تخت کراچی کے حصول کے لئے پیپلز پارٹی اور جماعت اسلامی میں جوڑ پڑے گا؟

تمام یوسیز کے نتائج کا اعلان کسی کو سادہ اکثریت حاصل نہیں ، پیپلز پارٹی 93 نشستوں کے ساتھ پہلے ، جماعت اسلامی 86 کے ساتھ دوسرے نمبر پر
پی ٹی آئی 40 کے ساتھ تیسرے نمبر پر رہی ،مسلم لیگ ن 7 جے یو آئی (ف) 3، تحریک لبیک پاکستان 2 اور آذاد امیدواروں نے 3 یوسیز میں کامیابی حاصل کی


کراچی : تخت کراچی کے حصول کے لئے پاکستانی پیپلز پارٹی اور جماعت اسلامی میں جوڑ پڑنے کا امکان ہے۔ کراچی کی مئیر شپ کے لئے کسی بھی جماعت کو سادہ اکثریت کے لئے 120 کے قریب نشستیں درکار ہیں۔
الیکشن کمیشن نے کراچی میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات کے مکمل نتائج کا اعلان کردیا ہے۔ایم کیو ایم کے بائیکاٹ کے بعد پہلی بار کراچی میں پیپلزپارٹی اور جماعت اسلامی کراچی کی بڑی جماعتوں کے طور پر سامنے آئی ہیں اور دونوں ہی کراچی کی مئیر شپ حاصل کرنے کی پوزیشن میں ہیں۔
جماعت اسلامی نے ایم کیو ایم کے علاقوں سے کامیابی حاصل کی ہے۔ سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کے بعد پیپلز پارٹی ایک بار پھر کراچی کی بڑی پارٹی کے طور پر سامنے آئی ہے۔
جماعت اسلامی نے الیکشن میں دھاندلی کا الزام لگایا ہے اور کہا ہے کہ وہ اس پر احتجاج کریں گے اور عدالتوں میں بھی جائیں گے۔پیپلزپارٹی کراچی کے صدر سعید غنی نے کہا ہے کہ اگر دھاندلی کرتے تو میں اپنے بھائی کو جتواتا جو ہا ر گئے ہیں۔
تحریک انصاف کے علی زیدی نے بھی انتخابات میں دھاندلی کا الزام لگاتے ہوئے الیکشن کمیشن کو پی ڈی ایم کی 14 ویں پارٹی قراردیا ۔
جماعت اسلامی کو پیپلز پارٹی پر یہ برتری حاصل ہے کہ تحریک انصاف نے اس کی غیر مشروط حمایت کا اعلان کیا ہے۔ جبکہ سعید غنی نے واضح طور پر کہا ہے کہ ہم کسی سے بھی بات کر سکتے ہیں لیکن پی ٹی آئی سے بات نہیں ہوگی تاہم جماعت اسلامی سے بات کر سکتے ہیں۔
نتائج کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی نے 93 نشستوں کے ساتھ شہر قائد کا میدان بھی مارلیا ہے، جماعت اسلامی 86 نشستوں کے ساتھ دوسرے جبکہ پاکستان تحریک انصاف 40 نشستوں کے ساتھ تیسرے نمبر پر رہی۔پاکستان مسلم لیگ (ن) 7 نشستوں پر کامیابی حاصل کرتے ہوئے چوتھے نمبر پر رہی، جے یو آئی (ف) 3، تحریک لبیک پاکستان 2 اور آذاد امیدواروں نے 3 یوسیز میں کامیابی حاصل کی۔
الیکشن کمیشن کے مطابق شہر کی 246 میں سے 235 یونین کمیٹیز میں انتخابات ہوئے ، 11 نشستوں پر امیداروں کے انتقال کی وجہ سے انتخابات ملتوی کیے گئے ۔
ادھر امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم نے انتخابی نتائج پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہماری جیتی گئیں نشستیں زبردستی پیپلز پارٹی کو دی گئیں، ہمارے پاس تمام پولنگ اسٹیشن کے نتائج موجود ہے جلد ہی انہیں عدالت میں چیلنج کرینگے۔
پی ٹی آئی رہنما علی زیدی نے بھی انتخابی نتائج ماننے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ بہت سی نشستوں پرہم جیتے ہوئے ہیں لیکن کامیابی پی پی کو دی گئی ہے۔
پیپلز پارٹی نے بھی انتخابی نتائج پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جن علاقوں میں ہمارے نمائندہ بہت کم مارجن سے ہارے وہاں ہم ری کانٹنگ کی درخواست دائر کریں گے ۔