موجودہ حکومت کے پاس عوام کو ریلیف دینے سے زیادہ بڑا مقصد ملک کو ڈیفالٹ سے بچانا تھا
مختلف چیمبر آف کامرس کے سربراہان اور کاروباری شخصیات نے بجٹ کو متوازن قراردیا
سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 15 فیصد ریکارڈ اضافہ غریب عوام پر کم سے کم بوجھ ڈالا گیا ہے
محمدرضوان ملک

10 جون کو وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے موجودہ مخلوط حکومت کا پہلا بجٹ قومی اسمبلی میں پیش کیا ۔دودن گزرنے کے باوجود تاحال اس بجٹ پر کوئی بڑی تنقید سامن نہیں آئی ہے ،مختلف طبقوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے بجٹ کو ان مشکل حالات میں ایک متوازن بجٹ قراردیا ہے ۔ خاص طور پر تاجر طبقہ کی جانب سے بجٹ پر کوئی بڑی تنقید سامنے نہیں آئی بلکہ بیشتر نے اسے متوازن قراردیا۔
ملک بھرکے چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے نمائندوں نے بھی بجٹ کو متوازن قراردیا جو حکومت کی ایک بڑی کامیابی ہے۔
پہلی بار سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں پندرہ فیصد اضافہ کیا گیا جس کی وجہ سے سرکاری ملازمین بھی حکومت سے خوش ہیں۔ قابل ٹیکس آمدن کو بھی بڑھا دیا گیا ہے۔ جس کی وجہ سے عام آدمی کوریلیف ملے گا
بجلی اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے ملک اس وقت مہنگائی کا شکار ہے لیکن رو س یوکرین جنگ کے بعد عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافہ ہونے کے باعث پوری دنیا میں تیل کی قیمتیں اپنے عروج پر ہیں امریکہ اور برطانیہ میں بھی تیل کی قیمتیں بڑھنے سے عوام نے اپنی گاڑیوں کا استعمال بہت محدود کر دیا ہے۔
امریکہ اور پورپ میں مہنگائی اس وقت اپنے عروج پر ہے۔ لیکن اس وقت پاکستان میں تیل پیدا کرنے والے ممالک کے علاوہ پٹرول دنیا کے دیگر ممالک کے مقابلے میں کم قیمت پر ہے ۔
اشیائے خوردو نوش کی قیمتوں کے حوالے سے بھی پاکستان میں صورت حال دنیا کے دیگر ممالک کے مقابلے میں بہتر ہے حکومت نے آٹے ، گھی اور چینی پر سبسڈی دیکر عام آدمی کے لئے ان کی قیمتوں کو نہ صرف اعتدال پر رکھا ہو اہے بلکہ ماضی کی پی ٹی آئی حکومت کے مقابلے میں آٹے ، چینی اور گھی کی قیمتیں کم ہیں۔
اپوزیشن نے حسب معمول بجٹ پر تنقید کرتے ہوئے اسے الفاظ کا گورکھ دھندا قراردیا ۔
تاہم ایک اہم بات یہ ہوئی کہ سابق وزیرخزانہ اپنی پریس کانفرنس میں حکومت اور بجٹ پر تنقید کرتے ہوئے سادگی میں اعتراف کر گئے کہ پی ٹی آئی حکومت نے اپنے چار سالوں میں پاکستان کے کل قرضوں کا 76 فیصد لیا ہے۔ وہ اپنی حکومت پر ہونیو الے اس الزام کا جواب دے رہے تھے کہ پی ٹی آئی حکومت نے قیام پاکستان سے اب تک کے قرض کا 80 نہیںلیا ساتھ یہ سچ بھی ان کے منہ سے نکل گیا کہ ہم نے 76 فیصد لیاہے۔ انہوں نے کہا کہ اعدادوشمار جھوٹ نہیں بولتے جب آپ جھوٹ بول رہے ہوتے ہیں تو یہ آپ کا منہ چڑھا رہے ہوتے ہیں۔
مہنگائی کا ایشو اپنی جگہ موجود لیکن حالیہ بجٹ کو مختلف تجزیہ نگاروں نے مشکل حالات میں ایک متوازن بجٹ قراردیا ہے۔ اس وقت حکومت کو درپیش اصل مسئلہ پاکستان کو ڈیفالٹ سے بچانا ہے۔کیوں کہ جس تیزی سے عالمی دنیا میں مہنگائی بڑھ رہی تھی اور پاکستان کی صورت حال خراب ہورہی تھی ایسے میں موجودہ بجٹ نہ صرف پاکستان کو بچانا بلکہ عوام میں اپنی سیاسی ساکھ کو بحال رکھنا مشکل کام تھا جس میں حکومت وقتی طور پر کامیاب رہی ہے۔ گو پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ اور سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ موجودہ بجٹ کے بعد دو سے اڑھائی ماہ تک حکومت کا چلنا مشکل ہوگا لیکن عملاان کے دعویٰ کی سچائی کے کوئی آثار نہیں ہیں ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔



