مولانا نے میلہ سجا لیا،ساری اپوزیشن ایک چھت تلے

اپوزیشن کے کردار کو موثر بنانے کے لئے تمام اپوزیشن کا پارلیمنٹ میں مشترکہ کردار ادا کرنے کا اعلان
دو صوبے حالت جنگ میں‌ہیں‌امن کے لئے ماضی میں بھی کئی آپریشنز ہو چکے لیکن نتیجہ صفر ہے، مولانا فضل الرحمان
آئیں پاکستان کو بچائیں، آئین و قانون پر عمل کریں۔ پارلیمان کو ہر معاملے پر اعتماد میں لیا جائے۔ محمود خان اچکزئی
آپ خود تسلیم کر چکے ہیں‌کہ سسٹم کولیپس کرچکا ، اب آپ کو ہم پر مزید حکمرانی کا کوئی حق نہیں ہہے. راجہ ناصر عباس
ابتدائی طور پر پارلیمان کے اندر اکٹھے ہورہے ہیں، اگلا مرحلہ ملک کی سڑکوں پر اپوزیشن کا اتحاد ہوگا۔ سلمان اکرم راجہ

اسلام آباد( نیوزرپورٹر) جے یو آئی ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے ساری اپوزیشن کو ایک چھت تلے جمع کر کے حکومت کے لئے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے. متحدہ اپوزیشن کے قائدین مولانا فضل الرحمان، محمود خان اچکزئی، سلمان اکرم راجہ اور علامہ راجہ ناصر عباس نے پارلیمنٹ کے اندر متحدہ اپوزیشن کے طور پر کردار ادا کرنے کا اعلان کردیا ہے. اس بات کا اعلان اپوزیشن قائدین کی جانب سے مولانا فضل الرحمان کی رہائش گاہ پر ایک مشترکہ اجلاس کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا.
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ قومی اسمبلی و سینیٹ اپوزیشن لیڈران تشریف لائے ہیں، ہم نے ایک اصول طے کیا ہے کہ پارلیمان میں متحدہ اپوزیشن ہوگی، اپوزیشن کے کردار کو موثر بنانا چاہتے ہیں۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ دو صوبوں میں جس طرح کی حالت جنگ ہے وہ سب کے سامنے ہے، ہر شخص اپنے آپ کو غیر محفوظ سمجھتا ہے۔ حکومت کی طرف سے طفل تسلیاں دی گئی ہیں، عملاً کچھ نہیں کیا گیا، کتنے ہی آپریشن ہوئے مگر کوئی کامیابی نہیں ملی، آپریشنز کا نتیجہ صفر ہے۔انہوں نے کہا کہ معیشت پر برا اثر پڑ رہا ہے، کاروباری طبقے پر بہت بڑا اثر پڑ رہا ہے، مغربی سرحد بند، مشرقی سرحد بند ہے، چین ناراض ہے۔ غلط پالیسیوں نے پاکستان کو محصور پاکستان بنا دیا ہے، اس صورتحال پر کب تک خاموش رہیں گے۔مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ سرکاری بیانیہ بالکل غلط ہے، صوبوں کی باتیں کس طرح کی جارہی ہیں، بغیر کسی تیاری کے صوبوں کی باتیں کی جارہی ہیں، کوئی مثبت بات سننے کو بھی تیار نہیں۔مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ پارلیمنٹ کے اندر مشترکہ اپوزیشن کا کردار ادا کریں گے، ابھی پہلا قدم ہے، ہمیں چلنے دیں، پیپلزپارٹی پلڑا تبدیل کرے پھر بات بھی ہوسکتی ہے۔
محمود خان اچکزئی نے کہا کہ پارلیمنٹ طاقت کا سرچشمہ ہے، پارلیمنٹ کو درمیان سے اکھاڑا جارہا ہے، پکڑ دھکڑ کا طریقہ نہیں چلے گا۔ ہم اپنی افواج سے محبت کرتے ہیں، تمام سیاسی لیڈروں سے پاکستان بڑا ہے۔محمود خان اچکزئی نے کہا کہ پاکستان کی بنیادوں کو ہلایا جارہا ہے، ہمارے وسائل پر قبضہ نہ کریں، جہاں معدنی وسائل ہوں وہاں مقامی لوگوں کو حصہ دیا جائے۔ ہر جگہ معدنی وسائل کے نام پر لوگوں کو بھگایا جارہا ہے۔انہوں نے کہا کہ آئین کی حکمرانی قائم کریں، بندوق کے زور پر کچھ نہیں ہوگا، آئیں پاکستان کو بچائیں، آئین و قانون پر عمل کریں۔ پارلیمان کو ہر معاملے پر اعتماد میں لیا جائے۔محمود خان اچکزئی نے کہا کہ پاکستان میں الٹی گنگا بہہ رہی ہے، پاکستان کو بچانا عوام کا کام ہے، پانچواں بجٹ پیش کیا گیا، پارلیمنٹ طاقت کا سرچشمہ ہے، پارلیمان کو اکھاڑا جارہا ہے۔انہوں نے کہا کہ کہا جارہا ہے ہماری حمایت کرو، باقی جو کرنا ہے آپ فری ہیں، پاکستان سے بڑھ کر کوئی نہیں، جو پاکستان کو برباد کرے گا کسی کو نہیں چھوڑیں گے۔
اسد قیصر نے کہا کہ جتنے بھی قیدی ہیں سب کی رہائی کا ہم مطالبہ کرتے ہیں، سپریم کورٹ کی توہین کی گئی ہے، اس ملک میں جنگل کا قانون بن گیا ہے۔ یہ ملک فرد واحد کا نہیں، سب پاکستانیوں کا ہے۔
علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا کہ کوئی بھی ملک قانون کے بغیر چلے تو اسے جنگل کہا جاتا ہے، آج سپریم کورٹ کی توہین کی گئی ہے، ان کی نگاہوں میں سپریم کورٹ کے آرڈر کی کیا حیثیت ہے؟ کہیں سے تو اٹھ کر ان کی راہیں روکنی ہوں گی۔انہوں نے کہا کہ ہم کیا بلوچستان کے بچوں کو گولیاں مار کر اپنے ساتھ رکھ سکتے ہیں، کشمیری پاکستان کا پرچم اٹھاتے تھے، آج ہم نے ان کو بیگانہ کردیا، یہ پاکستان کو نقصان ہے۔ خیبرپختونخوا میں بدامنی کو پھیلایا جارہا ہے، یہ خود تسلیم کررہے ہیں کہ یہ سسٹم کولیپس کرچکا ہے، اب آپ کو کوئی حق نہیں ہم پر حکمرانی کا۔
سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ مولانا نے اہم ترین قدم اٹھایا ہے، ملکی حالات تقاضا کرتے ہیں کہ اپوزیشن مل کر چلے، جبر سے صوبے نہیں بنائے جائیں گے، سب کو لے کر فیصلے کرو۔سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ آج ہر طرف گولیاں چلائی جارہی ہیں، ملک کی جڑوں میں بارود بھرا جارہا ہے، پارلیمان کے اندر اکٹھے ہورہے ہیں، اگلا مرحلہ ملک کی سڑکوں پر اپوزیشن اتحاد ہوگا۔
اسد قیصر نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی اس وقت مشکل میں ہیں، صوبوں میں امن و امان کی صورتحال قائم کرنا چاہئے، ہم چاہتے ہیں کہ نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ صوبوں کے حوالے سے جو بھی بات ہوگی، مشترکہ موقف اپنائیں گے، پیروالے دن مشترکہ پارلیمانی پارٹی کی میٹنگ ہوگی۔