اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو مزید گہرا نہ کریں متحدہ عرب امارات کو بھی وارننگ
تہران /اسلام آباد(نیوزرپورٹر) ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے ایران پر حملے کے لئے امریکہ کو اپنے اڈے نہ دینے پر پاکستان ، عراق اور افغانستان کا شکریہ ادا کیا ہے۔ دوسری طرف ایران نے متحدہ عرب امارات کو بھی وارننگ دی ہے کہ وہ اسرائیل سے اپنے تعلقات کو مزید گہرا نہ کرے۔
ایران کے دورے پر موجود پاکستانی وزیر داخلہ محسن نقوی کی تہران میں ایران کے صدر مسعود پزیشکیان سے ملاقات ہوئی جس میں گفتگو کرتے ہوئے صدر پزیشکیان نے ایران پر حملوں کے لیے اپنی سرزمین استعمال کرنے کی اجازت نہ دینے پر پاکستان عراق اور افغانستان کی حکومتوں کا شکریہ ادا کیا ہے۔ محسن نقوی نے اس موقع پر کہا ہے کہ اسلام اباد مذاکرات میں ایرانی مفادات کے تحفظ اور مسائل کے حل کے لئے کوششوں کے بعد اب ایران اور پاکستان کے عوام مزید قریب ہو گئے ہیں۔
دوسری طرف ایران نے متحدہ عرب امارات کو اسرائیل کے ساتھ گہرے تعلقات سے خبردار کیا ہے۔ قطری میڈیا کے مطابق ایرانی سپریم لیڈر کے ملٹری سیکرٹری محسن رضائی نے متحدہ عرب امارات کو اسرائیل کے ساتھ تعلقات مزید گہرے کرنے کے حوالے سے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ تہران نے ابوظہبی کے ساتھ دوستی کے دروازے بند نہیں کیے لیکن انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ ایران کے صبر کی حد ہے ۔محسن رضائی نے کہا کہ ایران متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان تعلقات سے آگاہ ہے ، اسے اسرائیل کی سازشوں میں نہیں الجھنا چاہیے ۔
رپورٹس کے مطابق اسرائیل اور امریکا کی ایران کے خلاف جنگ کے دوران یو اے ای ایران کے شدید حملوں کی زد میں رہا، جبکہ حالیہ اطلاعات سے یہ بھی اشارہ ملتا ہے کہ یو اے ای نے ممکنہ طور پر جوابی کارروائیاں بھی کیں۔
اس سے قبل ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے متحدہ عرب امارات کو ایران مخالف کارروائیوں میں براہِ راست ملوث قرار دیا تھا۔ایرانی وزیرخارجہ نے برکس سے خطاب کرتے ہوئےکہا کہ یکجہتی کی خاطر متحدہ عرب امارات کا نام نہیں لیا، جب ایران پر حملے شروع ہوئے تو متحدہ عرب امارات نے مذمت تک نہیں کی، ایران سے متعلق متحدہ عرب امارات اپنی پالیسی پر نظرِثانی کرے۔
یاد رہےکہ گزشتہ دنوں اسرائیلی وزیر اعظم کے دفتر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے ایران جنگ کے دوران متحدہ عرب امارات کا خفیہ دورہ کیا اور اماراتی صدر سے ملاقات کی تاہم یو اے ای نے ایران جنگ کے دوران اسرائیلی وزیراعظم کے دورہ امارات کی تر دید کی۔
دوسری طرف ایرانی صدر
مسعود پزشکیان نے ایک بیان میں کہا کہ اسلامی ممالک کو مذہبی، ثقافتی اور تزویراتی مشترکات پر اتحاد کی طرف بڑھنا چاہیے، امریکا اور صیہونی حکومت (اسرائیل) نے ہمیشہ تفرقہ انگیز منصوبوں سے بداعتمادی پیدا کرنے کی کوشش کی، اسلامی ممالک اتحاد و اتفاق کی طرف بڑھیں۔ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ اسلامی امت میں ہم آہنگی جتنی مضبوط ہوگی غیر علاقائی طاقتوں کی مداخلت اتنی ہی کم ہوگی، امت کے اتحاد سے صیہونی حکومت کیلیے خطے میں جارحیت کا امکان انتہائی کم ہو جائے گا۔انہوں نے کہا ’ایران خطے کے اسلامی ممالک کے ساتھ خوشگوار اور مستحکم تعلقات کا خواہاں ہے۔ تہران تمام اسلامی ممالک کے ساتھ اچھے ہمسائیگی تعلقات قائم رکھنا چاہتا ہے۔ دشمن نے ہمیشہ تفرقہ انگیز منصوبوں سے اسلامی ممالک کو ایک دوسرے کے خلاف کھڑا کیا۔‘


