دورے کا اصل مقصد اپنا اثر ورسوخ استعمال کرتے ہوئے ایران کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانا تھا
ایران سے مذاکرات میں اہم پیشرفت ہوئی ہے جس سے دیرپا امن کی راہ ہموار ہونے کی امید ہے،وزیر داخلہ محسن نقوی
اسلام آباد:رائٹرز نیوز ایجنسی نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ نے دورہ تہران سے قبل فیلڈ مارشل عاصم منیر کو فون کیا تھا اور ان سے درخواست کی تھی کہ وہ ایران کو مذاکرات کی میز پر لانے کیلئے اثر و رسوخ استعمال کریں.
غیر ملکی خبررساں ایجنسی رائٹرز نے ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے پاکستان کے آرمی چیف اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ٹیلی فونک گفتگو کی تھی۔رائٹرز کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکا کی جانب سے بنیادی طور پر یہ درخواست کی گئی تھی کہ پاکستان اپنا اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے ایران کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لائے۔
خبررساں ایجنسی کا کہنا ہے کہ 2 پاکستانی ذرائع کے مطابق گزشتہ ہفتے ہونے والا یہ رابطہ صدر ٹرمپ کی جانب سے کیا گیا تھا۔
رائٹرز کے مطابق وائٹ ہاؤس کے پریس سیکرٹری کے دفتر نے اس خبر پر تبصرہ کرنے کی درخواست کا فوری طور پر کوئی جواب نہیں دیا اور فی الحال یہ واضح نہیں ہو سکا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر اور صدر ٹرمپ کے درمیان کن امور پر بات چیت ہوئی۔
یا د رہےکہ فیلڈ مارش عاصم منیر نے گزشتہ روز ایران کے دارالحکومت تہران کا انتہائی اہم دورہ کیا تھا اور اعلیٰایرانی قیادت سے ملاقاتیں کی تھیں. تہران میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی سے ملاقات بھی ہوئی، ملاقات میں وزیر داخلہ محسن نقوی بھی شریک تھے۔آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر علاقائی امن و استحکام کے فروغ کے لیے پاکستان کی کوششوں کے سلسلے میں ایران پہنچے ہیں۔
وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی جو اس دورے میںفیلڈ مارشل کے ساتھ تھے ان کا کہنا ہے کہ ایران سے مذاکرات میں اہم پیشرفت ہوئی ہے جس سے دیرپا امن کی راہ ہموار ہونے کی امید ہے۔ایک بیان میں محسن نقوی نے کہا کہ ایران میں ہونے والی ملاقات میں اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کی بحالی اور تنازع کے جامع حل کے لیے اقدامات پر غور کیا گیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر اور میری ایرانی صدر سے انتہائی مثبت اور نتیجہ خیز ملاقات ہوئی جس میں ایران، امریکا تنازع اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر تفصیلی بات چیت ہوئی۔
انہوںنے کہا ملاقات انتہائی مثبت ماحول میں اختتام پذیر ہوئی جس دوران ایرانی صدر نے اپنی حکومت کا مؤقف اور تحفظات کھل کر بیان کیے۔




