153 افراد زخمی ، ریکٹر سیل پر زلزلہ کی شدت 7.4 ریکارڈ کی گئی ، ہلاکتوں میں مزید اضافے کا خدشہ
آفٹر شاکس کا سلسلہ جاری ، خوف کے باعث لوگ گھروں کو جانے پر تیار نہیں ،رات کھلے آسمان تلے سڑکوں پر گزاری

اسلام آباد مراکش:مراکش میں تباہ کن زلزلے کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد 300 تک پہنچ گئی ہے جبکہ 153 افراد زخمی بھی ہیں۔ سرکاری ٹی وی کے مطابق مراکش جمعے اور ہفتے کی درمیانی شب جب لوگ سو رہے تھے زلزلے سے لرز اٹھا ۔
سرکاری ٹی وی نے وزارت داخلہ کے حوالے سے کہا ہے کہ کم از کم 296 افراد ہلاک اور 153 زخمی ہوئے ہیں۔
خبر رساں اداروں کے مطابق زلزلے کا مرکز مراکش کے جنوب میں تقریبا 70 کلومیٹر کے فاصلے پر کوہ اطلس میں تھا۔ یہ شمالی افریقہ کی سب سے اونچی چوٹی توبقال اور مراکش کے ایک سکی ریزورٹ اوکیمیدن کے قریب بھی تھا۔
زلزلے کے جھٹکے ساحلی شہروں رباط، کاسا بلانکا اور الصویرہ میں بھی محسوس کیے گئے۔
بڑے شہروں میں عمارتوں کو نقصان پہنچا ہے۔ دارالحکومت رباط میں میں بڑی تعداد میں لوگوں نے سڑکوں پر پناہ لی۔ سیاح سب سے زیادہ رباط کا رخ کرتے ہیں۔مراکش کے شہریوں نے ویڈیوز شیئر کی ہیں جن میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کچھ عمارتیں ملبے کا ڈھیر بن گئی ہیں اور تاریخی شہر مراکش کو بھی نقصان پہنچا ہے۔
سیاحوں اور دیگر افراد نے ایسی ویڈیوز بھی پوسٹ کی ہیں جن میں دیکھا جا سکتا ہے کہ شہر میں ریستورانوں سے لوگ نکل رہے ہیں۔مغربی شہر مراکش سے 200 کلومیٹر مغرب میں واقع الصویرہ کے ایک ایک رہائشی نے ٹیلی فون پر بتایا کہ یہاں زیادہ نقصان نہیں ہوا ہے تاہم افراتفری بہت زیادہ ہے۔ ہم نے زلزلے کے وقت لوگوں کے چیخنے کی آوازیں سنیں۔
لوگ سکوائرز اور کیفوں میں بیٹھے ہوئے ہیں۔ باہر رہنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔
غیرمصدقہ سوشل میڈیا پوسٹس میں کہا گیا ہے کہ عمارتیں منہدم ہونے کی وجہ سے ہلاکتوں میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔جبکہ بڑی تعداد میںلوگ زخمی بھی ہیں۔
آفٹر شاکس کا سلسلہ بھی جاری ہے جس کے لوگ خوف کا شکار ہیں اور واپس گھروں میں جانے کو تیار نہیں ۔



