سپریم کورٹ نے سابق جج شوکت عزیز صدیقی کی برطرفی کا نوٹی فکیشن کالعدم قرار دیدیا

عمر پوری ہو جانے کے باعث عہدے پر بحال نہیںکیا جاسکتا تاہم بطور ریٹائر جج پنشن اور دیگر تمام مراعات ملیں گی
سپریم کورٹ فیصلے سے اس وقت کی عدلیہ، حساس اداروں میں موجود افسران کی ہار ہوئی ہے ، شوکت عزیز صدیقی

اسلام آبا:سپریم کورٹ آف پاکستان نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے سابق جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی کی برطرفی نوٹی فکیشن کالعدم قرار دے دیا ہے۔چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کی سربراہی میں جسٹس امین الدین، جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس حسن اظہر رضوی اور جسٹس عرفان سعادت پر مشتمل 5 رکنی لارجر بینچ نے محفوظ شدہ فیصلہ جاری کر دیا۔سپریم کورٹ نے فیصلے میں کہا کہ شوکت عزیز صدیقی کی برطرفی کے خلاف اپیلیں منظور کی جاتی ہیں، شوکت عزیز صدیقی کو ریٹائرڈ جج کی تمام مراعات دی جائیں۔مزید کہا گیا کہ کیس تاخیر سے مقرر ہونے کی وجہ سے شوکت عزیز صدیقی کی عمر 62 سال پوری ہو چکی ہے، عمر پوری ہونے کی وجہ سے شوکت عزیز صدیقی کو عہدے پر بحال نہیں کیا جاسکتا۔سپریم کورٹ نے فیصلے میں کہا کہ شوکت صدیقی ہائی کورٹ سے ریٹائرڈ جج تصور ہوں گے۔
اس فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے جسٹس (ر) شوکت عزیز صدیقی نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ فیصلے سے اس وقت کی عدلیہ، حساس اداروں میں موجود افسران کی ہار ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہر بندے کے اندر اتنی ہمت نہیں ہوتی کہ وہ اک ادارے کی طاقت کے سامنے کھڑا ہو سکے۔
یاد رہے کہ 23 جنوری کو سپریم کورٹ نے سابق جج اسلام آباد ہائی کورٹ شوکت عزیز صدیقی کی برطرفی کے خلاف اپیل کا فیصلہ محفوظ کرلیا تھا، دورانِ سماعت چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے ریمارکس دیے تھے کہ محتاط چلنا ہوگا، کہیں اداروں کے درمیان قائم آئینی توازن خراب نہ ہو۔
اس کیس کا پس منظر کچھ یوں ہے کہ شوکت عزیز صدیقی نے سپریم جوڈیشل کونسل کی جانب سے اپنی برطرفی کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا ۔15 دسمبر 2023 کی سماعت میں سپریم کورٹ نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے سابق جج شوکت عزیز صدیقی کی اپنی برطرفی کے خلاف دائر درخواست پر سماعت کے دوران سابق ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) فیض حمید، بریگیڈیئر (ر) عرفان رامے، سابق چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ انور کاسی اور سابق رجسٹرار سپریم کورٹ ارباب عارف کو نوٹس جاری کردیا تھا۔
22 جنوری کو انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کے سابق ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ فیض حمید نے شوکت عزیز صدیقی برطرفی کیس میں سپریم کورٹ میں جواب جمع کرا دیا تھا۔سابق چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ انور کاسی نے بھی کیس کے متعلق جواب سپریم کورٹ میں جمع کروا دیا ہے، جسٹس (ر) انور کاسی نے بھی اپنے جواب میں شوکت عزیز صدیقی کے الزامات کو مسترد کر دیا۔اسی طرح بریگیڈیئر (ر) عرفان رامے کا جواب بھی سپریم کورٹ میں جمع ہوگیا اور انہوں نے بھی شوکت عزیز صدیقی کے الزامات اور ملاقات کی تردید کر دی۔
یاد رہے کہ شوکت عزیز صدیق کو 21 جولائی 2018 کو ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن راولپنڈی میں ایک تقریر کے لیے بطور جج نامناسب رویہ اختیار کرنے پر آئین کے آرٹیکل 209 کے تحت سپریم جوڈیشل کونسل کی سفارشات پر جوڈیشل آفس سے ہٹا دیا گیا تھا۔
بعد ازاں شوکت عزیز صدیقی نے معاملے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا تھا اور ایک درخواست دائر کی تھی، جس پر ابتدا میں رجسٹرار آفس کی جانب سے اعتراضات لگائے گئے تھے تاہم فروری 2019 میں سپریم کورٹ نے رجسٹرار کے اعتراضات ختم کرتے ہوئے درخواست سماعت کے لیے منظور کرلی تھی۔
جس کے بعد ان کی اپیل پر سماعت تاخیر کا شکار ہوئی تھی جس پر انہوں نے جسٹس پاکستان کو مختلف خطوط لکھے جن میں کیس کی سماعت جلد مقرر کرنے کی استدعا کی گئی تھی۔نومبر 2020 کے اختتام پر انہوں نے اس وقت کے چیف جسٹس پاکستان کے نام بھی ایک خط لکھا تھا جو بظاہر ان کا تیسرا ایسا خط تھا جس میں کیس کی جلد سماعت کی استدعا کی گئی تھی۔اس طرح کے ایک خط میں سابق جج نے لکھا تھا کہ ایک عام شہری/قانونی چارہ جوئی کرنے والے کے لیے موجود حقوق کا ان کے لیے انکار نہیں کیا جائے گا اور ان کے ساتھ شخصی نقطہ نظر کے ذریعے عدالتی دفتر کی جانب سے امتیازی سلوک نہیں کیا جائے گا۔
اس خط کا موضوع شوکت عزیز صدیقی بمقابلہ فیڈریشن آف پاکستان کے عنوان سے آئینی درخواست 2018/76 کے نمٹانے میں طویل تاخیر سے متعلق تھا۔خط میں اس بات پر بھی روشنی ڈالی گئی کہ وہ 11 اکتوبر 2018 سے دفتر سے نکالے گئے اور انہیں دوبارہ ملازمت بھی نہیں دی گئی۔ساتھ ہی انہوں نے لکھا تھا کہ یہ عالمی سطح پر قانون کا تسلیم شدہ اصول ہے کہ انصاف میں تاخیر انصاف سے انکار ہوتاہے۔سابق جج شوکت عزیز صدیقی نے لکھا کہ میرے کیس میں اس کی خاص مثال ملتی ہے جہاں بینچ کے واضح احکامات کے باوجود درخواست کو کبھی خود سے مقرر نہیں کیا گیا اور ہر مرتبہ میں نے تحریری درخواستوں کے ذریعے آپ (چیف جسٹس) تک رسائی حاصل کی۔
سپریم کورٹ کے اس فیصلے پر جسٹس (ر) شوکت عزیز صدیقی نے کہا کہ اس فیصلے سے اس وقت کی عدلیہ، حساس اداروں میں موجود افسران کی ہار ہوئی ہے۔شوکت عزیز صدیقی نے کہا کہ ہر بندے کے اندر اتنی ہمت نہیں ہوتی کہ وہ اک ادارے کی طاقت کے سامنے کھڑا ہو۔ انہوں نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے سے ایک خاص مقصد کے لیے فیصلہ کرنے والی اس وقت کی عدلیہ، حساس اداروں میں موجود افسران کی شکست ہوئی ہے۔
ڈان نیوز کے پروگرام ان فوکس میں اینکر پرسن نادیہ نقی کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے سابق جج نے کہا کہ فیصلے پر جج صاحبان، میڈیا اور اپنی قانونی کمیونٹی کا شکار گزار ہوں، میں سمجھتا ہوں کہ اللہ کے فضل سے یہ فیصلہ ہوا، فیصلے سے مطمئن ہوں۔ان کا کہنا تھا کہ اس فیصلے سے صرف ان لوگوں کی ہار نہیں ہوئی جو یہ سب کچھ مینیج کر رہے تھے، بلکہ اس وقت کی عدلیہ، حساس اداروں میں موجود گٹھ جوڑ کے ساتھ ایک خاص مقصد کے لیے یہ کام کرنے والے افسران کی بھی ہار ہوئی ہے۔شوکت عزیز صدیقی نے کہا کہ جن لوگوں نے ساری زندگی قانونی شعبے میں گزاری ہو اور انہیں بنیادی انصاف کے تقاضے بھی پتا نہ ہوں، انہوں نے مجھے انصاف سے محروم کیا، ان کے اپنے مقاصد تھے، فیصلے سے ان کی بھی شکست ہوئی ہے، اس وقت کی اعلی عدلیہ کی شخصیات یا چاہے وہ آرمی کی تھی، دونوں کی شکست ہوئی ہے۔
سابق جج اسلام آباد ہائی کورٹ نے کہا کہ میں نے 21 جولائی 2018 کو تقریر کی اور 22 جولائی کو اس وقت کے چیف جسٹس کو خط لکھا اور کہا کہ میرے الزامات پر آپ کا رد عمل آیا ہے، آپ ایسا کریں اس پر جوڈیشل کمیشن بنادیں۔ان کا کہنا تھا کہ میرا یہ مقف رہا کہ اگر میرے الزامات جھوٹے ہیں تو مجھے ڈی چوک میں پھانسی دے دیں اور اگر میرے الزامات سچے ہیں تو یہ تو بتایا جائے کہ ان یونیفارم میں موجود افسران کے بارے میں کم از کم یہ تو بتایا جائے کہ ان کے بارے میں کیا ہوگا جو یہ سب کچھ کر رہے تھے، لیکن اس طرف کوئی بھی نہیں گیا اور اس حوالے سے کوئی بھی اقدام نہیں کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ اگر حکومت چاہتی تو وہ بھی اس بارے میں کچھ کر سکتی تھی لیکن ظاہر ہے حقیقت سب کو پتا ہے، اس لیے کوئی بھی اس طرف جانا پسند نہیں کرتا۔
شوکت عزیز صدیقی نے کہا کہ موجودہ عدلیہ میں مداخلت، افسران اور عدلیہ کے گٹھ جوڑ کے معاملے میں کمی آئی ہے، عدلیہ اپنی آزادی کو اپنے فیصلوں کے ذریعے ظاہر بھی کر رہی ہے کہ عدلیہ کی آزادی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہے۔
سابق جج اسلام آباد ہائیکورٹ نے کہا کہ میں نے اس وقت جو الزامات لگائے، اس پر جو نتائج بھگتے، اس عرصے میں بہت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، مجھے اس پر کوئی افسوس نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ میں ان نتائج سے آگاہ تھا بلکہ اس سے بھی زیادہ میں تو سمجھ رہا تھا کہ میری جان کو بھی خطرہ ہوسکتا ہے لیکن مجھے کوئی پچھتاوا نہیں ہے، میں آج سرخرو ہوگیا ہوں، مجھے جتنی عزت ملی، وہ ایک ٹھیک فیصلہ ثابت ہوا۔شوکت عزیز صدیقی نے کہا کہ ہر بندے کے اندر اتنی ہمت نہیں ہوتی کہ وہ ایک ادارے کی طاقت کے سامنے کھڑاہو۔
ان کا کہنا تھا کہ اس کے علاوہ اپنی کمزوریاں بھی ہوتی ہیں، لوگوں کی کمپرومائزڈ قسم کی چیزیں لوگوں کی موجود ہوتی ہیں، اس کی وجہ سے ان کے اندر وہ اخلاقی ہمت نہیں ہوتی جو ایک باکردار شخص کے پاس ہوتی ہے، اس کے نتیجے میں وہ کمپرومائزڈ نظر آتے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔