشیران کو ایوارڈ نہیں دیا گیا اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کی کارکردگی ناقص ہے ناقص پرفارمنس والو میں وزیرِ دفاع پرویز خٹک وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی وزیرِ خزانہ شوکت ترین وزیرِ قانون فروغ نسیم اور وزیرِ اطلاعات فواد چوہدری شامل ہیں ۔فواد چوہدری حکومت کے دفاع میں وہ قرض بھی اتارتے رہتے ہیں جو ان کے ذمے واجب الادا نہیں وزیراعظم کے بیان کردہ فلسفے کے مطابق جزا و سزا کا اصول ہونا چاہیے۔ جن 10 وزرا کو ایوارڈ دیا گیا ہے انہیں تو اچھی کارکردگی کی جزا مل گئی اب جنابِ عمران خان یہ بھی اعلان فرما دیں کہ ناقص کارکردگی والوں کو وہ کیا سزا دیں گے ؟

میں یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ جب حکومت کی کشتی بیچ منجھدار ڈول رہی ہے اِس وقت 53 میں سے صرف دس کو ایوارڈ کا مستحق گرداننا اور باقیوں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان چھوڑ دینا پارٹی کے لئے نقصان کا موجد ہوگا
ایوارڈ یافتہ اور نان ایوارڈ یافتہ کی تقسیم اب حکومت میں ہر جگہ نظر آئے گی اتحادی جماعتوں کے وزیروں میں سے کسی کی کارکردگی معیاری شمار نہیں کی گئی ایسی تقسیم تو اپنے پائوں پر کلہاڑا مارنے کے مترادف ہے مختلف وزارتوں کے بارے میں حکومت کے بیانات اور ٹاپ ٹین کی فہرست میں بڑا دلچسپ تضاد ہے ۔
ایک طرف حکومت کا کہنا ہے کہ وزارتِ خزانہ کی کارکردگی بڑی شاندار ہے مگر وہ ایوارڈ کے مستحق نہیں گردانے گئے۔ وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی بھی اپنے طور پر زبردست بھاگ دوڑ کرتے دکھائی دیتے ہیں مگر وہ بھی ٹاپ ٹین میں نہیں آئے ۔جس پر انہوں نے اپنا تحریری احتجاج بھی ریکارڈ کروایا ہے
وزارتوں کی کارکردگی جانچنے کا معیار کیا تھا ؟ اِس سوال کا حکومت یا وزیراعظم کے مشیر شہزاد ارباب کی طرف سے کوئی تسلی بخش جواب نہیں دیا گیا حقیقی پرفارمنس جانچنے کا مسلمہ اصول تو یہ ہے کہ پہلے وہ فارمولا بیان کیا جائے جس پر کارکردگی کو پرکھا جائے گا پھر ہر وزارت کا تھرڈ پارٹی آڈٹ کروایا جائے تب پتا چلے گا کہ کون کتنے پانی میں ہے
خود کوزہ و خود کوزہ گر و خود گلِ کوزہ کے مرتب کردہ نتائج کو کوئی تسلیم نہیں کرتا خان صاحب خوب جانتے ہیں کہ تقریبِ تقسیم انعامات کھیل کے اختتام پر منعقد کی جاتی ہے تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ خان صاحب کا اقتدار کا کھیل ختم ہو چکا ہے۔

                                                                                             رفعت عباسی سئنیر  نائب صدر پاکستان مسلم لیگ ن  ڈسٹرکٹ راولپنڈی