شہباز شریف وزیراعظم ، آصف علی زرداری صدر ہوں گے،حکومت سازی کے اعلان کے بعد سٹاک ایکسچینج میں بھی تیزی

اسلام آباد(رپورٹ:محمدرضوان ملک )انتخابات کے 13 دن بعد بالآخر حکومت سازی کے حوالے سے پاکستان کی دوبڑی سیاسی جماعتوں پاکستان مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی کے درمیان حکومت سازی کے حوالے سے معاملات طے پاگئے ہیں ۔ دوسرے الفاظ میں یہ پی ڈی ایم حکومت کی واپسی کی ہی ایک شکل ہوگی اور اس بات کا امکان کم ہے کہ یہ حکومت زیادہ عرصے تک چل سکے۔تاہم حکومت کی تشکیل کے اعلان کے ساتھ ہی اسٹاک ایکسچینج میں تیزی دیکھی گئی ہے جو گھٹن کے ماحول میں ایک اچھی خبر ہے۔
گزشتہ روز مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہاکہ حکومت سازی کیلئے ہمارے نمبر پورے ہیں،ہم حکومت بنانے کی پوزیشن میں آگئے ہیں
انہوں نے کہا کہ سنی اتحاد کونسل کے پاس حکومت بنانے کے نمبر موجود نہیں تھے،پاکستان کو بحران سے نکالنے کیلئے حکومت بنارہے ہیں ،دعاہے یہ حکومت کامیاب ہو،اللہ ہمیں کامیاب کرے۔اس موقع پر آصف علی زرداری شہباز شریف ، قمر زمان کائرہ اور دیگر بھی موجود تھے۔
اس موقع پر صدر (ن) لیگ شہباز شریف کا کہنا تھا کہ خوشی ہے پیپلزپارٹی کیساتھ ملکر حکومت بنانے کی پوزیشن میں ہیں،آصف زرداری کو 5سال کیلئے صدر مملکت منتخب کرائیں گے،اتحادیوں کا شکرگزارہوں،پیپلزپارٹی اور (ن) لیگ کے پاس حکومت بنانے کیلئے نمبرز پورے ہوچکے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ صدر زرداری اور چیئرمین بلاول بھٹو کا شکریہ ادا کرتا ہوں،انہوں نے یہاں پریس کانفرنس کا انتظام کرایا،چند روز پہلے ہم نے اور پیپلز پارٹی کے زعما نے آزاد اراکین کو پیغام دیا،ان کو کہا کہ اگر وہ حکومت بنا سکتے ہیں تو بنائیں،ہم ان کو اس پر مبارکباد پیش کریں گے اور آئین کے مطابق اپوزیشن بنچوں پر بیٹھیں گے اور کاروبار زندگی چلائیں گے،مگر ان کے پاس مطلوبہ اکثریت نہیں ہے،انہوں نے سنی اتحاد کونسل اور ایم ڈبلیو ایم کے پاس مطلوبہ نمبرز موجود نہیں ہیں۔
دوسری طرف حکومت سازی پر اتفاق کے بعد اسٹاک ایکسچینج میں زبردست تیزی دیکھی گئی ہے۔ بینچ مارک کے ایس ای-100 انڈیکس 965 پوائنٹس بڑھ گیا۔
پی ایس ایکس ویب سائٹ کے مطابق صبح تقریبا 9 بج کر 49 منٹ پر کے ایس ای-100 انڈیکس 965 پوائنٹس یا 1.6 فیصد اضافے کے بعد 61 ہزار 429 تک جا پہنچا، جو گزشتہ روز 60 ہزار 464 پر بند ہوا تھا۔
یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے کے آخری کاروباری روز ملک میں عام انتخابات کے باوجود سیاسی بے یقینی کے سبب پاکستان اسٹاک ایکسچینج بینچ مارک کے ایس ای-100 انڈیکس 1147 پوائنٹس کمی کے بعد 59 ہزار 872 پر بند ہوا تھا۔
اکثیر ریسرچ کے ڈائریکٹر اویس اشرف نے بتایا تھا کہ وفاق میں کمزور اتحادی حکومت کی تشکیل کی توقع اور پاکستان تحریک انصاف و دیگر جماعتوں کی جانب سے احتجاج کی کال نے سولات اٹھائے ہیں کہ معاشی بحالی کے لیے ضروری سخت اصلاحات پر عملدرآمد کیسے ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ اسی طرح ریاستی ملکیتی کمپنیوں پر دبا برقرار ہے، اور اس کے نتیجے میں کے ایس ای-100 انڈیکس میں منفی رجحان دیکھا گیا جب کہ اس سے ایک روز قبل ایس ای-100 انڈیکس میں 1133 پوائنٹس کی کمی کے بعد انڈیکس 61 ہزار 20 پر بند ہوا تھا۔
14 فروری کو پاکستان مسلم لیگ(ن)، پیپلز پارٹی، مسلم لیگ(ق) اوردیگر اتحادی جماعتوں کی جانب سے مل کر حکومت بنانے کے اعلان کے بعد پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں زبردست تیزی کا رجحان تھا، اور بینچ مارک کے ایس ای-100 انڈیکس 926 پوائنٹس بڑھ گیا تھا۔13 فروری کو سیاسی بے یقینی کے سبب ٹریڈنگ کے آغاز پر پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کمی کا رجحان مثبت میں تبدیل ہو گیا تھا، اور بینچ مارک کے ایس ای-100 انڈیکس 161 پوائنٹس بڑھا تھا۔
قبل ازیں 12 فروری کو کاروباری ہفتے کے پہلے روز ابتدائی ٹریڈنگ کے دوران شدید مندی کا رجحان رہا تھا، بینچ مارک کے ایس ای-100 انڈیکس میں 1878 پوائنٹس کی کمی ہوئی تھی، ماہرین نے اس کی وجہ سیاسی بے یقینی کو قرار دیا تھا۔
ماہرین معیشت امید کر رہے ہیں کہ آنے والی حکومت کے مثبت اقدامات کے باعث سٹاک ایکسچینج اوپر جائے گی اور ملکی کی کمزور معاشی صورت حال میں بہتری آئے گی۔
۔۔۔۔۔۔



