عدالت عالیہ کے حکم پر سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے اسلام آباد سے لاہور آکر ان سے حلف لیا
موجودہ صورت حال میں پنجاب کابینہ کی تشکیل اور پھر اس کی حلف برداری بھی ایک مشکل مرحلہ ہوگی

لاہور:نومنتخب وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز شریف باالآخر ایک ماہ کی تگ و دو کے بعد پنجاب کی پگ اپنے سر پر رکھنے میں کامیاب ہو گئے ہیںعدالت عالیہ لاہور کے حکم پرسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے گورنرہائوس لاہور میں ان سے حلف لیا۔
یاد رہے کہ حمزہ شہباز قریبا ایک ماہ قبل وزیراعلیٰ پنجاب منتخب ہو گئے تھے لیکن پی ٹی آئی کے گورنر پنجاب عمر سرفراز چیمہ ان سے حلف لینے سے گریزاں تھے۔ اس سلسلے میں انہوں نے عدالت عالیہ لاہور کا حکم بھی نہیں مانا ۔ عدالت نے انہیں کہا تھا کہ وہ خود یا اپنے کسی نمائندے کے ذریعے حمزہ شہباز شے حلف لیں لیکن وہ راضی نہ ہوئے اس کے بعد عدالت نے صدر مملکت عارف علوی کو بھی یہ آئینی ذمہ داری ادا کرنے کے لئے کہا گیا لیکن پھر بھی حلف نہ ہوسکا۔ جس کے بعد عدالت نے سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف کو حکم دیا کہ وہ نومنتخب وزیراعلیٰ سے حلف لیں اس طرح قریبا ایک ماہ بعد حمزہ شہباز شریف وزارت اعلیٰ کا حلف اٹھانے میں کامیاب ہو سکے۔
اسے مسلم لیگ ن کی ایک بڑی کامیابی قراردیا جارہا ہے لیکن پنجاب کی پگ کو اپنے سر پر درست طور پر رکھنے کے لئے حمزہ شہباز کی مشکلات ابھی کم نہیں ہوئی ہیں۔ابھی انہیں کابینہ کی تشکیل کا ایک مشکل مرحلہ طے کرنا ہے اور موجودہ صورت حال میںپھر ان کی حلف برداری ایک دوسرا چیلنج ہوگا۔
ادھر وزیراعظم شہباز شریف نے ایک بار پھر گورنر پنجاب کو عہدے سے ہٹانے کی سمری صدر کو بھجوا دی ہے اب اگر صدر اس پر سائن نہیں بھی کرتے تو چودہ دن کے اندر اندر گورنر اپنے عہدے سے فارغ ہو جائیں گے۔
ان حالات و واقعات سے لگتا ہے کہ پنجاب کی صوبائی کابینہ کی حلف برداری چودہ دن بعد موجودہ گورنر کی سبکدوشی کے بعد ہی ہوسکے گی۔



