کچھ بھی ہو جائے ، عمران خان کو نہ چھوڑنے کا دعویٰ کرنے والے شیخ رشید کا بھی یوٹرن

عمران ضدی سیاستدان، جنرل عاصم منیر کے معاملے میں ملوث ہو کر بڑی غلطی کی
72 سال سے پاک فوج کے ساتھ تھا ہوں اور رہوں گا ،چیئرمین پی ٹی آئی کو کہا تھا پاک فوج سے بنا کر رکھنی چاہئے
جو3 آدمی عمران کی جانب سے فوج کے ساتھ مذاکرات کر رہے تھے ان تینوں نے اپنی الگ جماعت بنا لی ہے ،سما کو گھر بلا کر انٹرویو


اسلام آباد :سابق وفاقی وزیر داخلہ اور عمران خان کے قریبی ساتھی شیخ رشید جو ماضی میں ہمیشہ یہ دعویٰ کرتے رہے ہیں کہ کچھ بھی ہو جائے وہ عمران کو کبھی نہیں چھوڑیں گے بالآخر انہوں نے بھی عمران خان کا ساتھ چھوڑ دیا ہے ۔
چالیس دن کی گمشدگی کے بعد سابق رکن قومی اسمبلی شیخ رشید احمد منظر عام پر آگئے ہیں۔عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد نے منظر عام پر آنے کے بعد ، سما کو دیئے گئے خصوصی انٹرویو میں کہا کہ میں 40 دن کیلئے چلے پر گیا تھا، خبریں تو لگتی رہتی ہیں، اللہ نے زندگی میں 40 دن لگانے کا موقع دیا، چلے کے دوران مجھے کسی نے نقصان نہیں پہنچایا، چلے کے دوران سب لوگوں نے میرے ساتھ تعاون کیا، 40 دن خوش اسلوبی سے گزر گئے۔البتہ تھوڑا وزن کم ہو گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ میرا تعلق عوامی مسلم لیگ سے ہے، میری ایک سیٹ کی پارٹی ہے، پہلے دن سے اپنی افواج کے ساتھ ہوں، پاک فوج دنیا کی عظیم فوج ہے، مجھے خود کو پاک فوج کا ترجمان کہنے پر فخر ہے، چیئرمین پی ٹی آئی کو ہمیشہ کہا فوج سے بناکر رکھنی چاہئے۔
شیخ رشید احمد کا کہنا ہے کہ قومی سلامتی کی سائفر سے متعلق میٹنگ میں شامل تھا، اس پر میرے دستخط بھی ہیںاس سے کیسے انکار کر سکتا ہوں۔
انہوں نے کہا تین آدمی چیئرمین پی ٹی آئی کی طرف سے فوج سے مذاکرات کررہے تھے، تینوں آدمیوں نے اپنی جماعت بنالی ہے، چیئرمین پی ٹی آئی نے 2 بار فوج سے مذاکرات سے منع کیا۔
سربراہ عوامی مسلم لیگ نے کہا کہ مجھ سے ایم کیو ایم نے بات کی تو اندازہ ہوگیا تھا ہمارا کام ختم ہوگیا، 9 مئی کے واقعات کے وقت ملک سے باہر تھا، میں نے 9 مئی واقعات کی 10 مئی کو مذمت کی، میری مذمت کو زیادہ سنا نہیں گیا۔
ان کا کہنا ہے کہ سیاستدان کو کسی فوجی کا نام نہیں لینا چاہئے، 9 مئی واقعے میں غیرسیاسی لوگوں نے اہم کردار ادا کیا، ملک اداروں کے بغیر نہیں چل سکتا، سیاستدان اور اداروں کو ملکر چلنا چاہئے، اسٹیبلشمنٹ سے ہماری لڑائی بنتی ہی نہیں تھی۔
شیخ رشید احمد نے مزید کہا کہ جنرل عاصم منیر کو چھیڑنا ہماری غلطی تھی، چیئرمین پی ٹی آئی کے رفقا کا خیال تھا کہ فوج کے اندر ان کے لوگ موجود ہیں جو مدد کریں گے، شیخ رشید نے دیگر چھوڑنے والوں کی طرح عمران خان پر الزام لگایا کہ سربراہ تحریک انصاف ضدی سیاستدان ہیں اور کسی کی نہیں سنتے
سربراہ عوامی مسلم لیگ نے اپیل کی کہ جن کم ظرفوں نے یہ کام (9 مئی واقعات) کیا ہے فوج ان کو ایک بار معاف کردے تاکہ دوریاں ختم ہوسکیں، سیاستدانوں کو اس کام سے باہر آنا چاہئے، فوج کا مسئلہ فوج کو حل کرنا چاہئے، سیاستدانوں کو دور رہنا چاہئے۔شیخ رشید احمد نے کہا کہ میرے خلاف سوائے ٹویٹس کے کچھ بھی نہیں نکلا، 9 مئی کے واقعات کی ہر وقت مذمت کرنی چاہئے، 9 مئی واقعات میں بے گناہ اور جن سے غلطی ہوئی ان کی معافی کرواں گا۔
ان کا کہنا ہے کہ پی ڈی ایم سے سیاسی لڑائی لڑوں گا، چیئرمین پی ٹی آئی، شیریں مزاری، شہباز گل، زلفی بخاری نے بیانیہ بنایا اس کا ردعمل ہوا، کوئی شک نہیں 9 مئی کے واقعے کی منصوبہ بندی کی گئی۔سربراہ عوامی مسلم لیگ نے مزید کہا کہ میرا نہیں خیال پی ٹی آئی میری مخالف ہے، میں نے کچھ نہیں کیا مخالفت کرکے ایک سیٹ لے لیں تو کیا ہوگیا، 9 مئی ہمیں لڑ گیا، ہمارے خلاف سیاہ دن تھا۔
یاد رہے کہ شیخ رشید حکومت کے خاتمے کے بعد تسلسل سے یہ بیان دیتے رہے ہیں کہ کچھ بھی ہو جائے وہ عمران خان کو نہیں چھوڑیں گے ۔