چیف جسٹس اور پارلیمنٹ آمنے سامنے ،جیت کس کی ہوگی ، فیصلے کی گھڑی آن پہنچی

چیف جسٹس اس حوالے سے کمزور وکٹ پر ہیں کہ وہ پوری پارلیمنٹ کے سامنے پوری عدالت کو نہیں لاسکے
عدالت عظمیٰ کو ایک پیج پر لانے کے لئے چیف جسٹس کی سنئیر ججز سے ملاقاتیں بے نتیجہ رہیں؟
8 رکنی ہم خیال بنچ کی تشکیل سے ثابت ہو گیا کہ چیف جسٹس سنئیر ججز کو منانے میں ناکام رہے ہیں
چیف جسٹس نے آخری دائو کھیلنے کا فیصلہ کر لیا چند ساتھیوں کے ساتھ 22 کروڑ کی نمائندہ پارلیمنٹ سے ٹکر لے لی
ججز کے علاوہ وکلاء بھی چیف جسٹس کے خلاف کھل کر میدان میں آگئے ،پاکستان بار کونسل نے آج ہڑتال کا اعلان کردیا
یہ سوال بڑا اہم ہے کہ کچھ عرصہ سے پارلیمنٹ اور منتخب حکومتیں خاص کر وزرائے اعظم عدالت عظمیٰ کا ٹارگٹ کیوں ہیں
معاملات پوائنٹ آف نو ریٹرن کی جانب بڑھ رہے ہیں اہم سوال یہ ہے کہ ان کے ہم خیال ساتھی کتنا پریشر برداشت کر سکتے ہیں اور کب تک
ایک عرصے سے سپریم کورٹ نے عوامی وزیراعظم کو ڈسٹرب کرنا اپنا وطیرہ بنا کررکھا ہے جو عدالت کو نہیں عوام کو جوابدہ ہوتا ہے
ماضی کے فیصلوں سے ثابت ہوتا ہے کہ عدالت کا مقصد قانون کی عملداری نہیں بلکہ وزیراعظم کو اپنی آئینی مدت پوری نہ کرنے دینے کی روایت کو برقراررکھنا ہوتا ہے
پاکستان میں یہ روایت کیوں جڑ پکڑ رہی ہے کہ پارلیمنٹ کو کمزور رکھا جائے۔اگر بنچ کی تشکیل چیف جسٹس کا اختیار ہے تو قانون سازی کس کا اختیار ہے
عجلت میں بنائے گئے اس متنازعہ بنچ سے نہ صرف چیف جسٹس کی نیت بلکہ آنے والا فیصلہ بھی سامنے آگیا ہے

اسلام آباد(تجزیہ :محمدر ضوان ملک) وہ جو خیال کیا جارہاتھا کہ چیف جسٹس نے سپریم کورٹ کے تمام ججز کو ایک پیج پر لانے کے لئے سنئیر ججز سے ملاقاتیں شروع کر دی ہیںاورجلد معاملات کول ڈائون ہو نا شروع ہو جائیں گے یہ سب خوش فہمیاں اس وقت دم توڑ گئیں جب چیف جسٹس نے ایک اور متنازعہ بنچ تشکیل دے کر ایک اور متنازعہ ایشو کو ٹیک اپ کر لیا ہے۔
عدالتی اصلاحات بل کے حوالے سے چیف جسٹس اور پارلیمنٹ آمنے سامنے آگئے ہیں اورچیف جسٹس نے حکومت کے عدالتی اصلاحات بل کے خلاف درخواستوں کی سماعت کے لئے آٹھ ہم خیال بنچ تشکیل دے کر سماعت کا آغاز کر دیا ہے۔ جو آٹھ رکنی ہم خیال بنچ تشکیل دیا گیا ہے اس سے ثابت ہو گیا ہے کہ سپریم کورٹ کے تمام ججز باالخصوص سنئیر ججز کو ایک بیج پر لانے کی چیف جسٹس کی کوششیں کامیاب نہیں ہوسکی ہیں۔
اس آٹھ رکنی بنچ کی تشکیل سے ثابت ہوگیا ہے کہ چیف جسٹس سنئیر ججز کو منانے میں ناکام رہے ہیں وہ اپنے ضد اور ہٹ دھرمی چھوڑنے کو تیار نہیں جبک سنئیر ججز انہیں سپریم کورٹ جیسے ادارے کو ون مین شو کے طو ر پر چلانے کی اجازت دینے کو کسی صورت تیار نہیں ۔اس آٹھ رکنی بنچ میں پنجاب میں انتخابات کے حوالے سے از خود نوٹس کیس کا تین رکنی بنچ اور جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا فیصلہ کالعدم قراردینے والے چھ رکنی بنچ کے ججز شامل ہیں جس سے یہ چیز کھل کر واضح ہو گئی ہے کہ تمام تر کوششوں کے باوجود عدالت عظمیٰ میں تقسیم کم ہونے کی بجائے مزید گہری ہو رہی ہے۔
ہم خیال بنچ کی تشکیل سے لگتا ہے کہ چیف جسٹس نے ماضی سے کوئی سبق سیکھا نہ معاملات کول ڈائون کرنے کی نصیحتوں کو کوئی اثر لیا ہے ۔ لگتا ہے کہ انہوں آخری دائو کھیلنے کا فیصلہ کر تے ہوئے چند ساتھیوں کے ساتھ 22 کروڑ کی نمائندہ پارلیمنٹ سے ٹکر لے لی ہے۔ ان کے اس طرح کھل کر سامنے آنے سے مفاہمت کی قیاس آرائیاں بھی دم توڑ گئی ہیں۔
جہاں حکمران جماعتوں نے سپریم کورٹ کے اس آٹھ رکنی بنچ کو مسترد کیا ہے وہاں ججز کے علاوہ وکلاء بھی چیف جسٹس کے خلاف کھل کر میدان میں آگئے ،پاکستان بار کونسل نے آج ہڑتال کا اعلان کردیاہے اور وہ عدالتوں میں پیش نہیں ہوں گے ۔وائس چیئرمین پاکستان بارکونسل حسن رضا کا کہنا تھاکہ مرضی کے ججزپر مشتمل بینچ بنایا گیا ہے، کیس کی سماعت میں سینیئر ججوں کوبھی شامل ہونا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ ہم نے63 اے کے معاملے پربھی فل کورٹ بینچ بنانے کا کہا مگر نہیں بنائی گئی، 63 اے سے متعلق غلط فیصلہ ہوا، سب کہہ رہے ہیں آئین کوری رائٹ کیا گیا۔
پاکستان تحریک انصاف کے سینئر رہنما حامد خان اور عمران خان کے وکیل سلمان اکرم راجہ بھی لارجر بینچ کی تشکیل پر حیران ہیں۔حامد خان نے اپنے بیان میں کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ سپریم کورٹ کو پروسیجر بل کے معاملے میں فل کورٹ بننا چاہیے تھا۔انہوں نے کہا اب یہ تاثر جارہا ہے کہ سپریم کورٹ کے جو جج ایک طرف ہیں ان پر مشتمل بینچ بنایا گیا ہے۔
دوسری جانب ایک انٹرویو میں عمران خان کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ بینچ کی تشکیل دیکھ کر دھچکا لگا ہے، اگر قانون میں کوئی سقم ہے تو اسے پوری سپریم کورٹ کے سامنے رکھنا چاہیے تھا۔
ایک عرصے سے ہماری عدالت عظمیٰ ملک میں آئین و قانون کے ذریعے استحکام لانے کی بجائے اسے بحرانوں میں مبتلاء کر رہی ہے اور اس کا اولین مقصد وزیراعظم کو ذہنی طور پر ڈسٹرب رکھنا ہوتا ہے جو عدالت کو نہیں عوام کو جوابدہوتا ہے۔
یہ سوال بڑا اہم ہے کہ کچھ عرصہ سے پارلیمنٹ اور منتخب حکومتیں خاص کر وزرائے اعظم عدالت عظمیٰ کا ٹارگٹ کیوں ہیںویسے تو عدلیہ کا ماضی ہمیشہ سے کافی داغدار رہا ہے لیکن کچھ عرصہ سے پارلیمنٹ اور منتخب حکومتیں خاص کر وزرائے اعظم اس کا ٹارگٹ ہیں۔ بھٹو کے عدالتی قتل کے بعد سے وزرائے اعظم عدالت عظمیٰ کا خصوصی ٹارگٹ ہیں۔ یوسف رضا گیلانی کو سزا کے بعد راجہ پرویز اشرف کو بھی نہ چلنے دیا گیا ۔سوال یہ ہے کہ یوسف رضا گیلانی کو تو خط نہ لکھنے پر نااہل کر دیا گیا تو کیا راجہ پرویز اشرف نے وہ خط لکھا۔ اس سے ثات ہوا کہ عدالت کا مقصد خط لکھوانا یہ قانون پر عملدرآمد کرانا نہیں بلکہ وزیراعظم کو مدت پورے نہ کرنے دینے کی روایت برقرار رکھنا تھا۔ یہی حال نوازشریف کے ساتھ کیا گیا۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا عدالت عظمیٰ پارلیمنٹ کے قانون سازی کے عمل میں مداخلت کر سکتی ہے ۔پاکستان میں یہ روایت کیوں جڑ پکڑ رہی ہے کہ پارلیمنٹ کو کمزور رکھا جائے۔اگر بنچ کی تشکیل چیف جسٹس کا اختیار ہے تو قانون سازی کس کا اختیار ہے ؟
عجلت میں بنائے گئے اس متنازعہ بنچ سے نہ صرف چیف جسٹس کی نیت بلکہ آنے والا فیصلہ بھی سامنے آگیا ہے۔