
زندگی کی آپا دھاپی میں بعض دن ہر ایک ملک و مملکت کے شہریوں کیلئے سنگ میل کی حیثیت کے حامل ہوتے ہیں اور زندہ قومیں یہ دن جوش و جذبے سے منا کر اس عزم و عہد کی تجدید کرتی ہیں۔27 فروری کا دن بھی ملکی تاریخ میں 6 ستمبر کی سی حیثیت رکھتا ہے. 6 ستمبر 1965 کو جب بزدل دشمن کی طرف سے ملک عزیز پہ شب خون مارا گیا تو پاک افواج بالخصوص پاک فضائیہ نے جس جرات و بہادری سے دشمن کی پیش قدمی کو فرار میں تبدیل کیا، جنگی تاریخ میں اس کی نظیر ملنا مشکل ہے. 27 فروری کو بھی بھارت نے روایتی جارحیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے وطن پاکستان میں دخل دراندازی کی کوشش کی جسے پاک فضائیہ کی بروقت کاروائی نے ہزیمت میں بدل دیا۔27 فروری کے دن کو پاکستان کی تاریخ میں آپریشن سوئفٹ ریٹارٹ کے نام سے یاد رکھا جاتا ہے اور اس معرکے میں تاریخ رقم کرنے پر ایئر چیف مارشل مجاہد انور خان نے اسے آپریشن سوئفٹ ریٹارٹ کا نام دیا۔
فوجیوں کی زندگی بھی عجیب ہوتی ہے آگ و خون کے دریا میں تیرتے ہوئے پھول اور شبنم کا موضوع چھڑے رکھتے ہیں گولیوں اور بارود کے دھماکوں میں ساز و باجے کی آوازوں کا تذکرہ کرتے ہیں موت کے سفر میں زندگی کی باتیں کرتے ہیں ہجر اور جدائی کی ترقی کو وصال کے میٹھے سپنوں سے سہارتے ہیں۔
پاکستان افواج وہ فورس ہے جو دشمن کی خواہش کا بھی احترام کرتی ہے۔ ستمبر 1965 میں بھارتی فوج نے لاہور میں صبح کا ناشتہ اور شام کی چائے کی خواہش کی تھی اس وقت کی بھی چائے اور ناشتہ تاریخ کا حصہ ہے جبکہ تین سال قبل ستائیس فروری کی چائے کی چسکی The Tea is Fantasticبھارت کے لئے وہ عالمی سبکی ہے جسے دورجدید کے تقاضوں کے تحت کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔
ابھی نندن جن پر حملہ کرنے کی غرض سے آیا تھا ان کی مہمان نوازی کا گرویدہ ہوگیا۔ بھارتی ایئر فورس کے ونگ کمانڈر ابھی نندن نے جاتے وقت افواج پاکستان اور پاکستانی چائے کی بہت تعریف کی۔
بھارتی فضائیہ کی کارگردگی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے اب وہ پاکستان کی طرف سے جانے والے گیس کے غبارے اور کبوتر سے بھی ڈر جاتے ہیں۔ وہ ان معمولی چیزوں سے اس قدر گھبرا جاتے ہیں کہ لڑاکا طیارے ان کے پیچھے لگا دیتے ہیں۔
تاریخ شاہد ہے کہ 1965 کی پاک، ہند جنگ کے دوران، جہاں ہندوستان کو پاک فضائیہ کے ہاتھوں بہت زیادہ نقصان اور شرمندگی اٹھانی پڑی وہاں اس کی سبکی کا ایک واقعہ یہ بھی تھا کہ پاک فضائیہ نے ہندوستانی جنگی طیارہ پاکستانی ہوائی اڈے پہ اتروا لیا اور اس کے پائلٹ نے جان بچانے کے لئے سرنڈر کیا۔ اس واقعہ کی نشانی وہ ہندوستانی جنگی طیارہ آج بھی پاکستان کی تحویل میں ہے اور پی ایف میوزیم کراچی میں بھارتی سورماوں کا منہ چڑا رہا ہے۔
اسی طرح 27 فروری کا دن پاک فضائیہ اور پاکستان کی تاریخ میں ایک درخشاں باب کی مانند ہے یہ وہ دن ہے جب پاک فضائیہ نے رات کی تاریکی میں دشمن کی بزدلانہ حرکت کا جواب دن کی روشنی میں کامیاب حملہ کر کے دیا۔ اس حملے میں پاک فضائیہ کے شاہینوں نے دشمن کے دو لڑاکا طیاروں کو بھی تباہ کیا اور تباہ ہونے والے ایک بھارتی طیارے کا ملبہ پاکستان کی حدود میں گرا اور ابھینندن نامی ایک پائلٹ کو بھی گرفتار کر کے بزدل دشمن کو بتایا کہ رات کی تاریکی ہو یا دن کا اجالا پاک فوج کے جوان اور فضائیہ کے چاک و چوبند پائلٹ دشمن کے مذموم ارادوں کو ناکام بنانے کیلئے تیار ہیں اور بزدل دشمن یہ مت بھولے کے یہ وہ فوج ہے جس کے جوان شہید ہونا اعزاز سمجھتے ہیں اور دشمن کو موت کے گھاٹ اتارنا ثواب سمجھتے ہیں۔
27 فروری 2019 کو پاک فوج کی کمال جنگی حکمت عملی نے اپنے سے کئی گنا بڑی بھارتی فوج کو تگنی کا ناچ نچایا۔پاک سرزمین میں داخلے کی کوشش پر دشمن کے دو جنگی طیارے مار گرائے۔ سینئر پائلٹ ابھینندن کی گرفتاری کا زخم بھی ازلی دشمن کو اس کی عبرتناک شکست کی یاد دلاتا رہے گا جو آزاد کشمیر کے سماہنی سیکٹر پر رقم کی گئی۔بزدل دشمن نے پلوامہ واقعے کا بہانہ بنا کر پاکستانی قوم اور پاک فوج کو للکارا تھا۔ بھارتی طیاروں نے 25 اور 26 فروری 2019 کی درمیانی شب آزاد کشمیر میں در اندازی کرتے ہوئے بالاکوٹ میں جعلی آپریشن کاڈرامہ رچایا جسے مودی نے دنیا کے سامنے سرجیکل سٹرائیک بنا کر اپنے تئیں خود کو ایک طاقت ور ملک منوانے کی بھونڈی حرکت کی۔ پاکستانی طیاروں نے تعاقب کیا تو دشمن کے جہازوں نے بدحواسی میں اپنے پے لوڈ گرا کر بھاگنے میں ہی عافیت جانی۔بھارت کے رات کی تاریکی میں وار پر پاک فوج نے سماہنی سیکٹر میں دندان شکن جواب دیا اور دشمن کو دن میں تارے دکھائے۔
بھارت کا ایک طیارہ آزاد کشمیر میں، دوسرا مقبوضہ کشمیر کی حدود میں گرا۔ ایک ہی دن بعد جوابی حملے نے پاکستانی قوم کا سر فخر سے بلند کر دیا اور جنگ کی باتیں کرنے والا بھارت حواس باختہ ہو گیا اور اپنے گرفتار پائلٹ کی واپسی کیلئے منتیں ترلے کرنے پر آ گیا بلکہ بھارت کا وہ غصہ جو پلوامہ حملے (پلوامہ حملے پر تو اب بھارت میں بھی آوازیں اٹھنے لگی ہیں اور کئی بھارتی دانشور یہ سوال اٹھا چکے ہیں کہ پلوامہ حملہ اندرونی سازش کا نتیجہ تھا تا کہ اس کا الزام پاکستان پر لگا کر پاکستان کو عالمی دنیا میں بدنام کیا جا سکے اور جنگ کا ماحول بنا کر پاکستان کو ڈرایا جا سکے لیکن بزدل دشمن بھول گیا تھا کہ یہ فوج کے وہ جوان ہیں جو دشمن سے کبھی غافل ہوتے ہیں اور نہ ہی انہیں کسی بات کا خوف ہوتا ہے۔
دشمن نے رات کی تاریکی میں حملہ کیا تھا، لیکن ہم نے دن کی روشنی میں اسے تارے دکھائے ۔ دشمن نے پاکستان کے سول علاقے کو نشانہ بنایا، لیکن ہماری قیادت نے بھارتی سور مائوں کے ملٹری ٹارگٹس کا انتخاب کیا، کیوں کہ یہ عدو کی ملٹری قیادت تھی، جس نے پاکستان کی خود مختاری اور سالمیت کو چیلنج کیا تھا۔ لہذاانتہائی احتیاط کے ساتھ مقبوضہ کشمیر میں6نشانے چنے گئے، جو گیریژن علاقوں کے ڈپو وغیرہ تھے۔ 27فروری 2019 کو صبح 9 بجے سورج کی چمکتی سنہری روشنی میں ہمارے کچھ جے ایف تھنڈر طیارے، چند میراج طیارے اور ایئر بورن ارلی وارننگ طیارے (ERIEYE) 2000 بردوشِ ہوا ہوگئے۔
پاکستانی فضائیہ کی جوابی کارروائی کے بعد پاک فضائیہ کے ڈپٹی چیف آف ایئر اسٹاف (آپریشن) ایئر کموڈور ،حسیب پراچہ نے کہا کہ پاک فضائیہ کی ہائی کمان کے لیے بھارتی فضائیہ کا حملہ کسی بھی طرح ناگہانی نہیں تھا، بلکہ ہم 2018سے اس کی توقع کررہے تھے اورہم نے ملکی سرحدوں کی خلاف ورزی کی صورت میں جوابی کارروائی کی مکمل اور بھرپور تیار ی بھی کی ہوئی تھی، لہذا اپنے منصوبے پر عمل درآمد کے لیے صرف وقت کا تعین کیا۔
پاک فضائیہ کے تمام ہوا باز اپنے سروں پر کفن باندھے محوِ پرواز تھے،اوران طیاروں کے ریڈار کنٹرولر ،گروپ کیپٹن الیاس تھے ، جو سرحد پار کی صورتِ حال سے مسلسل آگاہ کررہے تھے۔ عمومی طور پر اس انتہائی خفیہ مشن میں نظم و نسق کے لحاظ سے خاموشی تھی، مگر جوں جوں لائن آف کنٹرول قریب آرہی تھی، سرحدی سرگرمیوں میں تیزی سے مسلسل اضافہ ہورہا تھا، ادھر ہمارے ہوا بازوں کی تیزی سے چلتی انگلیاں، بڑی سرعت کے ساتھ کاکپٹ میںمختلف میٹرز اور آلات سے محوِ گفتگو تھیں۔ ہمارے شاہینوںنے بڑے اعتماد سے اپنی سرحدوں کے اندر رہتے ہوئے، مقبوضہ کشمیر میں 6ٹارگٹس لاک کیے، جو سب کے سب ملٹری ٹارگٹس تھے اور ثبوت کے طور پر ان کی ویڈیوز بھی بنائیں، جو بعد میں چیدہ چیدہ غیر ملکی مبصرین اور صحافیوں کو دکھائی گئیں۔ یاد رہے،لڑاکا طیارہ ٹارگٹس لاک کرکے اپنا ہتھیار اس کی طرف لانچ کرتا ہے، تو پھر طیارے ہی کے ذریعے اسے ٹریک اور گائیڈ کیا جاتا ہے ،تاکہ وہ اپنے مطلوبہ ہدف کو کام یابی کے ساتھ نشانہ بنا سکے۔
یہ تمام اہم امور صرف 15 سے20سیکنڈ ز میں مکمل کرنے ہوتے ہیں۔ دشمن کا کسی بھی قسم کا جانی نقصان مقصود نہیں تھا صرف متنبہ کرنا ضروری تھا، اس لیے منصوبے کے مطابق تمام ہتھیاروں کو اصلی ملٹری ہدف سے تقریبا ایک ہزار گز دور گرایاگیا۔ اس مقصد کے حصول کے لیے میراج IIIاورVسے NESCOM H-2/4 ہتھیاروںکو استعمال کیا گیا، جن کی رینج 60سے 120کلومیٹر ہیاور جو پاکستان خود تیار کررہا ہے۔ یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ ایکH-2/4 کی قیمت تقریبا70 سے 80 لاکھ پاکستانی روپے ہے، جب کہ بھارتی فضائیہ نے اسرائیل سے حاصل کیے ہوئے پینٹریڑ بم 3Spice- 2000استعمال کیے،اس ایک بم کی قیمت تقریبانو کروڑ پاکستانی روپے ہے۔ یعنی دشمن 36 کروڑ روپے کا اسلحہ ضائع کرکے بھی اپنا مقصد حاصل نہ کرسکا،اس کے برعکس پاک فضائیہ نے بھارت کے مقابلے میں آٹھ گنا سے بھی کم خرچے میں دشمن کی صفوں پر لرزہ طاری کردیا اور عملی طور پر ثابت کردکھایا کہ تعداد میں زیادہ ہوجانا کوئی معنی نہیں رکھتا. اصل شے کسی بھی قوم کے افراد کا عزم و ہمت ہے اور یہی فتح کی اصل وجہ ہوتا ہے. پاک افواج نے ہمیشہ خطے میں امن و امان کی نہ صر ف بات کی ہے بلکہ اس سلسلے میں عملی اقدامات بھی اٹھائے ہیں. لیکن جب وطن کی سالمیت کو زک پہنچانے کی مذموم کوشش کی جائے گی تو پوری قوت سے جواب دیاجائے گا.
وزیرِاعظم پاکستان کی ہدایت کے مطابق ابھینندن کو یکم مارچ 2019 کو رہا کردیاگیا تاکہ اقوامِ عالم جان سکیں کہ پاکستان خطے میں جنگ نہیں، امن کا خواہاں ہے۔ اس موقعے پر بھارتی وزیر اعظم، نریندر مودی نے یہ کہہ کر اپنی جھینپ مٹانے کی کوشش کی کہ اگر ہمارے پاس رافیل ہوتے تو نتائج مختلف ہوتے۔27فروری 2019 کے یاد گار فضائی حربی معرکے میں ایک موقع ایسا بھی آیا کہ ہمارے ہوا باز اگر چاہتے تودشمن کے تین سے چار جہاز مزید بھی گرا سکتے تھے ،مگر عدو کو سبق سکھانا مقصود تھا ، لہذا ایسا کچھ نہ کیا گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔




