9 مئی مقدمات ،عدالیہ ان ایکشن، پوری پی ٹی آئی قیادت شکنجے میں آگئی

دونوں ایوانوں کے قائد حزب اختلاف اور حامد رضا بھی سزا پانے والوں میں شامل
شبلی فراز، عمر ایوب، زرتاج گل،حامد رضا کو دس 10 سال قید کی سزا سنادی گئی ،فواد چودھری اور زین قریشی بری
انسداد دہشتگردی عدالت نے سابق صدر عارف علوی، وزیراعلی خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور سمیت پی ٹی آئی کے 50 رہنماں کے وارنٹ گرفتاری جاری کردیے

فیصل آباد/ اسلام آباد(نیوزرپورٹر)فیصل آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت نے جمعرات کو 9 مئی مقدمات کا فیصلہ سناتے ہوئے تحریک انصاف کے رہنمائوں اور کارکنوں سمیت 196 ملزمان کو سزائیں سنادی ہیں۔ انسداد دہشتگردی عدالت نے 9 مئی کے 3 مختلف مقدمات کا فیصلہ سناتے ہوئے قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف عمر ایوب اور سینٹ میں قائد حزب اختلاف شبلی فراز سمیت 196 ملزمان کو سزائیں سنا ئیں۔ عدالت نے پہلے 9 مئی کے 2 مقدمات کا فیصلہ سنایا جس میں 168 ملزمان کو 10، 10 سال کی سزائیں سنائیں۔ حساس ادارے پر حملہ کیس میں 185 میں سے 108ملزمان کو سزائیں سنائیں اور دیگر کو بری کر دیا گیا۔
عدالت نے تھانہ غلام محمد آباد میں درج 9 مئی کے مقدمے میں 67 ملزمان میں سے7 ملزمان کو بری کر دیا جب کہ 60 ملزمان کو سزائیں سنائیں۔ عمر ایوب، شبلی فراز اور زرتاج گل کو 10 سال قید کی سزا سنائی، رکن قومی اسمبلی صاحبزادہ حامد رضا کو بھی 10سال قید کی سزا سنائی گئی ہے جب کہ جنید افضل ساہی کو 3 سال قید کی سزا سنائی گئی ہے جو تمام افراد کی دی گئی سزاوں میں سب سے کم ہے۔عدالت نے خیال کاسترو، فواد چوہدری اور شاہ محمود قریشی کے صاحبزادے زین قریشی کو بری کر دیا۔
بعد ازاں انسداد دہشتگردی کی عدالت نے ایک اور کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے 32 میں سے 28 ملزمان کو 10،10 سال قید کی سزا سنائی اور 4 کو بری کردیا۔فیصل آباد کے تھانہ سول لائن میں درج مقدمے میں مجموعی طور پر 107 ملزمان نامزد تھے جن میں سے 32 کا ٹرائل ہوا، عدالت نے مقدمے میں نامزد فوادچوہدری، زین قریشی، خیال کاسترو اور عبداللہ دمڑ کو بری کیا۔
یا رہے کہ چند روز قبل بھی انسداد دہشتگردی عدالت نے پی ٹی آئی کے احمد چٹھہ، احمد خان بھچر، ڈاکٹر یاسمین راشد اور میاں محمود الرشید سمیت دیگر ملزمان کو 9 مئی کیس میں مجرم قرار دیتے ہوئے 10 سال کی سزا سنائی تھی۔
دوسری طرف پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے پارٹی رہنماں اور کارکنان کے خلاف حالیہ عدالتی فیصلے چیلنج کرنے کا اعلان کیا ہے۔اسلام آباد میں گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ ان فیصلوں سے جمہوریت ڈی ریل ہو جائیگی، چاہتے ہیں سسٹم چلے اور ایوان مضبوط ہو، ایوان میں واپس جانا ہے یا بائیکاٹ کرنا ہے اس کا فیصلہ بانی پی ٹی آئی کریں گے۔
انہوں نے کہا 3 دن میں تین سزائیں ہوئی اور 45 سال کی سزا سنائی گئی،بانی پی ٹی آئی پر پریشر کے لیے ان کی اہلیہ کو سزا سنائی گئی، قومی اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر زرتاج گل کو سزا سنائی گئی انہوں نے کہا ہم نے ان سب کے باوجود ریاست کے ساتھ چلنے کافیصلہ کیا۔
اسلام آباد میں آل پارٹیز کانفرنس سے خطاب میں بیرسٹرگوہر نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف آئندہ کا جمہوری اور عوامی لائحہ عمل بہت جلد دیگی، پی ٹی آئی ان تمام جمہوری الائنسزکا ساتھ دیگی جو آئین، قانون اور انصاف کی بات کریں گے، اپنے حق، اپنے لیڈر اور ظلم کے خلاف آواز اٹھانا ہر شہری کا جمہوری حق ہے،کسی جماعت کے کارکنوں نے اتنی قربانیاں نہیں دیں جتنی پی ٹی آئی کارکنوں نے دیں، کوئی سوچ بھی نہیں سکتا کہ پرامن ریلی پر گولیاں چلیں گی۔چیئرمین پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ سیاسی جماعتوں کوفیصلہ کرناہوگا کہ پاکستان کا مستقبل جمہوریت ہے یا نہیں،کچھ لوگ ملک سے جمہوریت ختم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، عدلیہ کی آزادی او ر ایماندار نظام کے لیے ہماری جدوجہد جاری رہے گی ۔ انہوں نے کہا پارلیمنٹ میں صرف وہ لوگ آنے چاہئیں جو عوامی حمایت سے منتخب ہوں۔
جمعرات ہی کو انسداد دہشتگردی عدالت نے سابق صدر عارف علوی، وزیراعلی خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور سمیت پی ٹی آئی کے 50 رہنماں کے وارنٹ گرفتاری جاری کردیے ہیں۔26 نومبر احتجاج کے سلسلے میں تھانہ کراچی کمپنی میں درج مقدمے کی سماعت کے بعد پی ٹی آئی کے 41 رہنماں کے وارنٹ گرفتار ی جاری کیے جب کہ 9 پی ٹی آئی رہنماں کے وارنٹ گرفتاری پہلے ہی جاری ہو چکے ہیں، اس طرح مجموعی طور پر 50 پی ٹی آئی رہنماں کے وارنٹ گرفتاری جاری ہو گئے ہیں۔ پی ٹی آئی رہنماں کے وارنٹ تھانہ کراچی کمپنی میں درج مقدمہ نمبر 1193 میں جاری کیے گئے، ان ملزمان میں عارف علوی، عبدالقیوم نیازی، شبلی فراز، فیصل جاوید، سلمان اکرم راجا، روف حسن، مراد سعید، احمد نیازی بھی شامل ہیں۔
علاوہ ازیں وزیراعلی کے پی کے علی امین گنڈاپور، اسد قیصر، حماد اظہر، عاطف خان ، شعیب شاہین، اعظم خان سواتی، عمر ایوب، صاحبزاہ حامد رضا، علیمہ خانم، شیخ وقاص اکرم، کنول شوزب، شاندانہ گلزار، شیرافضل مروت کے وارنٹ گرفتاری بھی جاری کیے گئے ہیں۔ انسداد دہشت گردی عدالت کے جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے ملزمان کے پیش نہ ہونے پر وارنٹ جاری جاری کیے۔ عدالت نے ملزمان کو فوری گرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔واضح رہے کہ راولپنڈی ڈویژن میں 24 اور 26 نومبر کے 32 مقدمات درج ہیں، جس میں بشری بی بی تھانہ ٹیکسلا میں 26 نومبر کانسٹیبل قتل کیس میں بھی نامزد ہیں۔