وائٹ ہائوس اور اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے پاکستان کی سیاست میں امریکا کے ملوث ہونے کے دعوں کو مسترد کر دیا
دہشت گردی کے خلاف جنگ اور سرد جنگ کے دوران امریکا اور پاکستان قریبی اتحادی تھے

واشنگٹن:سابق امریکی فوجی سربراہ مائیک میولن نے کہا ہے کہ امریکا واضح طور پر پاکستان سے فاصلہ اختیار کر چکا ہے جبکہ وائٹ ہائوس اور اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے پاکستان کی سیاست میں امریکا کے ملوث ہونے کے دعوں کو مسترد کر دیا ہے۔ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق پاکستان اور امریکا کے تعلقات کے حوالے سے کیے گئے ایک سوال کے جواب میں ایڈمرل میولن نے کہا کہ یہ کہنا مشکل، بہت مشکل ہے۔یاد رہے دہشت گردی کے خلاف جنگ اور سرد جنگ کے دوران دونوں قریبی اتحادی تھے۔
رواں ہفتے وائس آف امریکا اردو سروس سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ میرا خیال ہے کہ گزشتہ دہائی کے دوران ہم واضح طور پر پاکستان سے فاصلہ اختیار کر چکے ہیں اور پاکستان چین کی چھتری تلے جاتا جارہا ہے۔
ایڈمرل مولن اکتوبر 2007 سے ستمبر 2011 تک امریکی فوج کے سربراہ تھے، جو میموگیٹ تنازع میں بھی نامزد تھے جو ایک یادداشت کے گرد گھومتی ہے، جس کا مقصد ظاہری طور پر پاکستان میں ایک خوفناک فوجی قبضے کو روکنے کے لیے امریکی تعاون حاصل کرنا تھا لیکن ایسا کبھی نہیں ہوا۔
ان کا کہنا تھا کہ چین کے عالمی مقاصد کو حاصل کرنے کے لیے یہ قربت ان کے لیے بہتر ہے کیونکہ بیجنگ ایسا پڑوسی چاہے گا جو امریکا کے بجائے ان کے قریب ہو۔ان کا مزید کہنا تھا مذکورہ وجوہات کی بنا پر پاکستان اور امریکا کے تعلقات کچھ وقت سے مشکلات کا شکار ہیں۔
سقوط کابل میں پاکستان کے کردار کے حوالے سے کیے گئے ایک سوال کے جواب میں ایڈمرل میولن کا کہنا تھا کہ انہوں نے یقینی طور پر اسے روکنے کے لیے بہت کچھ نہیں کیا۔انہوں نے کہا کہ بطور امریکی آرمی چیف میں نے کانگریس کا بتایا تھا کہ پاکستانی خفیہ ادارے افغانستان میں فعال ہیں اور میں اب بھی سمجھتا ہوں کہ دونوں طرف رابطے ہیں۔

