جو شخص اپنے چند ساتھیوں کو انصاف نہیں دے سکتا وہ 24 کروڑ عوام کو کیا انصاف دے گا
ایک سال سے عدلیہ کی یہ حالت ہے کہ بنچ بنتے ہی لوگ جان جاتے ہیں کہ فیصلہ کیا ہوگا
جو ادارہ خود اس قدر تنازعات کا شکا رہے وہ دیگر اداروں کے تنازعات کیسے حل کر سکتا ہے
تین ججز بمقابلہ 9 ججز ، وکلاء تنظیموں نے بھی اپنا پڑا چیف جسٹس کے مخالف پلڑے میں ڈال دیا
تین رکنی سے زیادہ جو بھی بنچ بنا یا گیا ساتھی ججز چیف جسٹس کے روئیے پر اعتراضات کرتے ہوئے بنچ سے علیحدہ ہوگئے
ادارے میں جونئیرز اور سنئیرز کی کوئی تمیز نہیں،چیف جسٹس اپنے بنائے بنچ کے ساتھیوں سے مشاورت کرتے ہیں نہ فیصلہ لکھتے ہوئے اعتماد میں لیتے ہیں
چیف جسٹس کے پاس اور ادارے کی عزت بحال کرنے کے لئے موجود وقت تیزی سے ختم ہورہا ہے

اسلام آباد(تجزیہ :محمد رضوان ملک)پاکستان میں اس وقت عدالت عظمیٰ میں سیاسی اور نظریاتی تقسیم اپنے عروج پر ہے اور اس میں ہر گزرتے دن کے ساتھ اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ اس وقت اگر دیکھا جائے تو عدالت عظمیٰ کے ارباب اختیار کو سیاسی جماعتوں اور دیگر اداروں کے تنازعات حال کرنے کی بجائے اپنے ادارے کے اندر منصفی کی ضرورت ہے ۔
اگر بالغ نظری سے حالات کا جائزہ لیا جائے تو موجودہ چیف جسٹس عمر عطاء بندیال اپنے متنازعہ فیصلوں اور روئیے کے باعث پاکستان کے متنازعہ ترین چیف جسٹس بنتے جارہے ہیں۔اپنے متنازعہ فیصلوں اور من پسند بنچز بنانے کے باعث اپنے ادارے کے اندر ان کی مخالفت انتہائی عروج پر ہے۔ساتھی ججز ان کے آمرانہ روئیے کے باعث ان سے نالاں ہیں۔
ایک اصول ہے کہ ہر ادارے اور پیشے میں جونئیرز اور سنئیرز کے درمیان ایک اعتماد کا رشتہ ہوتا ہے اور سنئیرز کی عزت و تکریم کی جاتی ہے لیکن سپریم کورٹ جیسے ادارے میں جونئیرز اور سنئیرز کی کوئی تمیز نہیں ہے ۔
اکثر 9 اور سات رکنی بنچ تین رکنی رہ جاتا ہے لیکن سیاسی جماعتوں اور پوری قوم کو اکٹھا رکھنے کے دعویدار چیف جسٹس یہ نہیں بتاتے کہ ان کے اپنے ساتھی انہیں کیوں چھوڑ جاتے ہیں۔وہ عوام کو حقائق بتانے اور اپنے اصلاح کی بجائے تین پر ہی ڈٹ جاتے ہیں ۔ اب انہیں کون سمجھائے کہ جو ساتھ ججز ان کے ساتھ اختلاف کرتے ہوئے انہیں چھوڑ گئے ہیں کیا وہ سپریم کورٹ کے جج نہیں تھے ۔
چیف جسٹس پر ایک بڑا اعتراض یہ ہے کہ وہ مخصوس کیسز کے لئے مخصوص بنچ بناتے ہیں اور جونئیرز اور سنئیرز کی کوئی تمیز نہیں کرتے ۔
ایک سال سے عدلیہ کی یہ حالت ہے کہ بنچ بنتے ہی لوگ جان جاتے ہیں کہ فیصلہ کیا ہوگا اور فیصلہ آتا بھی وہی ہے ۔تین رکنی سے زیادہ جو بھی بنچ بنا یا گیا ساتھی ججز چیف جسٹس کے روئیے پر اعتراضات کرتے ہوئے بنچ سے علیحدہ ہوگئے ۔نہ چیف جسٹس نے اس پر اپنی ہتک محسوس کی اور نہ اصلاح احوال کی کوشش کی ۔
وہ اپنے ہی بنائے گئے بنچ کے ساتھی ججوں سے مشاورت کرتے ہیں اور نہ فیصلہ لکھتے ہوئے انہیں اعتماد میں لیتے ہیں ۔اپنے اس آمرانہ روئیے کے باعث وہ نہ صرف اپنے ادارے میں تنہا ہورہے ہیں بلکہ عوام اور سیاسی جماعتوں میں بھی ان کی ساکھ متنازعہ ہورہی ہے اور اب تو ملک کی بیشتر وکلاء تنظمیوں نے بھی اپنا وزن چیف جسٹس کے مخالف پلڑے میں ڈال دیا ہے ۔ساتھ ججز نے انہیں پہلے ہی ون مین شو کا خطاب دے رکھا ہے ۔ عدلیہ کو ون مین شو کے طرز پر چلانا نہ صرف ان کی ذات بلکہ ملک وقوم کے وسیع تر مفاد کے خلاف ہے ۔
یوں تو موجودہ چیف جسٹس کے روئیے پر معاشرے کے مختلف طبقوں کی طرف سے اعتراض کافی عرصے سے کیا جارہا تھا لیکن زیادہ معاملات اس وقت خراب ہوئے جب پنجاب میں وزیر اعلیٰ کے انتخاب کے حوالے سے موجودہ چیف جسٹس کے بنچ نے کچھ ہی دنوں میں دو متضاد فیصلے دئیے اور اس کے دفاع میں یہ کہ کر جان چھڑا لی کہ ہمیں اس یوٹرن کی اجازت ہونی چاہیے۔
حال ہی میں پنجاب ،خیبر پختون خوا اسمبلیوں کی تحلیل اور وہاں90 دن میں انتخاب کے حوالے سے تو یہ اختلافات کھل کر سامنے آگئے ہیں ۔کیسے نو اور سات رکنی بنچ بنائے جاتے ہیں اور پھر وہ بنچ تین رکنی رہ جاتا ہے اور فیصلہ بھی اسی کا آتا ہے ۔
قوم اس وقت عدلیہ کی تقسیم کھلی آنکھوں سے دیکھ رہی ہے اور موجودہ چیف جسٹس کے پاس اس حوالے سے وقت بہت کم رہ گیا ہے کہ وہ اپنی اور عدلیہ کی ساکھ کیسے عوا م میں بحال کرتے ہیں۔
اس وقت ملک جس ہیجانی کیفیت کا شکا رہے چیف جسٹس کے پاس آخری موقع ہے کہ وہ ون مین شو کا تاثر ختم کرتے ہوئے فل کورٹ بناکر ثابت کر دیں کہ سپریم کورٹ کے تمام جج انہی کی طرح معزز اور قابل احترام ہیں اور صرف چیف جسٹس اور ان کے چند ساتھی ہی سپریم کورٹ نہیں ہیں۔جو مختلف سیاسی جماعتوں اور وکلاء تنظیموں کا مطالبہ بھی ہے۔
متنازعہ بنچز کے حوالے سے صورت حال اس قدر خراب ہو چکی ہے کہ معمولی سا شعور رکھنے والا انسان بھی ججز کے ماضی کو دیکھتے ہوئے بنچ بنتے ہی باآسانی بتاسکتا ہے کہ بنچ کا فیصلہ کیا ہوگا بلکہ بعض زیرک تو یہ بھی بتا دیتے ہیں کہ فیصلہ دو تین کا ہے یا ایک چار کا ۔
پنجاب ، خیبرپختون خوا کیس میں اس وقت دو دن کا وقفہ ہے اور اگلی سماعت پیر کو ساڑھے گیارہ بجے رکھی گئی ہے۔ شائد پیر چیف جسٹس کے پاس اپنی اور ادارے کی دائو پر لگی ساکھ کو بحال کرنے کا آخری دن ہو۔
تاہم ماضی کے تجربات کو دیکھتے ہوئے اس بات کا امکان فی الحال کم ہی نظر آتا ہے



