
خیبرپختونخوا حکومت نے قبائلی اضلاع میں سول وسیشن کورٹ کے قیام کی منظوری دے دی ابتدائی مرحلے میں سول و سیشن کورٹ کے لئے آسامیوں پُر کی جائیں گی وزیر اعلی محمود خان نے سول و سیشن کورٹ کے قیام اور آسامیوں کی باقاعدہ منظور دے دی سول و سیشن کورٹ کے قیام پر سالانہ545 ملین روپے سے زائد لاگت آئے گی، وزیر اعلی محمود خا ن نے کہا ہے کہ ملک کے دیگر علاقوں کی طرح قبائلی عوام کو انصاف کی فراہمی ممکن بنانی ہے، قبائلی علاقوں میں تیزی کے ساتھ سستے انصاف کی فراہمی یقینی بنانی ہے، صوبے کے پانچ ڈویژن پشاور، ملاکنڈ کوہاٹ بنوں اور ڈی آئی خان شامل سات اضلاع کے لئے سول و سیشن کورٹ کی منظوری دے دی،جسمیں خیبر، مہمند، باجوڑ اورکزئی، کرم، شمالی و جنوبی وزیرستان شامل ہیں۔ انضمام کے نتیجے میں سات نئے ضم شدہ اضلاع کیلئے گریڈ 21 کے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کی تعداد سات ہو گی جبکہ گریڈ 20 کے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ سیشن جج کی تعداد مجموعی طور پر 14 ہو گی۔ اسی طرح سات اضلاع کے لئے گریڈ 19 کے سنیئر سول جج سات جبکہ گریڈ 18 کے سول جج کی تعداد 24ہو گی ان کے ساتھ ایکسلری سٹاف کی بھی منظوری دی گئی



