راتوں رات پٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں 55 روپے لیٹر اضافہ
پٹرول ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے سے مہنگائی کا نیا طوفان آئے گا
فیصلہ مجبوری میں کیا جیسے ہی صورت حال بہتر ہوگی قیمتیں فورا کم کر دیں گے ،حکومت
جنگ سے عالمی معیشت بری طرح متاثر ہوگی،پٹرول 150 ڈالر فی بیرل تک جاسکتا ہے، قطر
اسلام آباد(نیوزرپورٹر)امریکہ ایران جنگ کے اثرات پاکستان اور اس کی معیشت پر بھی پڑنا شروع ہو گئے ہیں پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتووں میں ہوش رہا اضافہ کر دیا گیا ہے ۔حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل 55 روپے فی لیٹر مہنگے کردیے گئے ہیں ۔ نائب وزیر اعظم ، وزیر خزانہ اور وزیر پیٹرولیم نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں می اضافے کا اعلان کیا۔
نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا عالمی سطح پر پٹرول کی قیمت میں اضافہ ہوا ہے، وزیراعظم نے میری سربراہی میں کمیٹی بنائی ہے ، پورے خطے میں جنگ کی صورتحال ہے،تمام اسٹیک ہولڈرزسے مل کر پٹرولیم قیمتوں پر غور کیا گیا،وزیراعظم کی قائم کردہ کمیٹی روزانہ کی بنیا د پر جائزہ لے رہی ہے،کوشش کی ہے کہ عالمی صورتحال کا اثر عوام پر کم سے کم ہو، جنگ کی صورتحال پر مختلف ممالک کے وزرائے خارجہ سے بات ہوئی ہے،فیلڈ مارشل عاصم منیر بھی دوسرے ممالک کے ہم منصوں سے رابطے میں ہیں،
ایران پر حملے کے بعد مشرق وسطی میں جنگ کی صورتحال ہے،اس صورتحال میں دنیا بھر میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے، مختلف پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 50 سے 70 فیصد اضافہ ہو چکا ہے، دیگر ممالک میں خودکار طریقے سے قیمتوں میں اضافہ ہو جاتا ہے، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک کی سربراہی میں قائم کمیٹی پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا مسلسل جائزہ لے رہی ہے ۔ہماری کوشش ہے کہ عوام پر کم سے کم بوجھ پڑے،اس وقت صورتحال میں کوئی ٹھہرائو نہیں آیا،مشرق وسطی اور خلیج ممالک کے ساتھ بھی رابطے رہے ہیں،ہماری کوشش ہے کہ جنگ کی صورتحال پر قابو پایا جائے، وزیراعظم شہباز شریف اپنے ہم منصبوں سے متعدد بار بات چیت کر چکے ہیں، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر آرمڈ فورسز کے حوالے سے دیگر ممالک کے ساتھ رابطے میں ہیں،اللہ تعالی ہمیں پوری امہ اور خطے کو اس گھمبیر صورتحال سے نکالے،وزیراعظم کی ہدایت پر عوام کے لئے زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ناجائز منافع خوری کا وزیراعظم نے سختی سے نوٹس لیا ہے۔
وفاقی وزیر خزانہ اورنگ زیب نے کہا پاکستان میں پٹرول کا وافر ذخیرہ موجود ہے،وزیراعظم محمد شہباز شریف کی ہدایت پر کمیٹی قائم کی گئی، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں روزانہ کی بنیادوں پر خطیر اضافہ ہو رہا ہے، توانائی اور پاکستان کی معیشت ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں،اللہ تعالی کا شکر ہے کہ ہم میکرو اسٹیبلٹی کے حوالے سے اچھی پوزیشن پر ہیں، ڈیمانڈ مینجمنٹ اور لوڈ مینجمنٹ کے حوالے سے وزیر پٹرولیم نے بہت کوششیں کی ہیں، وزیراعظم کی ہدایت پر اگلے دو دنوں میں چاروں صوبائی وزرائے اعلی اور چیف سیکریٹریز سے ملاقات کریں گے، تازہ ترین صورتحال کے حوالے سے ان سے خود بات کریں گے،
وزیر پیٹرولیم علی پرویز نے کہا وزیراعظم، نائب وزیراعظم اور وزیر خزانہ کا مشکور ہوں، اس مشکل مرحلے میں انہوں نے پٹرولیم ڈویژن کی رہنمائی کی، اس پر ان کا مشکور ہوں، آج ہم غیر معمولی حالات سے گذر رہے ہیں، جو آگ ہمسایہ ملک سے شروع ہوئی تھی، آج اس نے پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے، اس صورتحال کے دوران ہم نے چند ہفتوں میں اپنے ذخائر کو مناسب حد تک بڑھا دیا تھا، موجودہ صورتحال ختم ہونے کی کوئی تاریخ متعین نہیں،بحیثیت قوم ہمیں اس نظام کو ذمہ داری سے چلانے کی کوشش کرنی چاہئے،اس مقصد میں قیمت کا بنیادی کردار ہے، ہمارے پاس وافر ذخائر موجود تھے، اس کے مطابق ہم نے سپلائی کو منظم رکھا،۔چیف سیکریٹریز صاحبان کو بھی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اس ضمن میں قانون کو حرکت میں لائیں، ہمارے دو جہاز یمبو پورٹ اور فجیرہ پورٹ کی طرف رواں دواں ہیں، پاکستان کی توانائی کی ضرورت پورا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔ آرامکو نے بھی یمبو پورٹ سے بڑے جہاز کے ذریعے پٹرولیم مصنوعات کو ہمارے سمندروں میں لا کر کھڑا کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔انہوں نے کہا دنیا بھر میں توانائی کی قیمتوں میں بے پناہ بڑھاوا سامنے آ رہا ہے۔ یکم مارچ کو پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر ہم نے نظرثانی کی اس وقت پٹرول کی قیمت 78 ڈالر فی بیرل تھی، ڈیزل کی قیمت یکم مارچ کو 88 ڈالر فی بیرل تھی۔ آج ان کی قیمتوں میں خاطر خواہ اضافہ ہو چکا ہے۔ اس لئے قیمتیں بڑھانے پر مجبور ہیں۔ وزیر پٹرولیم نے کہا آج 6 مارچ کو پٹرول کی قیمت 106 ڈالر 80 سینٹ اور ڈیزل کی قیمت تقریبا 150 ڈالر فی بیرل تک پہنچ چکی ہے۔ مجبورا ہمیں قیمتوں میں اضافے کا مشکل فیصلہ کرنا پڑ رہا ہے، پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 55 روپے فی لیٹر اضافہ کیا جا رہا ہے، جیسے ہی صورتحال بہتر ہوگی، قیمتوں کو واپس اپنی سطح پر لائیں گے۔ ایندھن کی فراہمی کو یقینی بنانے کی بھرپور کوشش کریں گے۔
دوسری طرف قطر نے کہا ہے کہ جنگ سے عالمی معیشت بری طرح متاثر ہور ہی ہے۔ اگر یہی صورت حال رہی تو پٹرول کی قیمت 150 ڈالر فی بیرل تک جاسکتی ہے۔
پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ممکنہ اضافے کے خدشے کے پیش نظر جمعہ کو شہر میں پٹرول ڈالوانے والوں کی رش دیکھی گئی اور لوگ قطاروں میں لگ پر پٹرول ڈلواتے رہے۔



