عطا الحق قاسمی کو پی ٹی وی چلانے کا کوئی انتظامی تجربہ نہیں تھا, نواز شریف کے حق میں مضامین لکھنے پر تعینات کیا گیا.چیف جسٹس

اسلام آباد(خصوصی رپور)سپریم کورٹ نے چیئرمین و ایم ڈی پی ٹی وی تقرری کیس کا فیصلہ محفوظ کر لیااور سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار اور سیکرٹری خزانہ کو 9 جولائی کو طلب کر لیا۔

تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں بنچ نے کیس کی سماعت کی،سابق وزیراطلاعات پرویز رشیدسپریم کورٹ میں پیش ہو گئے۔

چیف جسٹس پاکستان نے استفسار کرتے ہوئے کہا کہ بطوروزیراطلاعات پرویزرشید کے اختیارات لامحدودنہیں تھے، پرویزرشیدصاحب ! آپ کی اپنی کتنی تنخواہ تھی؟۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ ڈھائی تین لاکھ آپ کی اپنی تنخواہ تھی،یہاں مرسیڈیزگاڑیاں چلتی رہیں،ایساکون سا اختیارتھاجواتنی تنخوائیں دی گئیں؟۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ عطاالحق قاسمی ایک ہی وقت میں چیئرمین اورایم ڈی تھے۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ پرویزرشیدصاحب !آپ ہمارے لیڈرہیں،قوم کے پیسے کاادراک ہوناچاہئے،وہ خودکہتا ہے نوازشریف کے حق میں بڑے مضامین لکھے۔

پرویز رشید نے کہا کہ عطا الحق قاسمی کی تقرری ادارے کوبچانے کےلئے کی،تنخواہ کے معاملے پرتمام اداروں سے رہنمائی لی، سابق وزیر اطلاعات نے تنخواہ کی ذمہ داری فنانس ڈویژن پرڈالتے ہوئے کہا کہ فنانس ڈویژن چاہتا توتنخواہ روک سکتاتھا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ سربراہ کی خواہش پرتقرری سے ادارہ کیسے انکارکرسکتا ہے؟

قبل ازیں چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا ہے کہ عطا الحق قاسمی کو پی ٹی وی چلانے کا کوئی انتظامی تجربہ نہیں تھا، یہ بات بھی گردش کر رہی ہے کہ عطا الحق قاسمی کو نواز شریف کے حق میں مضامین لکھنے پر تعینات کیا گیا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ عطا الحق قاسمی کو ہی پی ٹی وی کیلئے پوری دنیا میں کیوں چنا گیا۔

پرویز رشید کے وکیل نے کہا کہ عطاالحق قاسمی کی طرز پر تنخواہوں کی ادائیگی کی ماضی میں بھی مثالیں ہیں۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ ہم ماضی کی مثالوں پر غیر قانونی اقدام کی اجازت نہیں دے سکتے۔ وکیل نے کہا کہ عطاالحق قاسمی کو بہت سے اعزازات سے نوازا گیا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ جب بھی ان کی حکومت آئی عطا الحق قاسمی کو نوازا گیا، ریکارڈ دیکھ لیں، عطا الحق قاسمی کو ہلال امتیاز کا اعزاز کس دور میں ملا، عطاالحق قاسمی کو تمغے کس دور میں ملے، دیکھ لیں، چیف جسٹس نے کہا کہ ہم عطا الحق قاسمی کی حد تک کیس کا فیصلہ محفوظ کریں گے، اسحاق ڈار اور سابق سیکرٹری خزانہ کا کیس کی سماعت 9 جولائی ہوگی۔ عدالت نے پرویز رشید کو طلب کر کے سماعت میں وقفہ کیا۔ وقفے کے بعد وکیل نے کہا کہ تنخواہ کی منظوری وزیراعظم نے دی جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ بتائیں وہ سمری کہاں ہے۔

وکیل نے کہا کہ قاسمی کی پندرہ لاکھ تنخواہ کی سمری فنانس ڈویژن کے ذریعے وزیراعظم کو گئی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ آپ درست کہہ رہے ہیں کہ سمری حتمی طور پر وزیراعظم نے منظور کی، پھر جتنی لاقانونیت ہوئی سب اس میں اپنا حصہ ڈالیں، چیف جسٹس نے کہا کہ عطا الحق قاسمی کا تقرر بطور ایم ڈی نہیں تھا تو پھر کیسے وہ ایم ڈی کے برابر مراعات اور تنخواہیں لے سکتے ہیں ، چیف جسٹس نے کہا کہ قاسمی کے پاس ایسا کیا معیار تھا کہ انکو تعینات کیا گیا،

جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ اس شخص کی تعیناتی کس کے کہنے پر ہوئی؟۔