قرض منظوری کے ساتھ ہی سٹاک مارکیٹ میں تیزی ،ڈالر کی قدر بھی کم ہونا شروع

اسلام آباد :آئی ایم ایف ایگزیکٹوبورڈ نے پاکستان کیلئے 1 ارب 10 کروڑ ڈالر قرض کی منظوری دے دی ہے، رقم رواں ہفتے کے دوران سٹیٹ بینک اکانٹ میں منتقل کر دی جائے گی۔قرض کی منظوری کے ساتھ ہی سٹاک مارکیٹ میں تیزی دیکھی گئی اور ڈالر کی قیمت میں بھی کمی واقع ہو ئی ہے۔
آئی ایم ایف اعلامیے کے مطابق پاکستان کو غریب طبقے کو مہنگائی کے اثرات سے بچانا ہوگا جس کیلئے قرض کی منظوری دی گئی ہے، دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف نے آئی ایم ایف پروگرام بحالی کومثبت پیشرفت قرار دیا ہے۔
وزیرخزانہ مفتاح اسماعیل نے اپنے ٹویٹ پیغام میں کہا کہ منظوری کے بعد پاکستان کو 1 ارب 10 کروڑ ڈالر کی ساتویں اور آٹھویں قسط ملے گی، سخت فیصلے لئے پاکستان کو ڈیفالٹ ہونے سے بچانے کیلئے وزیراعظم کا شکریہ اور قوم کو مبارکباد پیش کرتے ہیں۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال نے بھی پاکستان کو قرض کی ادائیگی سے متعلق پروگرام کی منظوری کی تصدیق کی اور کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کی دغا بازی کے باوجود آئی ایم ایف نے پاکستان کے لیے پروگرام منظور کر لیا۔
آئی ایم ایف سے قرض پروگرام کی بحالی کو وزیراعظم نے مثبت پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ دیوالیہ ہونے کا خطرہ ختم ہوگیا، ملک میں معاشی استحکام آئے گا،مفتاح اسماعیل اور ان کی ٹیم شاباش کی مستحق ہے، دعا ہے کہ یہ آخری پروگرام ہو، پاکستان کو دوبارہ ضرورت نہ پڑے۔
آئی ایم ایف قرض کی منظوری کے بعد اسٹارک مارکیٹ میں تیزی کا رجحان دیکھنے میں آیا ہے اور ڈالر کی قدر بھی کم ہوئی ہے۔
بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی جانب سے 1.1 ارب ڈالر کے قرض کی قسط کے اجرا کی منظوری کے بعد پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں تیزی سے اضافہ ہوا۔منگل کو بینچ مارک کے ایس ای-100 انڈیکس ٹریڈنگ شروع ہونے کے فورا بعد بڑھنا شروع ہوا، صبح 9 بجکر 38 بجے تک 436.11 پوائنٹس یا 1.03 فیصد اضافے کے ساتھ 42ہزار940.45 پوائنٹس تک پہنچ گیا۔
عالمی ادارے کی جانب سے اعلان میں کہا گیا کہ ایک دن پہلے آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ نے پاکستان کے لیے قرض کی سہولت کے مشترکہ 7ویں اور 8ویں جائزے کو مکمل کیا جس کے بعد ملک کو 1.1ارب ڈالر کی فوری تقسیم کی اجازت دی گئی۔بیان میں اس بات کی نشاندہی کی گئی کہ اس رقم کی تقسیم اس انتظام کے تحت بجٹ سپورٹ کے لیے دستیاب رقم کو تقریبا 3.9 ارب ڈالر تک لے جاتی ہے۔
بورڈ نے 93 کروڑ 40 لاکھ ڈالر کے فنڈز تک پاکستان کی رسائی کی منظوری بھی دی جس کے تحت توسیعی فنڈ سہولت تک کل رسائی تقریبا 6.5ارب تک پہنچ جائے گی۔
ایگزیکٹو بورڈ نے پاکستانی حکام کی کارکردگی کے معیار پر عمل نہ کرنے پر معافی کی درخواست کی بھی منظوری دی۔
ادھر ئی ایم ایف سے قرض منظوری کے ثمرات آنے لگے، انٹر بینک میں امریکی ڈالر کی قدر میں کمی دیکھی گئی ہے۔کاروباری ہفتے کے دوسرے روز انٹر بینک میں ڈالر کی قیمت میں ایک روپیہ 92 پیسے کمی ہوئی ہے جس کے بعد امریکی کرنسی 220 روپے ٹریڈ کر رہی ہے۔
دوسری جانب آئی ایم ایف کے اعلامیے کے مطابق پاکستان کیلئے قرض کی معیاد جون 2023 تک بڑھا دی گئی ہے، قرض کی مقدار میں بھی 500 ملین ڈالر کا اضافہ کیا گیا ہے، قرض کا حجم 6 ارب ڈالر سے بڑھ کر 6.5 ارب ڈالر ہو گیاہے۔



