پی آراے الیکشن ، فائونڈر پینل کے عثمان خان چوتھے صدر منتخب ہوگئے

 

ورکنگ جرنلسٹ پینل فائونڈر پینل پر حاوی رہا تیرہ میں سے دس نشتیں اپنے نام کرلیں
ایگزیکٹو کی چھ میں سے پانچ جبکہ گورننگ باڈی کی سات میں سے پانچ نشستیں ورکنگ جرنلسٹ پینل نے جیتیں
ورکنگ جرنلسٹ پینل کی آسیہ انصر نے سب سے زیادہ 158ووٹ حاصل کرکے تمام مردوخواتین کو پیچھے چھوڑ دیا

نومنتخب صدر عثمان خان، سابق صدور صدیق ساجد اور بہزاد سلیمی کے ہمراہ

اسلام آباد:پارلیمانی رپورٹرز ایسوسی ایشن کا الیکشن پارلیمنٹ ہاوس میں پریس لاونج میں منعقد ہوا جس میں کل 230ممبران ووٹ ڈالنے کے اہل تھے ان میں ٹرن آوٹ 95فیصد رہا الیکشن کا انعقاد پی آراے کی الیکشن کمیٹی جن میں چیئرمین کمیٹی طارق سمیر ڈپٹی چیئرمین کمیٹی اعجاز احمد اور ممبر کمیٹی میاں منیر احمد شامل تھے نے کرایا چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی اور سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویزاشرف نے پی آر اے الیکشن پولنگ دورہ کیا اور انتظامات کا جائزہ لیتے ہوئے پی آر اے کے جمہوری عمل کی تعریف کی الیکشن مکمل طورپر پرامن ماحول میں ہوا ۔
پارلیمنٹ ہاوس کے عملے نے جانفشانی کے ساتھ الیکشن عمل میں معاونت کی الیکشن صبح دس بجے سے سازھے پانچ بجے تک ہوا نماز جمعہ اور کھانے کے وقفے کے دو گھنٹے کے وقفے کے باوجود صحافیوں کی بڑی تعداد نے الیکشن میں حصہ لیا الیکشن مکمل ہونے کے بعد الیکشن کمیٹی کے چیئرمین طارق سمیر نے نتائج کا اعلان کیا جس کے مطابق صدر کے دو امیدوار ورکنگ جرنلسٹ پینل کے ایم بی سومرو اور فاونڈر پینل کے عثمان خان امیدوار تھے عثمان خان نے 108جبکہ ایم بی سومرو نے 100ووٹ لئے اس طرح عثمان خان آٹھ ووٹوں کی برتری سے کامیاب قرار پائے۔
نائب صدر کے عہدے پر ورکنگ جرنلسٹ پینل کے احمد نوازخان نے 129جبکہ فاونڈر پینل کے سہیل خان نے 76ووٹ لئے اس طرح احمد نواز خان جیت گئے سیکرٹری کے عہدے پر ورکنگ جرنلسٹ پینل کے نوید اکبر چوہدری اور فاونڈر پینل کے بشیر چوہدری میں میں کانٹے دار مقابلہ ہوا نوید اکبر چوہدری نے 92جبکہ بشیر چوہدری نے 83ووٹ لئے اس طرح سیکرٹری کے عہدے پر ورکنگ جرنلسٹ پینل کے امیدوار نوید اکبر کامیاب قرار پائے جوائنٹ سیکرٹری کے عہدے پر تین امیدوار شاکر عباسی محمد فیضان خان اور آزاد امیدوار اورنگ زیب کاکڑ تھے ورکنگ جرنلسٹ پینل کے شاکر عباسی نے 82فاونڈر پینل کے محمد فیضان خان نے 76جبکہ آزاد امیدوار اورنگ زیب کاکڑ نے 51ووٹ حاصل کئے اس طرح یہ سیٹ بھی ورکنگ جرنلسٹ پینل نے اپنے نام کرلی فنانس سیکرٹری پر ورکنگ جرنلسٹ پینل کے اصغر چوہدری اور فاونڈر پینل ظہور احمد کے درمیان مقابلہ تھا ورکنگ جرنلسٹ پینل کے امیدوار اصغر چوہدری نے 129جبکہ فاونڈر پینل کے امیدوار ظہور احمد 76ووٹ لے سکے اس طرح یہ سیٹ بھی ورکنگ جرنلسٹ پینل کے حصے میں آئی۔ سیکرٹری اطلاعات کی سیٹ پر ورکنگ جرنلسٹ پینل کے امیدوار جاوید حسین اور فاونڈر پینل کے امیدوار عبدالستار چوہدری میں مقابلہ تھا جاوید حسین نے 116جبکہ عبدالستار چوہدری نے 94ووٹ حاصل کئے اس طرح سیکرٹری اطلاعات کا عہدہ بھی ورکنگ جرنلسٹ پینل نے جیت لیا ۔
گورننگ باڈی میں ورکنگ جرنلسٹ پینل کی آسیہ انصر نے تمام عہدیداروں سے سب سے زیادہ 158ووٹ لیکر پہلے نمبر پر آنے کا ریکارڈ قائم کردیا ورکنگ جرنلسٹ پینل کے امیدواران جاوید نور نے 130فاونڈر پینل کی عائشہ ناز نے 123ورکنگ جرنلسٹ پینل کے نادر گورمانی نے 121،عاطف شیرازی نے 116صائمہ ملک نے 113جبکہ فاونڈر پینل کے عبد الرزاق کھٹی نے 112ووٹ لئے اس طرح گورننگ باڈی کے سات عہدوں میں سے پانچ جرنلسٹ پینل نے جیت لئے۔


نتائج کے اعلان کے بعد ورکنگ جرنلسٹ پینل کے ہارنے والے صدارتی امیدوار ایم بی سومرونے جیتنے والے صدارتی امیدوار عثمان خان کے گلے میں ہار ڈال کر مبارک باددی جیت کے موقع پر دونوں پینلز نے پیمرا ترمیمی بل 2023کی روشنی میں رولز بنانے کے عزم کا اظہار کیا اور پی آر اے ممبران کو دیئے گئے دونوں گروپس کے منشور کو اکٹھا کرکے اس کے مشترکہ نکات پر مل کر آگے بڑھنے کا اعادہ کیا ۔